Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1563
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.2K Views
ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح منعقد ہونے کی کیا صورت ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح منعقد ہونے کی کیا صورت ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح منعقد ہونے کی کیا صورت ہے ؟
سوال : کیا ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح ہوسکتا ہے یانہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں ؟ المستفتی مظفر حسین یوپی۔ الجواب-بعون الملک الوھاب ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح نہیں ہوسکتا جبکہ ایک جگہ سے ایجاب ہو اور اس منظر کو ویڈیو میں دیکھ کر دوسری جگہ قبول کیا جائے کہ یہ صورت نکاح بذریعہ خطاب کی ہے اور اس کے جملہ شرائط میں سے دو شرطیں اس میں نہیں پائی جارہی ہیں ۔ (١) اس صورت میں ایجاب و قبول دو الگ الگ مجلسوں میں ہوتا ہے حالانکہ نکاح بذریعہ خطاب کے لئے ایجاب وقبول کا ایک ہی مجلس میں ہونا شرط ہے ۔ علامہ علاوالدین حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :” من شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس ” اھ ( الدر المختار مع رد المحتار جلد4 صفحہ 76 مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ) فتح القدیر اور رد المحتار میں ہے :” ولو عقدا وھما یمشیان او یسیران علی الدابة لایجوز” اھ ( فتح القدیر جلد3 صفحہ184 کتاب النکاح ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان / رد المحتار علی الدر المختار ، جلد4 صفحہ 76 کتاب النکاح ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: ” اور کوئی ایجاب، مجلس سے باہر قبول پر موقوف نہیں رہ سکتا۔ کما نصوا علیہ فی عامۃ الکتب وفی النھر والدر من شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد 11 صفحہ 164 کتاب النکاح ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) (٢) اس صورت میں گواہ ایجاب و قبول کرنے والوں میں سے ہر ایک کو نہیں دیکھتے بلکہ صرف ایک کو دیکھتے ہیں اور ویڈیو میں دوسرے کی تصویر دیکھتے ہیں مثلاً ایجاب کی مجلس کے گواہ ایجاب کرنے والے کو تو دیکھتے ہیں لیکن قبول کرنے والے کو نہیں دیکھتے بلکہ ویڈیو میں اس کی تصویر دیکھتے ہیں ایسے ہی قبول کی مجلس کے گواہ بھی۔۔۔ اور یہاں گواہی کے لئے ضروری ہے کہ گواہ ایجاب و قبول کو سنیں اور ساتھ ہی ایجاب و قبول کرنے والوں کو دیکھیں بھی۔ بہار شریعت میں ہے : ” مجلس نکاح میں یہ حاضر ہے الفاظ ایجاب وقبول اپنے کان سے سنے اور دونوں کو بوقت سننے کے دیکھ رہا ہے یہ نکاح کا گواہ ہے ” اھ ( حصہ 12 صفحہ 936/937 گواہی کابیان , مکتبۃ المدینۃ کراچی ) اسی میں ہے: ” جس کی بات اس نے سنی وہ پردے میں ہے آواز سنتا ہے مگر اسے دیکھتا نہیں ہے اس کے متعلق اس کی گواہی درست نہیں اگرچہ آواز سے معلوم ہورہاہے کہ یہ فلاں کی آواز ہے ” اھ ( بہار شریعت حصہ 12 صفحہ 937 گواہی کابیان , مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ کراچی ) البتہ ویڈیو کالنگ سے نکاح صحیح ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ (١) بذریعہ ویڈیو کالنگ یا ٹیلی فون کسی کو نکاح کا وکیل بنا دیا جائے اور وہ وکیل شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کردے مثلا زید نے بکر کو وکیل بنایا کہ میرا نکاح ہندہ سے کردو بکر نے شرعی گواہوں کی موجودگی میں ہندہ سے اس کا نکاح کر دیا نکاح صحیح و نافذ ہوگیا۔ فتاوي تاتارخانیہ وغیرہ کتب فقہ میں ہے : ” يصح التوكيل بالنكاح وان لم يحضره الشهود ” اھ ( الفتاوی التاتارخانیہ جلد2 صفحہ 319 ، کتاب النکاح، الفصل السادس عشر فی الوکالۃ بالنکاح مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) (٢) زید ہندہ کو یا ہندہ زید کو بذریعے ویڈیو کالنگ یا ٹیلی فون وکیل بنا دے کہ وہ اس کا نکاح خود سے کرلے اب وہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلے تو نکاح ہوجائے گا مثلاً ہندہ نے اپنا نکاح زید کے ساتھ کرنے کے لئے اس کو وکیل بنایا اب زید دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں یہ کہے کہ ہندہ نے اپنا نکاح میرے ساتھ کرنے کے لئے مجھے وکیل بنایا ہے اور میں نے اپنا نکاح ہندہ سے کردیا تو نکاح ہوگیا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” امرأة وكلت رجلاً بان يزوجها من نفسه فقال زوجت فلانة من نفسي يجوز و ان لم يقل قبلت كذا في الخلاصة ” اھ ( جلد1 صفحہ 295 کتاب النکاح ، الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا ) حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” مرد نے عورت کو وکیل کیا کہ تو اپنے ساتھ میرا نکاح کر دے یا عورت نے مرد کو وکیل کیا کہ میرا نکاح اپنے ساتھ کر لے اس نے کہا میں نے فلاں مرد ( وکیل کا نام لے کر ) یا فلانی عورت ( مؤکلہ کا نام لے کر ) سے اپنا نکاح کیا ، ہوگیا قبول کی بھی حاجت نہیں ” اھ ( بہار شریعت حصہ 7 صفحہ 57 نکاح کی وکالت کابیان ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح منعقد ہونے کی کیا صورت ہے ؟</h2> سوال : کیا ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح ہوسکتا ہے یانہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں ؟ المستفتی مظفر حسین یوپی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب-بعون الملک الوھاب</strong></span> ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح نہیں ہوسکتا جبکہ ایک جگہ سے ایجاب ہو اور اس منظر کو ویڈیو میں دیکھ کر دوسری جگہ قبول کیا جائے کہ یہ صورت نکاح بذریعہ خطاب کی ہے اور اس کے جملہ شرائط میں سے دو شرطیں اس میں نہیں پائی جارہی ہیں ۔ (١) اس صورت میں ایجاب و قبول دو الگ الگ مجلسوں میں ہوتا ہے حالانکہ نکاح بذریعہ خطاب کے لئے ایجاب وقبول کا ایک ہی مجلس میں ہونا شرط ہے ۔ علامہ علاوالدین حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں :" من شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس " اھ ( الدر المختار مع رد المحتار جلد4 صفحہ 76 مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ) فتح القدیر اور رد المحتار میں ہے :" ولو عقدا وھما یمشیان او یسیران علی الدابة لایجوز” اھ ( فتح القدیر جلد3 صفحہ184 کتاب النکاح ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان / رد المحتار علی الدر المختار ، جلد4 صفحہ 76 کتاب النکاح ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: " اور کوئی ایجاب، مجلس سے باہر قبول پر موقوف نہیں رہ سکتا۔ کما نصوا علیہ فی عامۃ الکتب وفی النھر والدر من شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس " اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد 11 صفحہ 164 کتاب النکاح ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) (٢) اس صورت میں گواہ ایجاب و قبول کرنے والوں میں سے ہر ایک کو نہیں دیکھتے بلکہ صرف ایک کو دیکھتے ہیں اور ویڈیو میں دوسرے کی تصویر دیکھتے ہیں مثلاً ایجاب کی مجلس کے گواہ ایجاب کرنے والے کو تو دیکھتے ہیں لیکن قبول کرنے والے کو نہیں دیکھتے بلکہ ویڈیو میں اس کی تصویر دیکھتے ہیں ایسے ہی قبول کی مجلس کے گواہ بھی۔۔۔ اور یہاں گواہی کے لئے ضروری ہے کہ گواہ ایجاب و قبول کو سنیں اور ساتھ ہی ایجاب و قبول کرنے والوں کو دیکھیں بھی۔ بہار شریعت میں ہے : " مجلس نکاح میں یہ حاضر ہے الفاظ ایجاب وقبول اپنے کان سے سنے اور دونوں کو بوقت سننے کے دیکھ رہا ہے یہ نکاح کا گواہ ہے " اھ ( حصہ 12 صفحہ 936/937 گواہی کابیان , مکتبۃ المدینۃ کراچی ) اسی میں ہے: " جس کی بات اس نے سنی وہ پردے میں ہے آواز سنتا ہے مگر اسے دیکھتا نہیں ہے اس کے متعلق اس کی گواہی درست نہیں اگرچہ آواز سے معلوم ہورہاہے کہ یہ فلاں کی آواز ہے " اھ ( بہار شریعت حصہ 12 صفحہ 937 گواہی کابیان , مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ کراچی ) البتہ ویڈیو کالنگ سے نکاح صحیح ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ (١) بذریعہ ویڈیو کالنگ یا ٹیلی فون کسی کو نکاح کا وکیل بنا دیا جائے اور وہ وکیل شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کردے مثلا زید نے بکر کو وکیل بنایا کہ میرا نکاح ہندہ سے کردو بکر نے شرعی گواہوں کی موجودگی میں ہندہ سے اس کا نکاح کر دیا نکاح صحیح و نافذ ہوگیا۔ فتاوي تاتارخانیہ وغیرہ کتب فقہ میں ہے : " يصح التوكيل بالنكاح وان لم يحضره الشهود " اھ ( الفتاوی التاتارخانیہ جلد2 صفحہ 319 ، کتاب النکاح، الفصل السادس عشر فی الوکالۃ بالنکاح مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) (٢) زید ہندہ کو یا ہندہ زید کو بذریعے ویڈیو کالنگ یا ٹیلی فون وکیل بنا دے کہ وہ اس کا نکاح خود سے کرلے اب وہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلے تو نکاح ہوجائے گا مثلاً ہندہ نے اپنا نکاح زید کے ساتھ کرنے کے لئے اس کو وکیل بنایا اب زید دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں یہ کہے کہ ہندہ نے اپنا نکاح میرے ساتھ کرنے کے لئے مجھے وکیل بنایا ہے اور میں نے اپنا نکاح ہندہ سے کردیا تو نکاح ہوگیا۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: " امرأة وكلت رجلاً بان يزوجها من نفسه فقال زوجت فلانة من نفسي يجوز و ان لم يقل قبلت كذا في الخلاصة " اھ ( جلد1 صفحہ 295 کتاب النکاح ، الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وغیرھا ) حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: " مرد نے عورت کو وکیل کیا کہ تو اپنے ساتھ میرا نکاح کر دے یا عورت نے مرد کو وکیل کیا کہ میرا نکاح اپنے ساتھ کر لے اس نے کہا میں نے فلاں مرد ( وکیل کا نام لے کر ) یا فلانی عورت ( مؤکلہ کا نام لے کر ) سے اپنا نکاح کیا ، ہوگیا قبول کی بھی حاجت نہیں " اھ ( بہار شریعت حصہ 7 صفحہ 57 نکاح کی وکالت کابیان ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا ۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...