Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1695
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.8K Views
ٹیوب ویل کے پانی میں مرے جانور کی بدبو ہو تو کیا حکم ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ٹیوب ویل کے پانی میں مرے جانور کی بدبو ہو تو کیا حکم ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ٹیوب ویل کے پانی میں مرے جانور کی بدبو ہو تو کیا حکم ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ایس مسئلہ کے بارے میں: ہمارے ایک ٹیوب ویل کے اندر بکری کا بچہ گر گیا ہے اور کافی دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ پانی میں بدبو آرہی ہے اور وہ سڑ گل گیا ہے اب اس کا باہر نکالنا ممکن نہیں ہے تو اس صورت میں پانی پاک کیسے ہوگا؟ جواب عنایت فرمائیں برائے مہربانی جلدی سے جواب عطا فرمائیں ۔ سائل: عثمان قادری باڑمیر راجستھان الجواب اگر یقین یا ظن غالب ہے کہ پانی کی یہ بدبو اسی مرے ہوئے بکری کے بچہ کی وجہ سے ہے تو اس ٹیوب ویل کا پانی ٹھہرتے ہی یا ہاتھ یا برتن میں لیتےہی نجس ہوجائےگا۔اور جب تک وہ کسی تدبیر سے نکال نہ دیا جائے اس ٹیوب ویل کے پانی سے وضو غسل کرنا یا پینا یا کپڑا دھونا درست نہ ہوگا۔ ہاں! جب اس کے اجزاء ریزہ ریزہ ہوکر نکل جائیں کہ نہ تو پانی میں اس کے اجزاء نظر آئیں اور نہ ہی اس کی بد بو باقی رہ جائے تو اب ٹیوب ویل کا پانی پاک ہوگا۔فتاوی عالم گیری میں ہے ۔ “وَإِذَا أُلْقِيَ فِي الْمَاءِ الْجَارِي شَيْءٌ نَجَسٌ كَالْجِيفَةِ وَالْخَمْرِ لَا يَتَنَجَّسُ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ لَوْنُهُ أَوْ طَعْمُهُ أَوْ رِيحُهُ، كَذَا فِي مُنْيَةِ الْمُصَلِّي۔” (فتاوی عالم گیری ج١ ص١٧) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٩/اپریل ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>ٹیوب ویل کے پانی میں مرے جانور کی بدبو ہو تو کیا حکم ہے؟</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ایس مسئلہ کے بارے میں: ہمارے ایک ٹیوب ویل کے اندر بکری کا بچہ گر گیا ہے اور کافی دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ پانی میں بدبو آرہی ہے اور وہ سڑ گل گیا ہے اب اس کا باہر نکالنا ممکن نہیں ہے تو اس صورت میں پانی پاک کیسے ہوگا؟ جواب عنایت فرمائیں برائے مہربانی جلدی سے جواب عطا فرمائیں ۔ سائل: عثمان قادری باڑمیر راجستھان <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> اگر یقین یا ظن غالب ہے کہ پانی کی یہ بدبو اسی مرے ہوئے بکری کے بچہ کی وجہ سے ہے تو اس ٹیوب ویل کا پانی ٹھہرتے ہی یا ہاتھ یا برتن میں لیتےہی نجس ہوجائےگا۔اور جب تک وہ کسی تدبیر سے نکال نہ دیا جائے اس ٹیوب ویل کے پانی سے وضو غسل کرنا یا پینا یا کپڑا دھونا درست نہ ہوگا۔ ہاں! جب اس کے اجزاء ریزہ ریزہ ہوکر نکل جائیں کہ نہ تو پانی میں اس کے اجزاء نظر آئیں اور نہ ہی اس کی بد بو باقی رہ جائے تو اب ٹیوب ویل کا پانی پاک ہوگا۔فتاوی عالم گیری میں ہے ۔ "وَإِذَا أُلْقِيَ فِي الْمَاءِ الْجَارِي شَيْءٌ نَجَسٌ كَالْجِيفَةِ وَالْخَمْرِ لَا يَتَنَجَّسُ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ لَوْنُهُ أَوْ طَعْمُهُ أَوْ رِيحُهُ، كَذَا فِي مُنْيَةِ الْمُصَلِّي۔" (فتاوی عالم گیری ج١ ص١٧) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٧/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ٩/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...