Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #659 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12K Views

پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پتنگ اڑانا، پیچ لڑانا،کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا وبیچنا سب ناجائز وگناہ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرنے والے کام ہیں ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : “کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) اڑانے میں وقت (اور) مال کا ضائع کرنا ہوتا ہے یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیا (یعنی پتنگ اور) ڈور بیچنا بھی منع ہے”. اگلے صفحے پر آپ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : “کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) لوٹنا حرام, اور خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے, اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دیدے کہ وہ کسی جائز کام میں صَرْف (یعنی استعمال ) کرلے اور خود مسکین ہو تو اپنے صَرْف (یعنی استعمال ) میں لائے, پھر جب معلوم ہوکہ فلاں مُسْلِم کی ہے اور وہ تَصَدُّق (یعنی صدقہ کرنے) یا اس مسکین کے اپنے صرف (یعنی استعمال) پر راضی نہ ہو تو دینی آئے گی اور کنکیا (یعنی پتنگ) کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں” ۔ مزید لکھتے ہیں : “کنکیا (یعنی پتنگ ) اڑانا منع ہے اور لڑانا گناہ ہے “. (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 659,660 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) نوٹ: جہاں لڑائی جھگڑے کا خدشہ ہو تو وہاں لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے پتنگ کو نہ پھاڑا جائے واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h3>پتنگ اڑانا، پیچ لڑانا،کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا و بیچنا کیسا ہے ؟</h3> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> پتنگ اڑانا, پیچ لڑانا, کٹی ہوئی پتنگ و ڈور لوٹنا اور پتنگ و ڈور خریدنا وبیچنا سب ناجائز وگناہ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرنے والے کام ہیں ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امامِ اہلِ سنت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : "کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) اڑانے میں وقت (اور) مال کا ضائع کرنا ہوتا ہے یہ بھی گناہ ہے اور گناہ کے آلات کنکیا (یعنی پتنگ اور) ڈور بیچنا بھی منع ہے". اگلے صفحے پر آپ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : "کَنْکَیَّا (یعنی پتنگ) لوٹنا حرام, اور خود آکر گر جائے تو اسے پھاڑ ڈالے, اور اگر معلوم نہ ہو کہ کس کی ہے تو ڈور کسی مسکین کو دیدے کہ وہ کسی جائز کام میں صَرْف (یعنی استعمال ) کرلے اور خود مسکین ہو تو اپنے صَرْف (یعنی استعمال ) میں لائے, پھر جب معلوم ہوکہ فلاں مُسْلِم کی ہے اور وہ تَصَدُّق (یعنی صدقہ کرنے) یا اس مسکین کے اپنے صرف (یعنی استعمال) پر راضی نہ ہو تو دینی آئے گی اور کنکیا (یعنی پتنگ) کا معاوضہ بہرحال کچھ نہیں" ۔ مزید لکھتے ہیں : "کنکیا (یعنی پتنگ ) اڑانا منع ہے اور لڑانا گناہ ہے ". (فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 659,660 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) <strong><span style="color: #ff0000;">نوٹ:</span> </strong>جہاں لڑائی جھگڑے کا خدشہ ہو تو وہاں لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے پتنگ کو نہ پھاڑا جائے واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...