Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #351 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.6K Views

پرفیوم لگانا کیسا ہے | مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

پرفیوم لگانا کیسا ہے | مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پرفیوم لگانا کیسا ہے | مسائل ورلڈ

سوال : 1- پرفیوم لگانا کیسا ہے؟ 2- کیا پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

سائل : ابرار رضا

الجواب بعون الملک الوہاب :

فی زمانہ پرفیوم لگانا جائز ہے اور اس کو لگاکر نماز پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ اب لوگوں کا پرفیوم لگانے میں ابتلاے عام ہوچکا ہے ، لہذا عمومِ بلویٰ کی وجہ سے الکوحل والے پرفیوم کے استعمال کو جائز قرار دیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کو گناہگار ہونے اور ان کی نمازوں کو برباد ہونے سے بچایا جا سکے ۔

چنانچہ الاشباہ والنظائر میں ہے :

“ذَکَرَ بَعْضُھُمْ اَنَّ الْاَمْرَ اِذَا ضَاقَ اِتَّسَعَ”

یعنی بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے.

(الاشباہ والنظائر القاعدۃ الرابعہ صفحہ 84 میر محمد کتب خانہ کراچی)

اور سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

“اقول : ولسنا نعنی بھذا ان عامۃ المسلمین اذا ابتلوا بحرام حل بل الامران عموم البلوٰی من موجبات التخفیف شرعا وماضاق امر الااتسع فاذا وقع ذٰلک فی مسئلۃ مختلف فیھا ترجح جانب الیسر صونا للمسلمین عن العسر ولایخفی علی خادم الفقۃ ان ھذا کماھوجار فی باب الطھارۃ والنجاسۃ کذٰلک فی باب الاباحۃ والحرمۃ”

یعنی (میں کہتاہوں کہ) اور ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ عام مسلمان اگرکسی حرام میں مبتلا ہوجائیں تو وہ حلال ہوجاتا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ عمومِ بلوٰی شرعی طور پر اسبابِ تخفیف میں سے ہے، کوئی تنگی نہیں جس میں وسعت نہ پیداہو، جب یہ معاملہ ایک اختلافی مسئلہ میں واقع ہوا تو مسلمانوں کوتنگی سے بچانے کے لئے آسانی کی جانب کو ترجیح ہوگی۔ خادم فقہ پر پوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ طہارت و نجاست میں جاری ہے۔ ایسے ہی حرمت و اباحت میں بھی جاری ہے۔

(فتاوی رضویہ جلد25 صفحہ 89رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مزید ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :

“والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ”

نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلوی اسباب تخفیف سے ہے خصوصا مسائل طہارت اور نجاست میں۔ (ت)

(فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ391 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

فائدہ: عمومِ بلویٰ سے مراد وہ امر ہے کہ بلادِکثیرہ (یعنی کثیر شہروں) میں کثرت کے ساتھ رائج ہو, عوام و خواص سبھی اس میں مبتلا ہوں اور اس سے بچنا دشوار اور باعثِ حرج ہو.

(ہمارےمسائل اور ان کاحل جلد2 صفحہ 140 بحوالہ:صحیفہ فقہ اسلامی)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">پرفیوم لگانا کیسا ہے | مسائل ورلڈ</h2> <p style="direction: rtl;">سوال : 1- پرفیوم لگانا کیسا ہے؟ 2- کیا پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟</p> <p style="direction: rtl;">سائل : ابرار رضا</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوہاب :</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">فی زمانہ پرفیوم لگانا جائز ہے اور اس کو لگاکر نماز پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ اب لوگوں کا پرفیوم لگانے میں ابتلاے عام ہوچکا ہے ، لہذا عمومِ بلویٰ کی وجہ سے الکوحل والے پرفیوم کے استعمال کو جائز قرار دیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کو گناہگار ہونے اور ان کی نمازوں کو برباد ہونے سے بچایا جا سکے ۔</p> <p style="direction: rtl;">چنانچہ الاشباہ والنظائر میں ہے :</p> <p style="direction: rtl;">"ذَکَرَ بَعْضُھُمْ اَنَّ الْاَمْرَ اِذَا ضَاقَ اِتَّسَعَ"</p> <p style="direction: rtl;">یعنی بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے.</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(الاشباہ والنظائر القاعدۃ الرابعہ صفحہ 84 میر محمد کتب خانہ کراچی)</strong></p> <p style="direction: rtl;">اور سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"اقول : ولسنا نعنی بھذا ان عامۃ المسلمین اذا ابتلوا بحرام حل بل الامران عموم البلوٰی من موجبات التخفیف شرعا وماضاق امر الااتسع فاذا وقع ذٰلک فی مسئلۃ مختلف فیھا ترجح جانب الیسر صونا للمسلمین عن العسر ولایخفی علی خادم الفقۃ ان ھذا کماھوجار فی باب الطھارۃ والنجاسۃ کذٰلک فی باب الاباحۃ والحرمۃ"</p> <p style="direction: rtl;">یعنی (میں کہتاہوں کہ) اور ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ عام مسلمان اگرکسی حرام میں مبتلا ہوجائیں تو وہ حلال ہوجاتا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ عمومِ بلوٰی شرعی طور پر اسبابِ تخفیف میں سے ہے، کوئی تنگی نہیں جس میں وسعت نہ پیداہو، جب یہ معاملہ ایک اختلافی مسئلہ میں واقع ہوا تو مسلمانوں کوتنگی سے بچانے کے لئے آسانی کی جانب کو ترجیح ہوگی۔ خادم فقہ پر پوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ طہارت و نجاست میں جاری ہے۔ ایسے ہی حرمت و اباحت میں بھی جاری ہے۔</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(فتاوی رضویہ جلد25 صفحہ 89رضا فاؤنڈیشن لاہور)</strong></p> <p style="direction: rtl;">مزید ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">"والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ"</p> <p style="direction: rtl;">نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلوی اسباب تخفیف سے ہے خصوصا مسائل طہارت اور نجاست میں۔ (ت)</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(فتاوی رضویہ جلد 4 صفحہ391 رضا فاؤنڈیشن لاہور)</strong></p> <p style="direction: rtl;">فائدہ: عمومِ بلویٰ سے مراد وہ امر ہے کہ بلادِکثیرہ (یعنی کثیر شہروں) میں کثرت کے ساتھ رائج ہو, عوام و خواص سبھی اس میں مبتلا ہوں اور اس سے بچنا دشوار اور باعثِ حرج ہو.</p> <p style="direction: rtl;"><strong>(ہمارےمسائل اور ان کاحل جلد2 صفحہ 140 بحوالہ:صحیفہ فقہ اسلامی)</strong></p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...