پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت از مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ
۱۹؍ ربیع النور ۱۴۴۰ھ /مطابق ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۸ء ـــبدھ ـــ،شام
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حَامِدًا و مُصَلِّـيًا و مُسَلِّمًـا ۔
﴿خلاصۂ فیصلہ ﴾
ض• پوسٹ مارٹم میں کچھ ایسے ناپسندیدہ امور پائے جاتے ہیں جن کی اجازت عام حالات میں شریعتِ اسلامی نہیں دیتی، اس لیے جہاں تک قانون کی رو سے بچنے کی گنجائش ہو، بچے اور جہاں مجبور ہو، معذور ہے ۔
ض• جن صورتوں میں قانوناً پوسٹ مارٹم لازمی و ناگزیر ہو وہاں اولیا کو خاموش رہنا چاہیے ۔
ض •قاتل اور اس کے اولیا خوں بہا ادا کر دیں یا مقتول کے اولیا خوں بہا معاف کر دیں تو فریقین کوشش کریں کہ’’پنچ نامہ‘‘ کے ذریعے کام چل جائے اور لاش کا پوسٹ مارٹم نہ ہو ۔
ض •اور جہاں قاتل اور مقتول کے اولیا میں صلح نہ ہو سکے وہاں امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ایف۔آئی۔آر درج کرا دینا چاہیے ، اس میں کوئی مضایقہ نہیں ۔
پوسٹ مارٹم (Post Martem)کے لغوی معنی ہیں’’بعد الموت‘‘۔ مراد ہے موت کے بعد کی جانچ۔ کسی حادثے میں یا ناگہانی طور پر کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کے سببِ موت کی جانچ اور ایک اندازے سے وقتِ موت کی تعیین کی جاتی ہے، اسی کو طبِ جدید اور قانون کی زبان میں پوسٹ مارٹم کہا جاتا ہے ۔
پوسٹ مارٹم کا مقصد ہے:
ث• موت کے اسباب دریافت کرنا ۔
ث •موت کے حالات و کیفیات کا پتہ لگانا ۔
ث • مو ت کی نوعیت معلوم کرنا کہ موت فطری ہے ، یا غیر فطری ۔
ث •اگر غیر فطری ہے تو خود کشی ہے یا قتل یا ایکسیڈنٹ ۔
ث •اگر خودکشی ہے تو اس کا سبب کوئی دماغی تناؤ ہے یا ٹارچر و اذیت ۔
ث • یہ معلوم کرنا کہ قتل کے لیے استعمال کیا گیا زہر یا گیس یا ہتھیار کس قسم کا تھا؟
کچھ صورتوں میں پوسٹ مارٹم قانوناً لازمی و ناگزیر ہوتا ہے، ان میں وارثین یا رشتہ داروں کی رضا مندی ضروری نہیں ہوتی اور کچھ صورتوں میں وارثین پنچ نامہ بنا کر پولیس کو دے دیتے ہیں کہ ہمیں کوئی کارروائی نہیں کرنی ہے، ہمارے عزیز کی لاش پوسٹ مارٹم کیے بغیر ہمیں واپس کر دی جائے تو پولیس انھیں لاش بغیر پوسٹ مارٹم کے واپس دے دیتی ہے ۔
حکمِ شرعی:
(۱)پوسٹ مارٹم میں کچھ فوائد و مصالح ہیں ، ساتھ ہی اس میں کچھ ایسے ناپسندیدہ اموربھی ہیں جن کی اجازت عام حالات میں شریعتِ اسلامی نہیں دیتی جیسے لاش کو برہنہ کرنا ،لاش کے مختلف اعضا کو کاٹنا اور جسم سے جدا کرنا ،وغیرہ ۔ اس لیے جہاں تک قانون کی رو سے بچنے کی گنجائش ہو بچے اور جہاں مجبور ہو، معذور ہے ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا ۔
(۲) جن صورتوں میں قانون کے نقطۂ نظر سے پوسٹ مارٹم لازمی و ناگزیر ہوتا ہے اور میت کے اولیا اس سے بچنے کا اختیار نہیں رکھتے ، وہاں قانون اپنے ہاتھوں میں لینا ممنوع ہے، اولیا کو خاموش رہنا چاہیے، فقہ اسلامی کی عظیم کتاب فتاویٰ رضویہ میں ہے:
”مِن الصُّوَرِ المُباحَۃِ مایکون جُرمًافی القانون، ففی اقتحامِہٖ تعریضُ النّفس لِلاَذیٰ والإذلال، وھو لایجوز، فیجب التّحرُّزُ عن مثلہٖ ومَا عَدَاذٰلک مباحٌ سائغٌ لاحجر فیہ۔
(الفتاویٰ الرضویۃ، ج:۷، ص:۱۱۵، کتاب البیوع/باب الربا، سنی دار الاشاعت)
(۳)جہاں باہمی صلح سے کام چل جائے مثلاً قتلِ خطا میں قاتل اور اس کے اولیا خون بہا ادا کر دیں، یا کسی وجہ سے مقتول کے اولیا خون بہا معاف کر دیں تو فریقین کوشش کریں کہ پنچ نامہ کے ذریعہ کام چل جائے اور لاش کا پوسٹ مارٹم نہ ہو ۔
ارشادِ باری ہے:یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰیط اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاُنۡثٰی بِالْاُنۡثٰیط فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَاَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسٰنٍط ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ ط فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿۱۷۸﴾ۚوَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبٰبِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔
(۴)اور جہاں قاتل خوں بہا دینے پر راضی نہ ہو یا اِدھر اُدھر بھاگ کر بچنے کی کوشش کرے، وہاں امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور دفعِ شرور و فتن کے لیے ایف۔آئی۔آر درج کرا دینا چاہیے ، ایسا نہ ہو تو بےرحم لوگ جب چاہیں کسی کو گاڑی سے دبا کر چلے جائیں یا کسی اور طرح سے انسانی جان تلف کر کے بے خوف رہیں اور امنِ عامہ درہم برہم ہو کر رہ جائے ۔
ایف۔آئی۔آر کے بعد پولیس جو کچھ کارروائی کرے گی وہ قانون کے ماتحت ہوگی جس سے کوئی مفر نہیں ۔
شریعتِ اسلامی نے انسان کو ضررِ عام سے بچانے کاخاص لحاظ کیا ہے۔ چناں چہ الاشباہ والنظائر میں یہ صراحت ہے:
•یتحمّل الضرر الخاص لأجل دفع الضرر العام ۔
(الأشباہ والنظائر، ج:۱، ص:۲۵۶، القاعدۃ الخامسۃ: ”الضرر یزال“ ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیۃ، کراچی)
•إذا تعارض مفسدتان روعی أعظمھا ضررا بارتکاب أخفھما قال الزیلعی في باب شروط الصلاۃ: ثم الأصل في جنس ہذہ المسائل أنّ من ابتلي ببلیتین، وھما متساویتان یأخذ بأیتھما شاءَ، وإن اختلفا یختار أھونھما۔“(الأشباہ والنظائر، ج:۱، ص:۲۶۱، القاعدۃ الخامسۃ: ”الضرر یزال“ ادارۃالقرآن والعلوم الإسلامیۃ، کراچی، پاکستان)
اور ایف۔آئی۔آر، تو ضررِ خاص کا تحمُّل بھی نہیں بلکہ ا س کا سبب تام اور غیر تام بھی نہیں، ہاں سببِ محض ہو سکتا ہے جس پر شریعت کا قلم جاری نہیں ہوتا۔ درج ذیل فقہی عبارات سے یہ امر ظاہر و روشن ہے ، چناں چہ کتاب التعریفات میں ہے:
السبب: في اللغۃ : اسم لما یتوصّل بہ إلی المقصود ۔
وفي الشریعۃ: عبارۃ عمّا یکون طریقا للوصول إلی الحکم غیر مؤثر فیہ ۔
السبب الغیر التام: ہو الذي یتوقّف وجود المسبّب علیہ لکن لا یوجد المسبّب بِوجودہ فقط ۔
(کتاب التعریفات، للفاضل العلامۃ علی بن محمد شریف الجرجانی، ص: ۱۲۱، ۱۲۲، بیروت، لبنان)
بدائع الصنائع میں ہے:
”علیٰ أن ارضاعھا إن کان سبب الفرقۃ، فھو سبب محض لأنہ طرأ علیہ فعل اختیاری وھو ارتضاع الصغیرۃ، والسبب إذا اعترض علیہ فعل اختیاري یکون سببا محضا، والسبب المحض لا حکم لہ وإن کان صاحب السبب متعمدا في مباشرۃ السبب۔“
(بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، ج:۴، ص:۱۷، کتاب الرضاع، برکات رضا، پور بندر، گجرات)
ایف۔آئی۔آر، در اصل سبب ہے مجرم کی تلاش اور اس کی گرفتاری، وغیرہ کا، رپورٹ دینے والے کا مقصود بھی یہی ہے ۔ اب اگر’’پوسٹ مارٹم‘‘سے اس کا کوئی دور کا لگاؤ بھی ہو تو اس کی حیثیت سببِ محض سے زیادہ نہیں، اس لیے ایف۔آئی۔آر، درج کرانے کی اجازت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۵)مجلس گزارش کرتی ہےکہ پوسٹ مارٹم کی ناگزیر صورتوں میں بھی انسانی حقوق کی رعایت و احترام ملحوظ رکھا جائے، مثلاً:
(الف) ضرورت سے زیادہ کوئی عضو بالخصوص شرم گاہ نہ کھولیں۔
(ب) ممکن ہو تو عورت کا پوسٹ مارٹم عورت ڈاکٹر کرے کہ عورت کے اعضا کی طرف عورت کی نظر کا حکم ہلکا ہے ۔
(ج) کم سے کم جتنی چیر پھاڑ سے کام چل سکے ، اسی پر اکتفا ہو۔
واللہ تعالیٰ اعلم ۔