Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #437 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.7K Views

پیشاب کے قطرات کی بیماری والے کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

پیشاب کے قطرات کی بیماری والے کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پیشاب کے قطرات کی بیماری والے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال : حضرت ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ جس شخص کا ہر وقت پیشاب کے راستہ سے پانی نکلتا ہے تو وہ شخص پاک ہے یا ناپاک

علماے احناف کے نزدیک ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے تشفی بخش جواب مطلوب ہے۔

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب.

وہ شخص پاک ہے کہ پیشاب کے راستہ سے پانی نکلنے سے انسان ناپاک نہیں ہوتا۔

جسے پیشاب کے راستہ ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک بار ضرور پانی آتا ہے وہ معذور ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ وہ وقت میں وضو کرے اور آخر وقت تک اس وضو سے جتنی نمازیں چاہے پڑھے پیشاب کے قطرات سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا البتہ دوسرے نواقض وضو سے کوئی ناقض پایا گیا تو وضو ٹوٹ جاے گا اسی طرح وقت ختم ہونے سے۔

پیشاب کے قطرات سے کپڑے اگر ایک درہم سے زائد نجس ہوجاتے ہوں اور یہ جانتا ہو کہ دھل کر پاک کپڑے سے نماز پڑھ سکوں گا تو دھلنا فرض اور ایک درہم کی صورت میں واجب اور اس سے کم میں سنت اور اگر جانتا ہو کہ دوران نماز پھر نجس ہوجائیں گے تو دھلنا ضروری نہیں۔

یہی حکم ہر اس شخص کا ہے جو معذور ہو مثلا دست آنا، پھوڑے یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا وغیرہ

در مختار و ردالمحتار میں ہے “و ﺻﺎﺣﺐ ﻋﺬﺭ ﻣﻦ ﺑﻪ ﺳﻠﺲ ﺑﻮﻝ ﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ ﺇﻣﺴﺎﻛﻪ ﺃﻭ اﺳﺘﻄﻼﻕ ﺑﻄﻦ ﺃﻭ اﻧﻔﻼﺕ ﺭﻳﺢ ﺃﻭ اﺳﺘﺤﺎﺿﺔ ﺃﻭ ﺑﻌﻴﻨﻪ ﺭﻣﺪ ﺃﻭ ﻋﻤﺶ ﺃﻭ ﻏﺮﺏ ﻭﻛﺬا ﻛﻞ ﻣﺎ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﻮﺟﻊ ﻭﻟﻮ ﻣﻦ ﺃﺫﻥ ﻭﺛﺪﻱ ﻭﺳﺮﺓ ﺇﻥ اﺳﺘﻮﻋﺐ ﻋﺬﺭہ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﻗﺖ ﺻﻼﺓ ﻣﻔﺮﻭﺿﺔ بان ﻻ ﻳﺠﺪ ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ ﻭﻗﺘﻬﺎ ﺯمنا ﻳﺘﻮﺿﺄ ﻭﻳﺼﻠﻲ ﻓﻴﻪ ﺧﺎﻟﻴﺎ ﻋﻦ اﻟﺤﺪﺙ ﻭﻟﻮ ﺣﻜﻤﺎ ﻷﻥ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻴﺴﻴﺮ ﻣﻠﺤﻖ ﺑﺎﻟﻌﺪﻡ ﻭﻫﺬا ﺷﺮﻁ العذر ﻓﻲ ﺣﻖ اﻻﺑﺘﺪاء ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺒﻘﺎء ﻛﻔﻰ ﻭﺟﻮﺩﻩ ﻓﻲ ﺟﺰء ﻣﻦ اﻟﻮﻗﺖ ﻭﻟﻮ ﻣﺮﺓ ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺰﻭاﻝ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﺳﺘﻴﻌﺎﺏ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ ﺗﻤﺎﻡ اﻟﻮﻗﺖ ﺣﻘﻴﻘﺔ ﻷﻧﻪ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻜﺎﻣﻞ۔

ﻭﺣﻜﻤﻪ اﻟﻮﺿﻮء ﻻﻏﺴﻞ ﺛﻮﺑﻪ وﻧﺤﻮﻩ ﻟﻜﻞ ﻓﺮﺽ اللام ﻟﻠﻮﻗﺖ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ (ﻟﺪﻟﻮﻙ اﻟﺸﻤﺲ) [اﻹﺳﺮاء: 78] ﺛﻢ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﻪ ﻓﻴﻪ ﻓﺮﺿﺎ ﻭﻧﻔﻼ ﻓﺪﺧﻞ اﻟﻮاﺟﺐ ﺑﺎﻷﻭﻟﻰ ﻓﺈﺫا ﺧﺮﺝ اﻟﻮﻗﺖ ﺑﻄﻞ۔

ﻭﺇﻥ ﺳﺎﻝ ﻋﻠﻰ ﺛﻮﺑﻪ ﻓﻮﻕ اﻟﺪﺭﻫﻢ ﺟﺎﺯ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻐﺴﻠﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻟﻮ ﻏﺴﻠﻪ ﺗﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ اﻟﻔﺮاﻍ منھا ﺃﻱ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺇﻻ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ ﻓﺮاﻏﻪ ﻓﻼ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺮﻙ ﻏﺴﻠﻪ ﻫﻮ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻟﻠﻔﺘﻮﻯ” ملتقطا(ردالمحتار ،ج١،ص٥٥٣تا٥٥٧)۔

ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ٣٨٥تا٣٨٧ پر ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

         مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

٢٩اپریل٢٠٢١

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">پیشاب کے قطرات کی بیماری والے کا حکم</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;">سوال : حضرت ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ جس شخص کا ہر وقت پیشاب کے راستہ سے پانی نکلتا ہے تو وہ شخص پاک ہے یا ناپاک</p> <p style="direction: rtl;">علماے احناف کے نزدیک ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے تشفی بخش جواب مطلوب ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوہاب.</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">وہ شخص پاک ہے کہ پیشاب کے راستہ سے پانی نکلنے سے انسان ناپاک نہیں ہوتا۔</p> <p style="direction: rtl;">جسے پیشاب کے راستہ ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک بار ضرور پانی آتا ہے وہ معذور ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ وہ وقت میں وضو کرے اور آخر وقت تک اس وضو سے جتنی نمازیں چاہے پڑھے پیشاب کے قطرات سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا البتہ دوسرے نواقض وضو سے کوئی ناقض پایا گیا تو وضو ٹوٹ جاے گا اسی طرح وقت ختم ہونے سے۔</p> <p style="direction: rtl;">پیشاب کے قطرات سے کپڑے اگر ایک درہم سے زائد نجس ہوجاتے ہوں اور یہ جانتا ہو کہ دھل کر پاک کپڑے سے نماز پڑھ سکوں گا تو دھلنا فرض اور ایک درہم کی صورت میں واجب اور اس سے کم میں سنت اور اگر جانتا ہو کہ دوران نماز پھر نجس ہوجائیں گے تو دھلنا ضروری نہیں۔</p> <p style="direction: rtl;">یہی حکم ہر اس شخص کا ہے جو معذور ہو مثلا دست آنا، پھوڑے یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا وغیرہ</p> <p style="direction: rtl;">در مختار و ردالمحتار میں ہے "و ﺻﺎﺣﺐ ﻋﺬﺭ ﻣﻦ ﺑﻪ ﺳﻠﺲ ﺑﻮﻝ ﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ ﺇﻣﺴﺎﻛﻪ ﺃﻭ اﺳﺘﻄﻼﻕ ﺑﻄﻦ ﺃﻭ اﻧﻔﻼﺕ ﺭﻳﺢ ﺃﻭ اﺳﺘﺤﺎﺿﺔ ﺃﻭ ﺑﻌﻴﻨﻪ ﺭﻣﺪ ﺃﻭ ﻋﻤﺶ ﺃﻭ ﻏﺮﺏ ﻭﻛﺬا ﻛﻞ ﻣﺎ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﻮﺟﻊ ﻭﻟﻮ ﻣﻦ ﺃﺫﻥ ﻭﺛﺪﻱ ﻭﺳﺮﺓ ﺇﻥ اﺳﺘﻮﻋﺐ ﻋﺬﺭہ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﻗﺖ ﺻﻼﺓ ﻣﻔﺮﻭﺿﺔ بان ﻻ ﻳﺠﺪ ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ ﻭﻗﺘﻬﺎ ﺯمنا ﻳﺘﻮﺿﺄ ﻭﻳﺼﻠﻲ ﻓﻴﻪ ﺧﺎﻟﻴﺎ ﻋﻦ اﻟﺤﺪﺙ ﻭﻟﻮ ﺣﻜﻤﺎ ﻷﻥ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻴﺴﻴﺮ ﻣﻠﺤﻖ ﺑﺎﻟﻌﺪﻡ ﻭﻫﺬا ﺷﺮﻁ العذر ﻓﻲ ﺣﻖ اﻻﺑﺘﺪاء ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺒﻘﺎء ﻛﻔﻰ ﻭﺟﻮﺩﻩ ﻓﻲ ﺟﺰء ﻣﻦ اﻟﻮﻗﺖ ﻭﻟﻮ ﻣﺮﺓ ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺰﻭاﻝ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﺳﺘﻴﻌﺎﺏ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ ﺗﻤﺎﻡ اﻟﻮﻗﺖ ﺣﻘﻴﻘﺔ ﻷﻧﻪ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻜﺎﻣﻞ۔</p> <p style="direction: rtl;">ﻭﺣﻜﻤﻪ اﻟﻮﺿﻮء ﻻﻏﺴﻞ ﺛﻮﺑﻪ وﻧﺤﻮﻩ ﻟﻜﻞ ﻓﺮﺽ اللام ﻟﻠﻮﻗﺖ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ (ﻟﺪﻟﻮﻙ اﻟﺸﻤﺲ) [اﻹﺳﺮاء: 78] ﺛﻢ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﻪ ﻓﻴﻪ ﻓﺮﺿﺎ ﻭﻧﻔﻼ ﻓﺪﺧﻞ اﻟﻮاﺟﺐ ﺑﺎﻷﻭﻟﻰ ﻓﺈﺫا ﺧﺮﺝ اﻟﻮﻗﺖ ﺑﻄﻞ۔</p> <p style="direction: rtl;">ﻭﺇﻥ ﺳﺎﻝ ﻋﻠﻰ ﺛﻮﺑﻪ ﻓﻮﻕ اﻟﺪﺭﻫﻢ ﺟﺎﺯ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻐﺴﻠﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻟﻮ ﻏﺴﻠﻪ ﺗﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ اﻟﻔﺮاﻍ منھا ﺃﻱ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺇﻻ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ ﻓﺮاﻏﻪ ﻓﻼ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺮﻙ ﻏﺴﻠﻪ ﻫﻮ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻟﻠﻔﺘﻮﻯ" ملتقطا(ردالمحتار ،ج١،ص٥٥٣تا٥٥٧)۔</p> <p style="direction: rtl;">ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ٣٨٥تا٣٨٧ پر ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ تعالیٰ اعلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>         مفتی شان محمد المصباحی القادری</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </strong></p> <p style="direction: rtl;">٢٩اپریل٢٠٢١</p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...