Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1882 Verified Hanafi Fiqh 10K Views

چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ از مفتی محمد رضا مرکزی

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ از مفتی محمد رضا مرکزی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ از مفتی محمد رضا مرکزی

سوال :چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا چاہیں تو؟ اس کا طریقہ کیا ہے؟ سائل: امام الدین مصباحی، محمدآباد، یوپی الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب اگر چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا چاہیں تو چادر عمامے یا ٹوپی کے اوپر سے اوڑھئے۔امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم فرماتے ہیں : ’’لَایَنظُرُ اللّٰہ اِلٰی قَومٍ لَایَجعَلُونَ عَمَائِمَھُم تَحتَ رِدَائِھِم یَعنِی فِی الصَّلٰوۃِ‘‘ یعنی اللّٰہ تعالٰی اُس قوم کی طرف نظرِرحمت نہیں فرماتا جونماز میں اپنے عمامے اپنی چادروں کے نیچے نہیں کرتے۔ و اللّٰہ تعالٰی اعلم(فردوس الاخبار، ۵/ ۱۴۶، حدیث : ۷۷۷۳، فتاوی رضویہ ، ۷/ ۲۹۹) نماز میں عمامہ شریف پر چادر اوڑھ لینا یقینا سعادت مندی ہے، البتہ جو چادر کے بِغیر نماز ادا کرتا ہے اُس پر بھی کوئی الزام نہیں ۔ البتہ نماز میں سر سے نیچے چادر اوڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (۱)نماز میں سِمٹی ہوئی چادر کو مفلر کی طرح سر اور کانوں پر لپیٹ لینے کے بجائے پھیلا کر سر پر اوڑھئے نیز اس کا ایک سِرا مَثلاً دائیں کندھے کی طرف والا بائیں کندھے پر ڈال لیجئے، بلکہ چاہیں تو اس سرے کو پیچھے سے لا کر واپس دائیں کندھے پر لے لیجئے۔ (۲)اہلِ کتاب دورانِ عبادت ’’سَدَل‘‘ کرتے ہیں ۔ سَدَل یعنی سر یا کندھوں پر اس طرح چادر ڈالنا کہ اس کے دونوں سرے لٹکتے ہوں ، یہ علاوہ نماز کے مکروہ تنزیہی اور نماز میں مکروہ تحریمی ہے۔ بہار شریعت میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ رومال یا شال یا رضائی یا چادر کے کنارے دونوں مونڈھوں سے لٹکتے ہوں یہ ممنوع و مکروہ تحریمی ہے اور ایک کنارہ دوسرے مونڈھے پر ڈال دیا ہے اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حرج نہیں اور اگر ایک ہی مونڈے پر ڈالا اس طرح کے ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پر جیسے عموماً اس زمانے میں مونڈھوں پر رومال رکھنے کا طریقہ ہے تو یہ بھی مکروہ ہے.. (بہار شریعت جلد 01 حصہ 03 صفحہ نمبر 626) نیز فتاویٰ امجدیہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ چادر اوڑھنے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ سر سے چادر اوڑھے اور یہی سنت مطابق ہے اور کندھے سے اگر اوڑھی جب بھی نماز ہوجائے گی نماز میں کوئی کراہت نہیں. (فتاویٰ امجدیہ جلد01 صفحہ نمبر 200) لہذا واضع طور پر معلوم ہو گیا کہ چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا جائز ہے اور لٹکانا مکروہ تحریمی… وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h3>چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے کا طریقہ از مفتی محمد رضا مرکزی</h3> سوال :چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا چاہیں تو؟ اس کا طریقہ کیا ہے؟ سائل: امام الدین مصباحی، محمدآباد، یوپی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> اگر چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا چاہیں تو چادر عمامے یا ٹوپی کے اوپر سے اوڑھئے۔امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسلَّم فرماتے ہیں : ’’لَایَنظُرُ اللّٰہ اِلٰی قَومٍ لَایَجعَلُونَ عَمَائِمَھُم تَحتَ رِدَائِھِم یَعنِی فِی الصَّلٰوۃِ‘‘ یعنی اللّٰہ تعالٰی اُس قوم کی طرف نظرِرحمت نہیں فرماتا جونماز میں اپنے عمامے اپنی چادروں کے نیچے نہیں کرتے۔ و اللّٰہ تعالٰی اعلم(فردوس الاخبار، ۵/ ۱۴۶، حدیث : ۷۷۷۳، فتاوی رضویہ ، ۷/ ۲۹۹) نماز میں عمامہ شریف پر چادر اوڑھ لینا یقینا سعادت مندی ہے، البتہ جو چادر کے بِغیر نماز ادا کرتا ہے اُس پر بھی کوئی الزام نہیں ۔ البتہ نماز میں سر سے نیچے چادر اوڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (۱)نماز میں سِمٹی ہوئی چادر کو مفلر کی طرح سر اور کانوں پر لپیٹ لینے کے بجائے پھیلا کر سر پر اوڑھئے نیز اس کا ایک سِرا مَثلاً دائیں کندھے کی طرف والا بائیں کندھے پر ڈال لیجئے، بلکہ چاہیں تو اس سرے کو پیچھے سے لا کر واپس دائیں کندھے پر لے لیجئے۔ (۲)اہلِ کتاب دورانِ عبادت ’’سَدَل‘‘ کرتے ہیں ۔ سَدَل یعنی سر یا کندھوں پر اس طرح چادر ڈالنا کہ اس کے دونوں سرے لٹکتے ہوں ، یہ علاوہ نماز کے مکروہ تنزیہی اور نماز میں مکروہ تحریمی ہے۔ بہار شریعت میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ رومال یا شال یا رضائی یا چادر کے کنارے دونوں مونڈھوں سے لٹکتے ہوں یہ ممنوع و مکروہ تحریمی ہے اور ایک کنارہ دوسرے مونڈھے پر ڈال دیا ہے اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حرج نہیں اور اگر ایک ہی مونڈے پر ڈالا اس طرح کے ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پر جیسے عموماً اس زمانے میں مونڈھوں پر رومال رکھنے کا طریقہ ہے تو یہ بھی مکروہ ہے.. (بہار شریعت جلد 01 حصہ 03 صفحہ نمبر 626) نیز فتاویٰ امجدیہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ چادر اوڑھنے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ سر سے چادر اوڑھے اور یہی سنت مطابق ہے اور کندھے سے اگر اوڑھی جب بھی نماز ہوجائے گی نماز میں کوئی کراہت نہیں. (فتاویٰ امجدیہ جلد01 صفحہ نمبر 200) لہذا واضع طور پر معلوم ہو گیا کہ چادر اوڑھ کر نماز پڑھنا جائز ہے اور لٹکانا مکروہ تحریمی... وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: