Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1928
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.9K Views
چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ زید کا انتقال ہوا اور اس نے چار بیٹے چھ بیٹیاں اور ایک بیوی چھوڑی دوسری بیوی کا انتقال ان کی حیات میں ہی ہوگیا تھا اب ان کے بیٹوں میں جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے اختلاف ہوگیا ہے کچھ کہتے ہیں کل مال کے دوحصے کئے جائیں کیوں کہ ان کی دوبیویاں تھیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کل مال کے چار حصے کرکے ہر بیٹے کو برابر برابر دیدیا جائے اب آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کے حساب سے کتنے حصے لگیں گے اور کس کو کتنا ملے گا بتا دیجئے۔ سائل: آصف کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وانحصار ورثہ فی المذکورین وعدم موانع ارث کل ترکہ زید کے ایک سو بارہ (١١٢) حصے کریں گے پھر اس میں سے چودہ حصے زید کی اس بیوی کو دیں گے جو اس کے انتقال کے وقت باحیات تھی اور ہر بیٹے کو چودہ چودہ حصے اور ہر بیٹی کو سات سات حصے دیں گے زید کی جس بیوی کا انتقال اس کی حیات میں ہوگیا تھا اسے زید کے ترکہ سے کچھ نہ ملے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:” یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ” اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے ” (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: “فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ” اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہاری اولاد ہوں تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔میت کے ورثہ میں زوجہ دوبیٹیاں، باپ اور دو بھائی تین بہنیں ہوں تو اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
میت کے ورثہ میں دولڑکیاں اور چار لڑکے ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟
Kutubahu & Verified by:
<h3>چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟</h3> مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ زید کا انتقال ہوا اور اس نے چار بیٹے چھ بیٹیاں اور ایک بیوی چھوڑی دوسری بیوی کا انتقال ان کی حیات میں ہی ہوگیا تھا اب ان کے بیٹوں میں جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے اختلاف ہوگیا ہے کچھ کہتے ہیں کل مال کے دوحصے کئے جائیں کیوں کہ ان کی دوبیویاں تھیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کل مال کے چار حصے کرکے ہر بیٹے کو برابر برابر دیدیا جائے اب آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کے حساب سے کتنے حصے لگیں گے اور کس کو کتنا ملے گا بتا دیجئے۔ سائل: آصف کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وانحصار ورثہ فی المذکورین وعدم موانع ارث کل ترکہ زید کے ایک سو بارہ (١١٢) حصے کریں گے پھر اس میں سے چودہ حصے زید کی اس بیوی کو دیں گے جو اس کے انتقال کے وقت باحیات تھی اور ہر بیٹے کو چودہ چودہ حصے اور ہر بیٹی کو سات سات حصے دیں گے زید کی جس بیوی کا انتقال اس کی حیات میں ہوگیا تھا اسے زید کے ترکہ سے کچھ نہ ملے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:" یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ " اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: "اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے " (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: "فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم " اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہاری اولاد ہوں تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <strong>کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔</strong> <strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/wirasat-ke-masail-17/" rel="bookmark">میت کے ورثہ میں زوجہ دوبیٹیاں، باپ اور دو بھائی تین بہنیں ہوں تو اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟</a></h5> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/wirasat-ke-masail-16/" rel="bookmark">میت کے ورثہ میں دولڑکیاں اور چار لڑکے ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟</a></h5>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...