Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #389 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.9K Views

چوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو کیا حکم ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

چوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو کیا حکم ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

چوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو کیا حکم ہے ؟

سوال : امام نے چار رکعتی فرض نماز میں قعدہ اخیرہ نہیں کیا اور بھول کر سیدھا کھڑا ہو گیا ، مقتدی نے لقمہ دیا، امام لوٹ آیا اور سجدہ سہو کے ساتھ نماز پوری کی تو اس صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز ہوئی یا نہیں ؟

سائل : ابوبکر عطاری مدنی انڈیا

الجواب بعون الملک الوہاب:

پوچھی گئی صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز ہوگئی کیونکہ جب امام قعدہ اخیرہ کیے بغیر پانچویں رکعت کیلیے کھڑا ہوجائے تو اس صورت میں امام کو لقمہ دیا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابو الاخلاص حسن بن عمار بن علی مصری شرنبلالی حنفی رحمۃ اللہ علیہ “نورالایضاح” میں تحریر فرماتے ہیں :

“وان قام الأمام قبل القعود الاخير ساهيا انتظره الماموم‘‘

یعنی اور اگر امام قعدہ اخیرہ سے پہلے بھول کر (پانچویں رکعت کیلیے) کھڑا ہوجائے تو مقتدی امام کا انتظار کرے ۔

اس عبارت کے تحت خود ہی علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ مراقی الفلاح میں تحریر فرماتے ہیں :

“وسبح ليتنبه امامه‘‘

یعنی مقتدی تسبیح کہے (یعنی لقمہ دے) تاکہ وہ اپنے امام کو خبردار کرسکے۔

(نورالایضاح مع مراقی الفلاح صفحہ 167 مکتبۃ المدینہ کراچی)

نوٹ : بالکل یہی عبارت امدادالفتاح میں ہے اور علامہ سید احمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے “حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ کراچی” کے صفحہ 251 پر اسی بات کی تائید فرمائی ہے۔

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">چوتھی رکعت پر قعدہ نہیں کیا اور بھول کر کھڑا ہوگیا تو کیا حکم ہے ؟</h2> <p style="direction: rtl;">سوال : امام نے چار رکعتی فرض نماز میں قعدہ اخیرہ نہیں کیا اور بھول کر سیدھا کھڑا ہو گیا ، مقتدی نے لقمہ دیا، امام لوٹ آیا اور سجدہ سہو کے ساتھ نماز پوری کی تو اس صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز ہوئی یا نہیں ؟</p> <p style="direction: rtl;">سائل : ابوبکر عطاری مدنی انڈیا</p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب:</strong></p> <p style="direction: rtl;">پوچھی گئی صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز ہوگئی کیونکہ جب امام قعدہ اخیرہ کیے بغیر پانچویں رکعت کیلیے کھڑا ہوجائے تو اس صورت میں امام کو لقمہ دیا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ علامہ ابو الاخلاص حسن بن عمار بن علی مصری شرنبلالی حنفی رحمۃ اللہ علیہ "نورالایضاح" میں تحریر فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">"وان قام الأمام قبل القعود الاخير ساهيا انتظره الماموم‘‘</p> <p style="direction: rtl;">یعنی اور اگر امام قعدہ اخیرہ سے پہلے بھول کر (پانچویں رکعت کیلیے) کھڑا ہوجائے تو مقتدی امام کا انتظار کرے ۔</p> <p style="direction: rtl;">اس عبارت کے تحت خود ہی علامہ شرنبلالی رحمۃ اللہ علیہ مراقی الفلاح میں تحریر فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">"وسبح ليتنبه امامه‘‘</p> <p style="direction: rtl;">یعنی مقتدی تسبیح کہے (یعنی لقمہ دے) تاکہ وہ اپنے امام کو خبردار کرسکے۔</p> <p style="direction: rtl;">(نورالایضاح مع مراقی الفلاح صفحہ 167 مکتبۃ المدینہ کراچی)</p> <p style="direction: rtl;">نوٹ : بالکل یہی عبارت امدادالفتاح میں ہے اور علامہ سید احمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے "حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ کراچی" کے صفحہ 251 پر اسی بات کی تائید فرمائی ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...