Ref #14
Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1177
Verified Hanafi Fiqh
4K Views
ڈیزائن والے نقاب کا شرعی حکم از علامہ کمال کمال احمد علیمی
Font:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ڈیزائن والے نقاب کا شرعی حکم از علامہ کمال کمال احمد علیمی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ڈیزائن والے نقاب کا شرعی حکم
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین مسئلۂ ذیل کے بارے میں کہ ہم نے سید امین القادری صاحب کی تقریر سنی ہے جس میں وہ حجة الاسلام حضرت امام غزالی رحمة الله عليه کاحوالہ دے کر فرما رہے ہیں کہ ڈیزائن اور اسٹون والا برقع پہننا حرام ہے تو کیا یہ صحیح ہے؟ مدلل و مشفی جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ المستفتیات: متعلمات جماعت سادسہ دارالعوام علیمیہ نسواں جمدا شاہی بستی ۔ تاریخ:١٩.١.٢٠٢٢ الجواب بعون الھادی الی الحق والصواب کیمیاے سعادت میں حجۃ الاسلام امام ابوحامد محمد غزالی (م ٥٠٥ھ)رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : و بداں که ہیچ تخم فساد چون نشستن با زنان اندر مجلسها ومہمانیها و نظارها نبودچوں میان ایشاں حجاب نبود، و بداں که زناں چادر و نقاب دارند کفایت نبود، بلکه چون چادر سفید دارند و اندر نقاب نیز تکلف کنند، شهوت حرکت کند و باشد که نیکوتر نمایند ازآں که روے باز کنند ، پس حرام است برزناں بچادر سپید و روی بند پاکیزه بتكلف اندر بسته بیروں شدن ، وہرزن که چنین کند عاصی است ، وپدر ومادر برادر وشوہر که دارد و بدان راضی بود اندر آن معصیت باوشريك باشد که بداں رضا داده بود .(کیمیاے سعادت فارسی رکن سوم ٢/ ٤٧٠) ترجمہ :جاننا چاہئے کہ جب حجاب کا اہتمام نہ تھا اس وقت فساد کی سب سے بڑی بنیاد بلا حجاب عورتوں کے ساتھ بیٹھنا،ان کی مہمانی کرنا اور ان کو دیکھنا تھا. معلوم ہو کہ عورتیں جو چادر اور نقاب اب پہنتی ہیں وہ ناکافی ہے،بلکہ جب سفید چادر اور نقاب کے اندر بھی تکلف کرتی ہیں تو ان کا یہ عمل شہوت ابھارتا ہے (اور دیکھنے والا سوچتا ہے) کہ ہوسکتا ہے جب چہرہ کھولیں تو اس سے بہتر شکل دکھائی دے، لہذا عورتوں پر حرام ہے کہ سفید چادر اور نفیس دوپٹہ بتکلف اوڑھ کر باہر نکلیں، جو عورت ایسا کرے گی وہ گنہگار ہوگی اور اس کے ماں ،باپ، بھائی اور شوہر جو اس پر راضی ہوں سب اس عورت کے ساتھ گنہ گار ہوں گے. مذکورہ عبارت میں حجاب میں سفید چادر اور نفیس دوپٹے کو امام غزالی نے اس شرط کے ساتھ حرام قرار دیا ہے کہ عورت شہوت اور فتنہ انگیز لباس استعمال کرکے باہر نکلے کہ اپنے لباس سے مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی عورتیں جہنمی ہیں۔ حدیث شریف میں ہیں : “صنفان من أهل النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات، رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة لايدخلن الجنة ولايجدن ريحھا.” اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ عورت کا اجنبی مردوں کا بہت چست اور فتنہ انگیز لباس میں باہر نکلنا ناجائز ہے، یہی امام غزالی کے قول مذکور کا مطلب بھی ہے. واضح رہے کہ عورت کے لئے ہر رنگ کا کپڑا یا حجاب پہننا جائز ہے. درمختار مع رد المحتار میں ہے : “(وكره لبس المعصفر والمزعفر الأحمر والأصفر للرجال) مفاده أنه لايكره للنساء (ولا بأس بسائر الألوان) وفي المجتبى والقهستاني وشرح النقاية لأبي المكارم: لا بأس بلبس الثوب الأحمر اهـ. ومفاده أن الكراهة تنزيهية لكن صرح في التحفة بالحرمة فأفاد أنها تحريمية وهي المحمل عند الإطلاق قاله المصنف. قلت: وللشرنبلالي فيه رسالة نقل فيها ثمانية أقوال منها: أنه مستحب(٦/ ٣٥٨) یوں ہی ڈیزائن یا اسٹون والے نقاب کے استعمال میں بھی کوئی حرج نہیں،بشرطے کہ ١- بہت چست اور تنگ نہ ہوکہ جسمانی ساخت ظاہر ہو ۔ ٢- باریک نہ ہو کہ بدن جھلکے ۔ ٣- اس قدر بڑا ہو کہ مکمل ستر عورت ہو جائے ۔ ٤- اس پر کسی خوشبو کے استعمال سے بچا جائے ۔ ٥۔ اس سے اندیشہ فتنہ نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٨ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣/ ٢٢جنوری ٢٠٢٢ء الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by: