Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

کاروبار کے لیے پلاٹ خریدنے پر زکوٰۃ کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری

کاروبار کے لیے پلاٹ خریدنے پر زکوٰۃ کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری
Reference 76 September 18, 2025 9,743 views
اصل سوالکاروبار کے لیے پلاٹ خریدنے پر زکوٰۃ کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری

کاروبار کے لیے پلاٹ خریدنے پر زکوٰۃ کا حکم از : مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی پھ السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے ایک پلاٹ خریدا تھا اسکو بیچ دیا اور اس پر سال نہیں گزرا اور بیچ دیا اور اسی پیسے سے نیا پلاٹ خرید لیا کیا حکم ہے۔ نیا پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں *المستفتی* غلام جیلانی نظامی سکونت مندسور مدھیہ پردیش *الجواب*: تجارت کی غرض سے خریدے گیے پلاٹ پر زکات ہے۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “الزکاۃ واجبۃ في عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتہا نصاباً من الورق والذہب، کذا فی الہدایۃ۔”(الفتاویٰ الہندیۃ ج ۱ص۱۷۹) علامہ محقق علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “أو في عرض تجارۃ قیمتہ نصاب من ذہب أو ورق۔ “(الدر المختار ج ۳ص۲۲۸) اس لیےصورتِ مسئولہ میں اگرچہ زید نے ایک سال میں ایک پلاٹ خریدا پھر سال گزرنے سے پہلےاس کو بیچ کر دوسرا خرید لیا ہو، جس دن زید کا سالِ زکاة مکمل ہوگا اس دن اس کی ملکیت میں جو بھی پلاٹ موجود ہو اس کی جو بھی قیمت (مارکیٹ ویلیو) ہو دیگر اموالِ زکات کی طرح اس پلاٹ کی قیمت کی بھی زکات ادا کردے۔ ۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ *کتبہ*:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔١۴/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٧/اپریل ٢٠٢١ء

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.