01
The questionSawaal
اصل سوالکالا لباس پہننا کیسا ہے ؟ | کیا کالا لباس پہننا ممنوع ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
کالا لباس پہننا کیسا ہے ؟ کیا کالا لباس پہننا ممنوع ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ” کیا فر ماتے ہیں علمائے دین کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کالا لباس پہننا کیسا ہے تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟ سائل : قاری اسرار احمد عطاری ضلع صحبت پور بلوچستان وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابـــــــــــ بعون الملک الوھّاب کالا لباس پہننا جائز ہے مگر سوگ کی نیت سے نہ ہو (حدیث شریف میں ہے) عن عائشة قالت صُنِعت لرسول اﷲ ﷺ بردۃ سوداء فلبِسھا فلما عرق فیھا وجد ریح الصوف فقذفھا” (سنن ابی داؤد ۷۴ ۴۰ صحیح) ترجمہ : اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے لئے ایک سیاہ اُونی چادر تیار کی گئی آپ نے اسے زیب تن فرمایا جب پسینہ آیا تو آپ نے اس میں اُون کی ناگوار بو محسوس کی تو آپ نے اِسے اُتار پھینکا” حدیث شریف میں ہے : عن جابر بن عبد اﷲ أن النبي ﷺ دخل یوم فتح مكة وعلیہ عمامة سوداء” ترجمہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ نبیﷺ فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا” (صحیح مسلم:۱۳۵۸) سید اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں ، کہ باقی رنگ فی نفسہٖ جائز ہیں کچے ہوں یا پکے ہاں اگر کوئی کسی عارض کی وجہ ممانعت ہو جائے تو وہ دوسری بات ہے جیسے ماتم کی وجہ سے سیاہ لباس پہنناحرام ہے۔کما فی الھندیۃ (جیسا کہ فتاوٰی ہندیہ میں ہے۔) بلکہ ماتم کے لئےکسی قسم کی تغییر وضع حرام ہے کما فی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ لعلی القاری. (جیسا کہ ملا علی قاری کی مرقاۃ شرح المشکوٰۃ میں ہے) ولہذا ایام محرم شریف میں سبز لباس جس طرح جاہلوں میں مروج ہے ناجائز وگناہ ہے۔اور اودا یا نیلا یا آبی یا سیاہ اور بدتر واخبث ہے۔کہ روافض کا شعار اور ان کی تشبہ ہے اس طرح ان ایام میں سرخ بھی ناصبی خبیث بہ نیت خوشی و شادی پہنتے ہیں یونہی ہولی کے دنوں میں چنریاں اور بسنت کے دنوں میں بسنتی کہ کفار ہنود کی رسم ہے” (فتاویٰ رضویہ جلد22صفحہ185- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ عالمگیری میں ہے) و لایجوز صبغ الثیاب اسود او اکھب تاسفا علی المیت🌹 یعنی میت پر افسوس کا اظہار کرنے کے لئے کالے یا مائل بہ کالے کپڑے پہننا جائز نہیں ہیں۔ (فتاویٰ عالمگیری- جلد5- صفحہ 333-دارالفکر بیروت) (احکام شریعت میں ہے) کہ محرم میں سیاہ اورسبزکپڑے علامت سوگ ہیں ، اورسوگ حرام ہے،خصوصاًسیاہ کہ شعار رافضیان لٹام ہے” احکام شریعت صفحہ144-مطبوعہ شبیر برادرز بہار شریعت میں ہے : کسی کے مرنے کے غم میں سیاہ کپڑے پہننا جائز نہیں، مگر عورت کو تین دن تک شوہر کے مرنے پر غم کی وجہ سے سیاہ کپڑے پہننا جائز ہے، اور سیاہ کپڑے غم ظاہر کرنے کے لیے نہ ہوں تو مطلقاً جائز ہیں- (بہارشریعت-حصہ 8-صفحہ 243، 244، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبہ ؛ ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.