Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #68
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.5K Views
کرونا بیماری سے مرنے والے کو غسل دینے کا حکم/ Death In Covid 19
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کرونا بیماری سے مرنے والے کو غسل دینے کا حکم/ Death In Covid 19
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کرونا بیماری سے مرنے والے کو غسل دینے کا حکم
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین کرونا کے میت کو غسل کس طرح کرانا چاہئےغسل کرنا ہے کہ نہیں . اگرکرانا ہو تو کیاحکم ہے؟ سائل حافظ سبطین رضا قادری ایوبی خانقاہ قادریہ ایوبیہ پپراکنک کشی نگر الجواب:کرونا بیماری سے مرنے والے کو غسل دینے کا حکم مرنے کے بعد مسلمان کو غسل دینا فرض کفایہ ہے . چاہے کسی بیماری سے اس کی موت ہوئی ہو یا طبعی موت ہوئی ہو، یہاں تک کہ اگر مسلمان مردہ دریا میں ملا ہو تب بھی اس کو غسل دینا یا اسی دریا میں غسل کی نیت سے حرکت دینا ضروری ہے ورنہ جتنے لوگوں کو اس کی موت کی اطلاع ہوئی سب گنہگار ہوں گے ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “میّت کو نہلانا فرض کفایہ ہے بعض لوگوں نے غسل دے دیا تو سب سے ساقط ہوگیا” . (بہار شریعت حصہ۴ ص٨١٠ ) اور تحریر فرماتے ہیں: “میّت سے غسل اُتر جانے اور اس پر نماز صحیح ہونے میں نیت اور فعل شرط نہیں . یہاں تک کہ مُردہ اگر پانی میں گِر گیا یا اس پر مینھ برسا کہ سارے بدن پر پانی بہہ گیا غسل ہوگیا . مگر زندوں پر جو غسلِ میّت واجب ہے یہ اس وقت بری الذّمہ ہوں گے کہ نہلائیں ۔ لہٰذا اگر مردہ پانی میں ملا تو بہ نیت غسل اُسے تین بار پانی میں حرکت دے دیں کہ غسل مسنون ادا ہوجائے اور ایک بار حرکت دی تو واجب ادا ہوگیا مگر سنّت کا مطالبہ رہا” (بہار شریعت حصہ ۴ ص٨١۴) کرونا کے مریض کو بھی غسل کا وہی طریقہ ہے جو دیگر میت کا ہے ۔ البتہ احتیاطی تدابیر جیسے دستانے، ماسک وغیرہ طبی تدابیر کا لحاظ بقدر اجازتِ شرع مناسب ہے ۔ اگر زیادہ خطرہ کا اندیشہ ہو تو جیسے بھی ممکن ہو اس کے بدن پر پانی بہادیں ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٢/اپریل ٢٠٢١ءAlimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi Basti
ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح کا حکم / نکاح کے مسائل
Kutubahu & Verified by:
<h2>کرونا بیماری سے مرنے والے کو غسل دینے کا حکم</h2> السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین کرونا کے میت کو غسل کس طرح کرانا چاہئےغسل کرنا ہے کہ نہیں . اگرکرانا ہو تو کیاحکم ہے؟ سائل حافظ سبطین رضا قادری ایوبی خانقاہ قادریہ ایوبیہ پپراکنک کشی نگر الجواب:کرونا بیماری سے مرنے والے کو غسل دینے کا حکم مرنے کے بعد مسلمان کو غسل دینا فرض کفایہ ہے . چاہے کسی بیماری سے اس کی موت ہوئی ہو یا طبعی موت ہوئی ہو، یہاں تک کہ اگر مسلمان مردہ دریا میں ملا ہو تب بھی اس کو غسل دینا یا اسی دریا میں غسل کی نیت سے حرکت دینا ضروری ہے ورنہ جتنے لوگوں کو اس کی موت کی اطلاع ہوئی سب گنہگار ہوں گے ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "میّت کو نہلانا فرض کفایہ ہے بعض لوگوں نے غسل دے دیا تو سب سے ساقط ہوگیا" . (بہار شریعت حصہ۴ ص٨١٠ ) اور تحریر فرماتے ہیں: "میّت سے غسل اُتر جانے اور اس پر نماز صحیح ہونے میں نیت اور فعل شرط نہیں . یہاں تک کہ مُردہ اگر پانی میں گِر گیا یا اس پر مینھ برسا کہ سارے بدن پر پانی بہہ گیا غسل ہوگیا . مگر زندوں پر جو غسلِ میّت واجب ہے یہ اس وقت بری الذّمہ ہوں گے کہ نہلائیں ۔ لہٰذا اگر مردہ پانی میں ملا تو بہ نیت غسل اُسے تین بار پانی میں حرکت دے دیں کہ غسل مسنون ادا ہوجائے اور ایک بار حرکت دی تو واجب ادا ہوگیا مگر سنّت کا مطالبہ رہا" (بہار شریعت حصہ ۴ ص٨١۴) کرونا کے مریض کو بھی غسل کا وہی طریقہ ہے جو دیگر میت کا ہے ۔ البتہ احتیاطی تدابیر جیسے دستانے، ماسک وغیرہ طبی تدابیر کا لحاظ بقدر اجازتِ شرع مناسب ہے ۔ اگر زیادہ خطرہ کا اندیشہ ہو تو جیسے بھی ممکن ہو اس کے بدن پر پانی بہادیں ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٢/اپریل ٢٠٢١ء <p style="text-align: left;"><strong>Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda Shahi Basti</strong></p> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=267" rel="bookmark">ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح کا حکم / نکاح کے مسائل</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...