Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1208
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.6K Views
کسی مسلمان کوکافر کہنے کا حکم / مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کسی مسلمان کوکافر کہنے کا حکم / مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کسی مسلمان کوکافر کہنے کا حکم / مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ. امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے ؟ کیا فرماتے مفتیان کرام و علمائے شرع عظام مسئلۂ ذیل میں, کہ! زید جو سنی مسلمان ہے بکر یہ بھی سنی مسلمان ہے, ان دونوں کے مابین کچھ پرانی ذاتی رنجش بھی ہے ایک دن باتوں باتوں میں زید نے بکر کو کہہ دیا کہ” تم تو ہندو ہو”اس بات پر بکر کا یہ کہنا کہ تم نےمجھے کافر کہا کیوں کہ” ہندو “کافر ہوتاہے اور زید کا کہنا ہے کہ میں نے تمہیں ہندو اس وجہ سے کہا ہے کہ تم داڑھی تراشواتے ہو اسلامی وضع قطع میں نہیں رہتے ہو. اس مسئلہ کے مدنظر شرع شریف کا کیا حکم ہے تفصیل بیان فرماکر عنداللہ ماجور ہوں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں… عبدالحفیظ قادری علیمی (ممبئی) الجواب بعون الملک الوھاب زید کے قول “میں نے تمہیں ہندو اس وجہ سے کہا ہے کہ تم داڑھی تراشواتے ہو اسلامی وضع قطع میں نہیں رہتے ہو”سے واضح ہے کہ اس نے بکر کو زجر و توبیخ یا سب وشتم کے طور پر ” ہندو” کہا ہے،وہ بکر کے ایمان کی نفی نہیں کررہا ہے، اس لئے زید پر حکم کفر عائد نہیں ہوگا، ہاں مسلمان کی دل آزاری کے سبب بکر سے معافی مانگے. فتاوی تاتار خانیہ میں ہے: “ولوقال لمسلم أجنبي: یا کافر، أو لأجنبیة: یاکافرة، ولم یقل المخاطب شیئاً، أو قال لامرأته: یا کافرة ولم تقل المرأة شیئاً … والمختار للفتوی في جنس هذه المسائل: أن القائل بمثل هذه المقالات إن کان أراد الشتم ولایعتقده کافراً لایکفر، وإن کان یعتقده کافراً فخاطبه بهذا بناءً علی اعتقاده أنه کافر یکفر”. (الفتاوی التاتارخانیة ۵۱۳/۵) درمختار مع رد المحتار میں ہے: “(وعزر) الشاتم (بيا كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافراً؟ نعم، وإلا لا، به يفتى، شرح وهبانية، ولو أجابه: لبيك، كفر، خلاصة. وفي التتارخانية: قيل: لايعزر ما لم يقل: يا كافر بالله؛ لأنه كافر بالطاغوت، فيكون محتملاً. (قوله: بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلماً لما يذكره بعد (قوله: إن اعتقد المسلم كافراً نعم) أي يكفر إن اعتقده كافراً لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة: المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولايعتقده كفراً لايكفر، وإن اعتقده كفراً فخاطبه بهذا بناءً على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافراً فقد اعتقد دين الإسلام كفراً”. (٤/ ٦٩) فتاوی شارح بخاری میں ہے: کیا فرماتے ہیں علماے دین مسئلہ ذیل میں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو تصادم کی وجہ سے کافر کہے اور یہ بھی کہے کہ کان پکڑ کر مسجد سے باہر کر دیں گے۔از روۓ شرع کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ اگر اس نے اس مسلمان کو گالی گلوج کے طور پر کافر کہا ہے جیسا کہ سوال میں ظاہر ہے تو کہنے والا گنہگار ہوا۔ کافر نہ ہوا ،اور اگر اس نے اعتقاد کر کے کافر کہا ہے تو کہنے والا خود کافر ہے ۔ جیسا کہ در مختار می ہے “و عزر الشاتم بیا کافر و هل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا نعم و إلا لا”( ٢/ ٣٧٩) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢١ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣/ ٢٥ جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
Kutubahu & Verified by:
<h2>کسی مسلمان کوکافر کہنے کا حکم / مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ. امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے ؟ کیا فرماتے مفتیان کرام و علمائے شرع عظام مسئلۂ ذیل میں, کہ! زید جو سنی مسلمان ہے بکر یہ بھی سنی مسلمان ہے, ان دونوں کے مابین کچھ پرانی ذاتی رنجش بھی ہے ایک دن باتوں باتوں میں زید نے بکر کو کہہ دیا کہ" تم تو ہندو ہو"اس بات پر بکر کا یہ کہنا کہ تم نےمجھے کافر کہا کیوں کہ" ہندو "کافر ہوتاہے اور زید کا کہنا ہے کہ میں نے تمہیں ہندو اس وجہ سے کہا ہے کہ تم داڑھی تراشواتے ہو اسلامی وضع قطع میں نہیں رہتے ہو. اس مسئلہ کے مدنظر شرع شریف کا کیا حکم ہے تفصیل بیان فرماکر عنداللہ ماجور ہوں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں... عبدالحفیظ قادری علیمی (ممبئی) <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> زید کے قول "میں نے تمہیں ہندو اس وجہ سے کہا ہے کہ تم داڑھی تراشواتے ہو اسلامی وضع قطع میں نہیں رہتے ہو"سے واضح ہے کہ اس نے بکر کو زجر و توبیخ یا سب وشتم کے طور پر " ہندو" کہا ہے،وہ بکر کے ایمان کی نفی نہیں کررہا ہے، اس لئے زید پر حکم کفر عائد نہیں ہوگا، ہاں مسلمان کی دل آزاری کے سبب بکر سے معافی مانگے. فتاوی تاتار خانیہ میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"ولوقال لمسلم أجنبي: یا کافر، أو لأجنبیة: یاکافرة، ولم یقل المخاطب شیئاً، أو قال لامرأته: یا کافرة ولم تقل المرأة شیئاً … والمختار للفتوی في جنس هذه المسائل: أن القائل بمثل هذه المقالات إن کان أراد الشتم ولایعتقده کافراً لایکفر، وإن کان یعتقده کافراً فخاطبه بهذا بناءً علی اعتقاده أنه کافر یکفر". (الفتاوی التاتارخانیة ۵۱۳/۵)</strong></span> <strong>درمختار مع رد المحتار میں ہے:</strong> <span style="color: #ff0000;"><strong>"(وعزر) الشاتم (بيا كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافراً؟ نعم، وإلا لا، به يفتى، شرح وهبانية، ولو أجابه: لبيك، كفر، خلاصة. وفي التتارخانية: قيل: لايعزر ما لم يقل: يا كافر بالله؛ لأنه كافر بالطاغوت، فيكون محتملاً.</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>(قوله: بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلماً لما يذكره بعد (قوله: إن اعتقد المسلم كافراً نعم) أي يكفر إن اعتقده كافراً لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة: المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولايعتقده كفراً لايكفر، وإن اعتقده كفراً فخاطبه بهذا بناءً على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافراً فقد اعتقد دين الإسلام كفراً". (٤/ ٦٩)</strong></span> فتاوی شارح بخاری میں ہے: کیا فرماتے ہیں علماے دین مسئلہ ذیل میں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو تصادم کی وجہ سے کافر کہے اور یہ بھی کہے کہ کان پکڑ کر مسجد سے باہر کر دیں گے۔از روۓ شرع کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> اگر اس نے اس مسلمان کو گالی گلوج کے طور پر کافر کہا ہے جیسا کہ سوال میں ظاہر ہے تو کہنے والا گنہگار ہوا۔ کافر نہ ہوا ،اور اگر اس نے اعتقاد کر کے کافر کہا ہے تو کہنے والا خود کافر ہے ۔ جیسا کہ در مختار می ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>"و عزر الشاتم بیا کافر و هل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا نعم و إلا لا"( ٢/ ٣٧٩)</strong></span> واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢١ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣/ ٢٥ جنوری ٢٠٢٢</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...