Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1814 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.5K Views

کسی چیز کو خرید کر قبضہ کرنے سے پہلے بیچنے کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کسی چیز کو خرید کر قبضہ کرنے سے پہلے بیچنے کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کسی چیز کو خرید کر قبضہ کرنے سے پہلے بیچنے کا حکم

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس ضرورت مند لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے گھر شادی ہے مگر مہمانوں کو کھلانے کے لئے وقت پر پیسہ نہیں ہے۔ اب زید اپنے روپے سے دوکاندار سے پچاس ہزار کا سامان خرید کر الگ کرا لیتا ہے اور ضرورت مند کو بول دیتا ہے فلاں دوکان آکر اپنا سامان لے جاو اور زید ضرورت مند کو بتاتا ہے یہ سامان مجھے پچاس ہزار کا پڑا ہے مگر میں آپ سے اس کے پچپن ہزار لونگا یعنی آپ سے پانچ ہزار روپے نفع حاصل کرونگا اور آپ مجھے یہ پچپن ہزار اتنی اتنی مدت تک دھیرے دھیرے ادا کرتے رہنا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کا ایسا کرنا صحیح ہے یا غلط؟ کہیں یہ سود تو نہیں؟جواب عنایت فرمائیں المستفتی:محمد عمران ساکن ناگپور الجوابـــــــــــــــــــ اگر زید خود یا اپنے کسی نائب کے ذریعہ ان سامانوں پر قبضہ کرلینے کے بعد ان خریدے ہوئے سامانوں کو دوکان دار کے پاس امانت رکھ دیتا ہے اور پھر ضرورت مند شخص سے نفع لے کر بیچ دینے کے بعد یہ کہتا ہے کہ تم یہ سب سامان فلاں کے پاس سے لے لو تو ایسا کرنا جائز ہے۔اور دام کے لیے قسط مقرر کرنا بھی جائز ہے۔ لیکن اگر زید اپنے قبضہ میں لیے بغیر ضرورت مند سے بیچ دیتا ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ نفع بالکل نہ لے یا خریدے گیے دام سے کم پر ہی بیچے۔ کیوں کہ منقول اشیاء کو خرید کر اس پر قبضہ کرنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “مِنْ حُكْمِ الْمَبِيعِ إذَا كَانَ مَنْقُولًا أَنْ لَا يَجُوزَ بَيْعُهُ قَبْلَ الْقَبْضِ۔”۔ (فتاوی عالم گیری کتاب البیوع، الباب الثانی، الفصل الثالث) قبضہ کی بعض صورتیں یہ ہیں: (١) خریدار نے اپنی بوری یا برتن بائع کو دی کہ اس میں سامان بھردے۔اور اس نے بھردیا۔ (٢) بیچنے والے نے خریدار کے سامنے سامان اس طرح لاکر رکھ دیا کہ چاہے تو ہاتھ بڑھاکر لے لے۔ بہار شریعت میں ہے: “غلّہ خریدا اور مشتری نے اپنی بوری بائع کودیدی اور کہہ دیا کہ اس میں ناپ یا تول کر بھر دے تو ایسا کردینے سے مشتری کا قبضہ ہوگیا بائع نے مشتری کے سامنے اُس میں بھرا ہو یا غیبت میں ۔دونوں صورتوں میں قبضہ ہوگیا اور اگر مشتری نے اپنی بوری نہیں دی بلکہ بائع سے کہا کہ تم اپنی بوری عاریت مجھے دو اور اُس میں ناپ یا تول کر بھر دو تو اگر مشتری کے سامنے بھر دیا قبضہ ہوگیا ورنہ نہیں۔یوں ہی تیل خریدا اور اپنی بوتل یا برتن دیکر کہا کہ اس میں تول دے اُس نے تول کر ڈال دیا قبضہ ہوگیا۔ یہی حکم ناپ اور تول کی ہر چیز کا ہے کہ مشتری کے برتن میں جب اس کے حکم سے رکھدی جائے گی قبضہ ہوجائے گا۔” (بہار شریعت ح ١١ص٦۴٦) اسی میں ہے: “بائع نے مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ کردیا کہ اگر وہ قبضہ کرنا چاہے کرسکے اور قبضہ سے کوئی چیز مانع نہ ہواور مبیع و مشتری کے درمیان کوئی شے حائل بھی نہ ہو تو مبیع پرقبضہ ہوگیا۔” (ایضا) اسی میں ہے: “سرکہ یا عرق وغیرہ خریدا اور بائع نے تخلیہ کردیا مشتری نے بوتلوں پرمُہر لگا کر بائع ہی کے یہاں چھوڑدیا تو قبضہ ہوگیا کہ وہ اگر ہلاک ہوگا مشتری کا نقصان ہوگا بائع کو اس سے تعلق نہ ہوگا۔” (بہار شریعت ح١١ص ٦۴٧) ایک شبہہ کا جواب: یہاں ایک شبہہ یہ ہوتا ہے کہ خریدار اگر خریدی ہوئی چیز بیچنے والے کے پاس امانت رکھ دے تو قبضہ درست نہیں ہوتا ہے۔ چناں چہ بہار شریعت میں ہے: “اگرخود بائع کے پاس امانت رکھی یا عاریت دیدی یا کرایہ پر دیدی یا بائع کو کچھ ثمن دیدیا اور کہدیا کہ ثمن کے مقابلہ میں مبیع کو تیرے پاس رہن رکھا تو ان سب صورتوں میں قبضہ نہ ہوا”۔(بہار شریعت ح١١ص٦۴٦) تو پھر خریدار کیسے بیچنے والے کے پاس امانت رکھ کر ضرورت مند سےبیچ سکتا ہے؟ تو اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ بہار شریعت میں مذکور اس مسئلہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر خریدار نے بذریعہ تخلیہ یا اپنے بوری یا برتن وغیرہ میں سامان لے کر قبضہ مکمل کرنے سے پہلے بیچنے والے کے پاس امانت رکھی تو بائع کے پاس محض یہ امانت رکھنا قبضہ نہیں ہوگا، ہاں! آگر بائع کو دوسرے کے پاس امانت کے طور پر دینے کو کہے تو امانت والے شخص کا قبضہ خریدار کا قبضہ ہوجائے گا۔جیسا کہ بہار شریعت میں مذکورہ بالا مسئلہ کے اوپر مذکور ہے: “مشتری نے مبیع کسی کے پاس امانت رکھدی یا عاریت دیدی یا بائع سے کہہ دیا کہ فلاں کو سُپرد کردے اُس نے سپرد کردی ان سب صورتوں میں مشتری کا قبضہ ہوگیا۔”(ایضا)۔ حاصل یہ ہے کہ منقول اشیاء پر قبضہ کرلینے سے پہلے ان کا بیچنا جائز نہیں ہے اور قبضہ سے پہلے اگر بیچی گئی چیز ہلاک و برباد ہوجائے تو وہ بیچنے والے کی برباد ہوتی ہے اور اگر دام لے چکا ہے واپس کرنا ہوگا۔رسول اکرم صلی اللہ تعالی تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “لا تبع مالیس عندک”(رواہ الترمذی) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٦/ذی الحجہ ١۴۴٣ھ// ١٦/جولائی ٢٠٢٢ء

دینی مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں

Kutubahu & Verified by:

<h3>کسی چیز کو خرید کر قبضہ کرنے سے پہلے بیچنے کا حکم</h3> السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے پاس ضرورت مند لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے گھر شادی ہے مگر مہمانوں کو کھلانے کے لئے وقت پر پیسہ نہیں ہے۔ اب زید اپنے روپے سے دوکاندار سے پچاس ہزار کا سامان خرید کر الگ کرا لیتا ہے اور ضرورت مند کو بول دیتا ہے فلاں دوکان آکر اپنا سامان لے جاو اور زید ضرورت مند کو بتاتا ہے یہ سامان مجھے پچاس ہزار کا پڑا ہے مگر میں آپ سے اس کے پچپن ہزار لونگا یعنی آپ سے پانچ ہزار روپے نفع حاصل کرونگا اور آپ مجھے یہ پچپن ہزار اتنی اتنی مدت تک دھیرے دھیرے ادا کرتے رہنا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ زید کا ایسا کرنا صحیح ہے یا غلط؟ کہیں یہ سود تو نہیں؟جواب عنایت فرمائیں المستفتی:محمد عمران ساکن ناگپور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــ</strong></span> اگر زید خود یا اپنے کسی نائب کے ذریعہ ان سامانوں پر قبضہ کرلینے کے بعد ان خریدے ہوئے سامانوں کو دوکان دار کے پاس امانت رکھ دیتا ہے اور پھر ضرورت مند شخص سے نفع لے کر بیچ دینے کے بعد یہ کہتا ہے کہ تم یہ سب سامان فلاں کے پاس سے لے لو تو ایسا کرنا جائز ہے۔اور دام کے لیے قسط مقرر کرنا بھی جائز ہے۔ لیکن اگر زید اپنے قبضہ میں لیے بغیر ضرورت مند سے بیچ دیتا ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے اگرچہ نفع بالکل نہ لے یا خریدے گیے دام سے کم پر ہی بیچے۔ کیوں کہ منقول اشیاء کو خرید کر اس پر قبضہ کرنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: "مِنْ حُكْمِ الْمَبِيعِ إذَا كَانَ مَنْقُولًا أَنْ لَا يَجُوزَ بَيْعُهُ قَبْلَ الْقَبْضِ۔"۔ (فتاوی عالم گیری کتاب البیوع، الباب الثانی، الفصل الثالث) قبضہ کی بعض صورتیں یہ ہیں: (١) خریدار نے اپنی بوری یا برتن بائع کو دی کہ اس میں سامان بھردے۔اور اس نے بھردیا۔ (٢) بیچنے والے نے خریدار کے سامنے سامان اس طرح لاکر رکھ دیا کہ چاہے تو ہاتھ بڑھاکر لے لے۔ بہار شریعت میں ہے: "غلّہ خریدا اور مشتری نے اپنی بوری بائع کودیدی اور کہہ دیا کہ اس میں ناپ یا تول کر بھر دے تو ایسا کردینے سے مشتری کا قبضہ ہوگیا بائع نے مشتری کے سامنے اُس میں بھرا ہو یا غیبت میں ۔دونوں صورتوں میں قبضہ ہوگیا اور اگر مشتری نے اپنی بوری نہیں دی بلکہ بائع سے کہا کہ تم اپنی بوری عاریت مجھے دو اور اُس میں ناپ یا تول کر بھر دو تو اگر مشتری کے سامنے بھر دیا قبضہ ہوگیا ورنہ نہیں۔یوں ہی تیل خریدا اور اپنی بوتل یا برتن دیکر کہا کہ اس میں تول دے اُس نے تول کر ڈال دیا قبضہ ہوگیا۔ یہی حکم ناپ اور تول کی ہر چیز کا ہے کہ مشتری کے برتن میں جب اس کے حکم سے رکھدی جائے گی قبضہ ہوجائے گا۔" (بہار شریعت ح ١١ص٦۴٦) اسی میں ہے: "بائع نے مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ کردیا کہ اگر وہ قبضہ کرنا چاہے کرسکے اور قبضہ سے کوئی چیز مانع نہ ہواور مبیع و مشتری کے درمیان کوئی شے حائل بھی نہ ہو تو مبیع پرقبضہ ہوگیا۔" (ایضا) اسی میں ہے: "سرکہ یا عرق وغیرہ خریدا اور بائع نے تخلیہ کردیا مشتری نے بوتلوں پرمُہر لگا کر بائع ہی کے یہاں چھوڑدیا تو قبضہ ہوگیا کہ وہ اگر ہلاک ہوگا مشتری کا نقصان ہوگا بائع کو اس سے تعلق نہ ہوگا۔" (بہار شریعت ح١١ص ٦۴٧) ایک شبہہ کا جواب: یہاں ایک شبہہ یہ ہوتا ہے کہ خریدار اگر خریدی ہوئی چیز بیچنے والے کے پاس امانت رکھ دے تو قبضہ درست نہیں ہوتا ہے۔ چناں چہ بہار شریعت میں ہے: "اگرخود بائع کے پاس امانت رکھی یا عاریت دیدی یا کرایہ پر دیدی یا بائع کو کچھ ثمن دیدیا اور کہدیا کہ ثمن کے مقابلہ میں مبیع کو تیرے پاس رہن رکھا تو ان سب صورتوں میں قبضہ نہ ہوا"۔(بہار شریعت ح١١ص٦۴٦) تو پھر خریدار کیسے بیچنے والے کے پاس امانت رکھ کر ضرورت مند سےبیچ سکتا ہے؟ تو اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ بہار شریعت میں مذکور اس مسئلہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر خریدار نے بذریعہ تخلیہ یا اپنے بوری یا برتن وغیرہ میں سامان لے کر قبضہ مکمل کرنے سے پہلے بیچنے والے کے پاس امانت رکھی تو بائع کے پاس محض یہ امانت رکھنا قبضہ نہیں ہوگا، ہاں! آگر بائع کو دوسرے کے پاس امانت کے طور پر دینے کو کہے تو امانت والے شخص کا قبضہ خریدار کا قبضہ ہوجائے گا۔جیسا کہ بہار شریعت میں مذکورہ بالا مسئلہ کے اوپر مذکور ہے: "مشتری نے مبیع کسی کے پاس امانت رکھدی یا عاریت دیدی یا بائع سے کہہ دیا کہ فلاں کو سُپرد کردے اُس نے سپرد کردی ان سب صورتوں میں مشتری کا قبضہ ہوگیا۔"(ایضا)۔ حاصل یہ ہے کہ منقول اشیاء پر قبضہ کرلینے سے پہلے ان کا بیچنا جائز نہیں ہے اور قبضہ سے پہلے اگر بیچی گئی چیز ہلاک و برباد ہوجائے تو وہ بیچنے والے کی برباد ہوتی ہے اور اگر دام لے چکا ہے واپس کرنا ہوگا۔رسول اکرم صلی اللہ تعالی تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لا تبع مالیس عندک"(رواہ الترمذی) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٦/ذی الحجہ ١۴۴٣ھ// ١٦/جولائی ٢٠٢٢ء</strong></span> <h4><a href="https://www.sadaeislam.in/">دینی مضامین پڑھنے کے لئے کلک کریں</a></h4>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...