Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1979 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.2K Views

کسی کافر کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کسی کافر کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کسی کافر کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم. کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع کہ چند آدمیوں نے ایک ہندو کی موت پر اسکی مغفرت کی دعا کی اور اس کے وسیلہ سے اپنی برادری کیلئے دعا کی کیا انکا ایمان اور نکاح باقی ہیں . المستفتی: محمد انوار نعیمی فتحپوری الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب کسی ہندو(غیر مسلم) کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور اس کے وسیلے سے دعا کرنا کفر خالص وتکذیب قرآن مجید ہے، جن لوگوں نے بھی ایسا قبیح فعل کیا ہے ان پر لازم ہے کہ توبہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح کریں، اگر کسی پیر سنی صحیح العقیدہ سے بیعت ہوئے ہوں تو تجدید بیعت بھی کریں اور آئندہ ایسے برے کاموں سے بچنے کا پختہ عہد کریں- فتاوی رضویہ میں حلیتہ المحلی کے حوالہ سے ہے: “صرح الشيخ شهاب الدين القرافى المالكى بان الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به”( فتاوی رضویہ مترجم ،ج ۲۹ ص ۷۳۹/برکات رضا پوربندر گجرات) ردالمحتار میں ہے: “الدعاء به كفر لعدم جوازه عقلا ولا شرعا ولتكذيب النصوص القطعية بخلاف الدعاء للمؤمنين كما علمت فالحق ما فى الحلية”(ج ۱ ص ۳۵۱/ کتاب الصلوة،فصل واذا اراد الشروع فى الصلوة/دار احیاء التراث العربی بیروت) فتاوی رضویہ میں ہے: “کافر کے لیے دعاء مغفرت یا فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیب قرآن عظیم ہے”(ج ۲۱ مترجم ص ۲۲۸/برکات رضا پور بندر گجرات) بہار شریعت میں ہے: “جو کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے،یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور کہے، یا کسی مردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی کہے، وہ خود کافر ہے”(ج ۱ ح ۱ص ۱۸۵/ مكتبة المدينة دعوت اسلامی)واللہ تعالی أعلم بالصواب واليه المرجع والمآب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

Kutubahu & Verified by:

<h1><span style="font-size: 14pt;">کسی کافر کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کیسا ہے؟</span></h1> <span style="font-size: 14pt;">السلام علیکم. کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع کہ چند آدمیوں نے ایک ہندو کی موت پر اسکی مغفرت کی دعا کی اور اس کے وسیلہ سے اپنی برادری کیلئے دعا کی کیا انکا ایمان اور نکاح باقی ہیں .</span> <span style="font-size: 14pt;">المستفتی: محمد انوار نعیمی فتحپوری</span> <span style="color: #ff0000;"><strong><span style="font-size: 14pt;">الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب</span></strong></span> <span style="font-size: 14pt;"> کسی ہندو(غیر مسلم) کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور اس کے وسیلے سے دعا کرنا کفر خالص وتکذیب قرآن مجید ہے، جن لوگوں نے بھی ایسا قبیح فعل کیا ہے ان پر لازم ہے کہ توبہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح کریں، اگر کسی پیر سنی صحیح العقیدہ سے بیعت ہوئے ہوں تو تجدید بیعت بھی کریں اور آئندہ ایسے برے کاموں سے بچنے کا پختہ عہد کریں-</span> <span style="font-size: 14pt;">فتاوی رضویہ میں حلیتہ المحلی کے حوالہ سے ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">"صرح الشيخ شهاب الدين القرافى المالكى بان الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به"( فتاوی رضویہ مترجم ،ج ۲۹ ص ۷۳۹/برکات رضا پوربندر گجرات)</span> <span style="font-size: 14pt;">ردالمحتار میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">"الدعاء به كفر لعدم جوازه عقلا ولا شرعا ولتكذيب النصوص القطعية بخلاف الدعاء للمؤمنين كما علمت فالحق ما فى الحلية"(ج ۱ ص ۳۵۱/ کتاب الصلوة،فصل واذا اراد الشروع فى الصلوة/دار احیاء التراث العربی بیروت)</span> <span style="font-size: 14pt;">فتاوی رضویہ میں ہے:</span> <span style="font-size: 14pt;">"کافر کے لیے دعاء مغفرت یا فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیب قرآن عظیم ہے"(ج ۲۱ مترجم ص ۲۲۸/برکات رضا پور بندر گجرات)</span> <span style="font-size: 14pt;">بہار شریعت میں ہے: </span> <span style="font-size: 14pt;">"جو کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے،یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور کہے، یا کسی مردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی کہے، وہ خود کافر ہے"(ج ۱ ح ۱ص ۱۸۵/ مكتبة المدينة دعوت اسلامی)واللہ تعالی أعلم بالصواب واليه المرجع والمآب</span> <strong><span style="font-size: 14pt;">کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر</span></strong> <strong><span style="font-size: 14pt;">الجواب صحیح :</span><span style="font-size: 14pt;">محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی</span></strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...