Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #660 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.1K Views

کسی کو پیر بنانےکیلئے کتنی شرطیں لازم ہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کسی کو پیر بنانےکیلئے کتنی شرطیں لازم ہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کسی کو پیر بنانےکیلئے کتنی شرطیں لازم ہیں؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــ کسی کو بھی پیر بنانے سے پہلے اس میں چار شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے, ان میں سے ایک بھی شرط نہ پائی گئی تو ایسے شخص کا مرید ہونا ہرگز جائز نہیں۔ وہ چارشرطیں یہ ہیں : 1-عقیدہ صحیح ہو (یعنی سنی ہو) 2-علم صحیح ہو (یعنی عالم ہو) 3-عمل صحیح ہو (یعنی فاسق نہ ہو) 4-نسبت صحیح ہو (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ ملاہواہو) ۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : بیعت لینےاور مسندارشاد پربیٹھنے کے لیے چار شرطیں ضروری ہیں : ایک: یہ کہ سنّی صحیح العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذھب دوزخ کے لئے کتے ہیں اور بدترین مخلوق, جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔ دوسری: شرط ضروری علم کا ہونا, اس لیے کہ بےعلم خدا کو پہچان نہیں سکتا ۔ تیسری: یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا اس لئے کہ فاسق کی توہین واجب ہے اور مرشد واجب التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکٹھی ہوں گی ۔ چوتھی : اجازت صحیح متصل ہو, جیسا کہ اس پر اہل باطن کا اجماع ہے ۔ جس شخص میں ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہیے ۔ (فتاوی رضویۃ جلد 21 صفحہ 492 رضافاؤنڈیشن لاہور ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>کسی کو پیر بنانےکیلئے کتنی شرطیں لازم ہیں؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong></span> کسی کو بھی پیر بنانے سے پہلے اس میں چار شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے, ان میں سے ایک بھی شرط نہ پائی گئی تو ایسے شخص کا مرید ہونا ہرگز جائز نہیں۔ وہ چارشرطیں یہ ہیں : 1-عقیدہ صحیح ہو (یعنی سنی ہو) 2-علم صحیح ہو (یعنی عالم ہو) 3-عمل صحیح ہو (یعنی فاسق نہ ہو) 4-نسبت صحیح ہو (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلہ ملاہواہو) ۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے : بیعت لینےاور مسندارشاد پربیٹھنے کے لیے چار شرطیں ضروری ہیں : <strong>ایک:</strong> یہ کہ سنّی صحیح العقیدہ ہو اس لئے کہ بدمذھب دوزخ کے لئے کتے ہیں اور بدترین مخلوق, جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ۔ <strong>دوسری:</strong> شرط ضروری علم کا ہونا, اس لیے کہ بےعلم خدا کو پہچان نہیں سکتا ۔ <strong>تیسری:</strong> یہ کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرنا اس لئے کہ فاسق کی توہین واجب ہے اور مرشد واجب التعظیم ہے دونوں چیزیں کیسے اکٹھی ہوں گی ۔ <strong>چوتھی :</strong> اجازت صحیح متصل ہو, جیسا کہ اس پر اہل باطن کا اجماع ہے ۔ جس شخص میں ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط نہ ہو تو اس کو پیر نہیں پکڑنا چاہیے ۔ (فتاوی رضویۃ جلد 21 صفحہ 492 رضافاؤنڈیشن لاہور ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...