Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1703 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.7K Views

کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علماۓ فحول و مفتیان ذوی العقول مسئلۂ ذیل میں : اگر کسی شخص کے پاس ۵ لاکھ (lakh) ہو اور اس نے ایک لاکھ لون loan لے لیا ، جس کو پانچ ہزار ماہانہ بطور قسط ایک لاکھ ہزار بھرنا ہے۔تو اسے زکوٰۃ کتنے روپیہ میں نکالنا پڑے گا ؟ الجوابـــــــــــــــــ اگر سالِ زکاة مکمل ہونے کے بعد لون لیا ہو تب تو اس لون کا کوئی اثر گزشتہ سال کی زکاة پر مرتب نہیں ہوگا، بلکہ سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے پاس جتنا مالِ زکاة ہو سب کی زکاة ادا کرے۔اس لون کی وجہ سے گزشتہ سال کی زکاة کچھ کم نہ ہوگی۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “ھذا اذا کان الدین فی ذمتہ قبل وجوب الزکاة، فلو لحقہ بعدہ لم تسقط الزکاة؛ لانھا ثبتت فی ذمتہ فلا یسقطھا ما لحق من الدین بعد ثبوتھا” (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الزکاة، ج٣ ص١٧٦) اور اگر سالِ زکاة مکمل ہونے سے پہلے ایک لاکھ لون لیا ہے تو اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے یہ پانچ لاکھ اپنے اور ایک لاکھ لون والے موجود ہیں تو پورے پانچ لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔کیوں کہ بینک کے ایک لاکھ لون پر قرض ہونے کی وجہ سے اس پر زکاة نہیں ہے۔ اور اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر مثلا چار لاکھ بچے تو اصلی ایک لاکھ لون میں سے جتنا بینک کا اُس پر اِس وقت واجب الادا ہے اتنا کم کرکے چار لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔ مان لیجیے مثال کے طور پر بیس رمضان المبارک کو اس کا سال زکاة مکمل ہوتا ہے اور اُس تاریخ کو اُس کے پاس چار لاکھ بچے ہیں۔اور اِس تاریخ سے پہلے اس نے اصل لون میں میں سے چالیس ہزار بینک کو ادا کردیا ہے۔تو ساٹھ ہزار جو اصل لون میں سے اس پر باقی ہے اتنی رقم کم کرکے تین لاکھ چالیس ہزار کی زکاة ادا کرنی ہوگی۔لیکن وہ انٹرسٹ جو لون پر اس کو بینک کو دینا ہے اس کو موجودہ رقم سے کم نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ وہ ایک ناجائز رقم ہے جس کی ادائیگی بینک کے قانون کے مطابق اگرچہ ضروری ہو، لیکن شرعاً وہ واجب الادا نہیں، اس لیے انٹرسٹ کی رقم کو دین مان کر وہ مقدار کم نہیں کی جائے گی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١۵/اپریل ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h3>کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟</h3> السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علماۓ فحول و مفتیان ذوی العقول مسئلۂ ذیل میں : اگر کسی شخص کے پاس ۵ لاکھ (lakh) ہو اور اس نے ایک لاکھ لون loan لے لیا ، جس کو پانچ ہزار ماہانہ بطور قسط ایک لاکھ ہزار بھرنا ہے۔تو اسے زکوٰۃ کتنے روپیہ میں نکالنا پڑے گا ؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> اگر سالِ زکاة مکمل ہونے کے بعد لون لیا ہو تب تو اس لون کا کوئی اثر گزشتہ سال کی زکاة پر مرتب نہیں ہوگا، بلکہ سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے پاس جتنا مالِ زکاة ہو سب کی زکاة ادا کرے۔اس لون کی وجہ سے گزشتہ سال کی زکاة کچھ کم نہ ہوگی۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "ھذا اذا کان الدین فی ذمتہ قبل وجوب الزکاة، فلو لحقہ بعدہ لم تسقط الزکاة؛ لانھا ثبتت فی ذمتہ فلا یسقطھا ما لحق من الدین بعد ثبوتھا" (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الزکاة، ج٣ ص١٧٦) اور اگر سالِ زکاة مکمل ہونے سے پہلے ایک لاکھ لون لیا ہے تو اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے یہ پانچ لاکھ اپنے اور ایک لاکھ لون والے موجود ہیں تو پورے پانچ لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔کیوں کہ بینک کے ایک لاکھ لون پر قرض ہونے کی وجہ سے اس پر زکاة نہیں ہے۔ اور اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر مثلا چار لاکھ بچے تو اصلی ایک لاکھ لون میں سے جتنا بینک کا اُس پر اِس وقت واجب الادا ہے اتنا کم کرکے چار لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔ مان لیجیے مثال کے طور پر بیس رمضان المبارک کو اس کا سال زکاة مکمل ہوتا ہے اور اُس تاریخ کو اُس کے پاس چار لاکھ بچے ہیں۔اور اِس تاریخ سے پہلے اس نے اصل لون میں میں سے چالیس ہزار بینک کو ادا کردیا ہے۔تو ساٹھ ہزار جو اصل لون میں سے اس پر باقی ہے اتنی رقم کم کرکے تین لاکھ چالیس ہزار کی زکاة ادا کرنی ہوگی۔لیکن وہ انٹرسٹ جو لون پر اس کو بینک کو دینا ہے اس کو موجودہ رقم سے کم نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ وہ ایک ناجائز رقم ہے جس کی ادائیگی بینک کے قانون کے مطابق اگرچہ ضروری ہو، لیکن شرعاً وہ واجب الادا نہیں، اس لیے انٹرسٹ کی رقم کو دین مان کر وہ مقدار کم نہیں کی جائے گی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١۵/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...