Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1527
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.7K Views
کلمہ، درود یا آیات قرآنیہ کو اس طرح لکھنا کہ جاندار کی تصویر بن جائے جائز نہیں
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کلمہ، درود یا آیات قرآنیہ کو اس طرح لکھنا کہ جاندار کی تصویر بن جائے جائز نہیں
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کلمہ، درود یا آیات قرآنیہ کو اس طرح لکھنا کہ جاندار کی تصویر بن جائے جائز نہیں
ایک شیر کی تصویر بنی ہوتی ہے اور اسی میں کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے تو کیا اس تصویر کو گھر میں رکھنا جائز ہے اور کیا شیر کی شکل میں کلمہ وغیرہ لکھنا درست ہے؟ حضرت مہربانی ہوگی جواب عنایت فرماکر قلب کو مسرور کریں اور ثواب کے مستحق ہوں۔ المستفتی محمد عیاض نظامی ۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں شیر کی شکل میں کلمہ درود اور آیات قرآنیہ وغیرہ لکھنا جاندار کی صورت گری کی وجہ سے حرام ہے مزید برآں شی معظم کا استخفاف بھی ہے۔ حدیث شریف میں ہے : ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً “. اھ ( صحيح البخاري ، كِتَابٌ : اللِّبَاسُ ، بَابُ نَقْضِ الصُّوَرِ. رقم الحديث: 5953 ) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک ذرہ پیدا کرے۔ دوسری حدیث میں ہے: ” قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ “. اھ ( صحيح البخاري ، كِتَابٌ : الْأَدَبُ ، بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لِأَمْرِ اللَّهِ، وَقَالَ اللَّهُ : جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ. رقم الحدیث: 6109 ) یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا، جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔“ علامہ شامی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ” قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا، انتهى. وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ ( رد المحتار علی الدر المختار ، جلد 2 صفحہ 416 ، كتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ) کتاب مجلس شرعی کے فیصلے 395 پر ہے: ” قرآنی آیات اسم جلالت اسم رسالت یا متفرق کلمات قرآنی یا غیر قرآنی کو اس طرح بنانا کہ کسی جاندار کی تصویر بن جائے یہ جاندار کی صورت گری کی وجہ سے نہ حرام و نا جائز ہے مزید برآں شی معظم کا استخفاف بھی ہے ” اھ ۔ اور جاندار کی تصویر عزت سے گھر میں رکھنا بھی حرام ہے جس گھر میں جاندار کی تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے۔ حدیث شریف میں ہے : ” ان الملائکۃ لاتدخل بیتا فیہ صورۃ “ ۔(الصحیح البخاری ، کتاب البدء الخلق ، باب اذا قال احدکم اٰمین الخ ، جلد 1 ، صفحہ 179 ، مطبوعہ کراچی ) یعنی : جس گھر میں تصویر ہو ، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ”ولا یجوز ان یعلق فی موضع شیئا فیہ صورۃ ذات روح “ ( الفتاویٰ الھندیہ ، کتاب الکراھیۃ ، الباب العشرون فی الزینۃ واتخاذ الخادم للخدمة ، جلد 5 ، صفحہ 439 ، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت لبنان ) یعنی کسی بھی جگہ ایسی چیز لٹکانا ، جائز نہیں ہے ، جس میں جاندار کی تصویر ہو ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریر فرماتے ہیں :”حضور سرور عالم صلی للہ تعالی علیہ وسلم نے ذی روح کی تصویر بنانا ،بنوانا، اعزازاً اپنے پاس رکھنا سب حرام فرمایا ہے اوراس پر سخت سخت وعیدیں ارشاد کیں اور ان کے دور کرنے ، مٹانے کاحکم دیا؛ احادیث اس بارے میں حدِ تواترپر ہیں۔“( فتاویٰ رضویہ ، جلد 21 ، صفحہ 426 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور ) بحر العلوم مفتی عبد المنان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: “کسی بھی ذی روح کی تصویر رکھنا حرام ہے ۔ ” ( فتاویٰ بحر العلوم ، جلد 5 ، صفحہ 507 ، مطبوعہ شبیر برادرز ، لاھور ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
Kutubahu & Verified by:
<h3>کلمہ، درود یا آیات قرآنیہ کو اس طرح لکھنا کہ جاندار کی تصویر بن جائے جائز نہیں</h3> ایک شیر کی تصویر بنی ہوتی ہے اور اسی میں کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے تو کیا اس تصویر کو گھر میں رکھنا جائز ہے اور کیا شیر کی شکل میں کلمہ وغیرہ لکھنا درست ہے؟ حضرت مہربانی ہوگی جواب عنایت فرماکر قلب کو مسرور کریں اور ثواب کے مستحق ہوں۔ المستفتی محمد عیاض نظامی ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> صورت مستفسرہ میں شیر کی شکل میں کلمہ درود اور آیات قرآنیہ وغیرہ لکھنا جاندار کی صورت گری کی وجہ سے حرام ہے مزید برآں شی معظم کا استخفاف بھی ہے۔ حدیث شریف میں ہے : " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً ". اھ ( صحيح البخاري ، كِتَابٌ : اللِّبَاسُ ، بَابُ نَقْضِ الصُّوَرِ. رقم الحديث: 5953 ) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک ذرہ پیدا کرے۔ دوسری حدیث میں ہے: " قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ ". اھ ( صحيح البخاري ، كِتَابٌ : الْأَدَبُ ، بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لِأَمْرِ اللَّهِ، وَقَالَ اللَّهُ : جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ. رقم الحدیث: 6109 ) یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا، جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔“ علامہ شامی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں: " قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا، انتهى. وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ ( رد المحتار علی الدر المختار ، جلد 2 صفحہ 416 ، كتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ) کتاب مجلس شرعی کے فیصلے 395 پر ہے: " قرآنی آیات اسم جلالت اسم رسالت یا متفرق کلمات قرآنی یا غیر قرآنی کو اس طرح بنانا کہ کسی جاندار کی تصویر بن جائے یہ جاندار کی صورت گری کی وجہ سے نہ حرام و نا جائز ہے مزید برآں شی معظم کا استخفاف بھی ہے " اھ ۔ اور جاندار کی تصویر عزت سے گھر میں رکھنا بھی حرام ہے جس گھر میں جاندار کی تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے۔ حدیث شریف میں ہے : ” ان الملائکۃ لاتدخل بیتا فیہ صورۃ “ ۔(الصحیح البخاری ، کتاب البدء الخلق ، باب اذا قال احدکم اٰمین الخ ، جلد 1 ، صفحہ 179 ، مطبوعہ کراچی ) یعنی : جس گھر میں تصویر ہو ، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ”ولا یجوز ان یعلق فی موضع شیئا فیہ صورۃ ذات روح “ ( الفتاویٰ الھندیہ ، کتاب الکراھیۃ ، الباب العشرون فی الزینۃ واتخاذ الخادم للخدمة ، جلد 5 ، صفحہ 439 ، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت لبنان ) یعنی کسی بھی جگہ ایسی چیز لٹکانا ، جائز نہیں ہے ، جس میں جاندار کی تصویر ہو ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریر فرماتے ہیں :”حضور سرور عالم صلی للہ تعالی علیہ وسلم نے ذی روح کی تصویر بنانا ،بنوانا، اعزازاً اپنے پاس رکھنا سب حرام فرمایا ہے اوراس پر سخت سخت وعیدیں ارشاد کیں اور ان کے دور کرنے ، مٹانے کاحکم دیا؛ احادیث اس بارے میں حدِ تواترپر ہیں۔“( فتاویٰ رضویہ ، جلد 21 ، صفحہ 426 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور ) بحر العلوم مفتی عبد المنان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: "کسی بھی ذی روح کی تصویر رکھنا حرام ہے ۔ " ( فتاویٰ بحر العلوم ، جلد 5 ، صفحہ 507 ، مطبوعہ شبیر برادرز ، لاھور ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...