Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #729 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10K Views

کلمہ کفر بک دینے کے بعد نکاح باقی رہے گا یا نہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کلمہ کفر بک دینے کے بعد نکاح باقی رہے گا یا نہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کلمہ کفر بک دینے کے بعد نکاح باقی رہے گا یا نہیں ؟

سوال :کلمہ کفر بک دینے کے بعد نکاح باقی رہے گا یا نہیں اور اس کے بعد زوجین ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، یا نہیں اور اگر ساتھ رہتے ہیں تو کون سا گناہ ہوگا مطلع فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ کلمہ کفر بک دینے سے آدمی کافر و مرتد ہو جاتا ہے اور اس کے باعث نکاح فوراً فسخ ہوجاتا ہے یعنی فسخ کے لئے قضاے قاضی کی حاجت نہیں۔ فقہ کا یہ جزیہ : ارتداد أحدهما فسخ عاجل ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی کلمہ کفر بک دے ، اور کافر یا مرتد ہو جائے تو اس کا نکاح فوراً فسخ ہو جائے گا۔اور اس نکاح کے فسخ ہونے کے لئے قاضی کے یہاں دعویٰ کرنے پھر اس کے فسخ کرنے کی حاجت نہیں ۔ بہت سی ایسی صورتیں ہوتی ہیں جن میں نکاح فسخ ہوتا ہے مگر فسخ کا نفاذ اس وقت ہوتا ہے جب مقدمہ قاضی کے وہاں جائے ۔ قاضی سماعت کر کے فیصلہ کرے تب جا کر وہ فسخ ہوگا یعنی نکاح ختم ہوگا ۔ مگر یہاں تو کلمئہ کفر بکا اور نکاح سے خارج ہوگیا اب نہ یہ میاں میاں رہے اور نہ بیوی بیوی رہی ۔ تو ایسی صورت میں دونوں کا ایک ساتھ رہنا حرام و گناہ ہے ۔ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہو گئے ۔ اگر اس کے باوجود دونوں ایک ساتھ رہتے ہیں تو جمع حلال نہ ہوگا ، بلکہ حرام ہوگا۔ حرام بھی ایسا حرام کہ اس کو زنا کہیں گے اور اولاد حرامی ہوگی ۔ اگر اسلامی حکومت ہوتی تو ایسے کو سخت سزا دی جاتی ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر 

Kutubahu & Verified by:

<h2>کلمہ کفر بک دینے کے بعد نکاح باقی رہے گا یا نہیں ؟</h2> سوال :کلمہ کفر بک دینے کے بعد نکاح باقی رہے گا یا نہیں اور اس کے بعد زوجین ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ، یا نہیں اور اگر ساتھ رہتے ہیں تو کون سا گناہ ہوگا مطلع فرمائیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> کلمہ کفر بک دینے سے آدمی کافر و مرتد ہو جاتا ہے اور اس کے باعث نکاح فوراً فسخ ہوجاتا ہے یعنی فسخ کے لئے قضاے قاضی کی حاجت نہیں۔ فقہ کا یہ جزیہ :<span style="color: #ff0000;"><strong> ارتداد أحدهما فسخ عاجل</strong></span> ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی کلمہ کفر بک دے ، اور کافر یا مرتد ہو جائے تو اس کا نکاح فوراً فسخ ہو جائے گا۔اور اس نکاح کے فسخ ہونے کے لئے قاضی کے یہاں دعویٰ کرنے پھر اس کے فسخ کرنے کی حاجت نہیں ۔ بہت سی ایسی صورتیں ہوتی ہیں جن میں نکاح فسخ ہوتا ہے مگر فسخ کا نفاذ اس وقت ہوتا ہے جب مقدمہ قاضی کے وہاں جائے ۔ قاضی سماعت کر کے فیصلہ کرے تب جا کر وہ فسخ ہوگا یعنی نکاح ختم ہوگا ۔ مگر یہاں تو کلمئہ کفر بکا اور نکاح سے خارج ہوگیا اب نہ یہ میاں میاں رہے اور نہ بیوی بیوی رہی ۔ تو ایسی صورت میں دونوں کا ایک ساتھ رہنا حرام و گناہ ہے ۔ کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہو گئے ۔ اگر اس کے باوجود دونوں ایک ساتھ رہتے ہیں تو جمع حلال نہ ہوگا ، بلکہ حرام ہوگا۔ حرام بھی ایسا حرام کہ اس کو زنا کہیں گے اور اولاد حرامی ہوگی ۔ اگر اسلامی حکومت ہوتی تو ایسے کو سخت سزا دی جاتی ۔ والله تعالى اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...