Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #846 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.4K Views

کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہﷺ قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہﷺ قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہﷺ قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟

سوال : کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اسے کیا سمجھنا چاہیے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ دعا اللہ قبول کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے اللہ ضرور قبول فرماتا ہے ۔ دعا کا معنی ہے مانگنا، اللہ سے مانگنے کو دعا کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگنے کو استغاثہ اور مدد چاہنا کہتے ہیں ۔ قائل کی مراد یہ ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگو تمہاری مراد پوری ہو سکتی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کا لفظ نہیں بولنا چاہیے بلکہ آپ سے مانگنے کا لفظ بولنا چاہیے، قائل آئندہ احتیاط کرے۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h3>کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہﷺ قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟</h3> سوال : کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اسے کیا سمجھنا چاہیے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــ</strong></span> دعا اللہ قبول کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے اللہ ضرور قبول فرماتا ہے ۔ دعا کا معنی ہے مانگنا، اللہ سے مانگنے کو دعا کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگنے کو <em><a href="https://masailworld.com/nabiyon-aur-wallyon-se-madad-talab-karna/" target="_blank" rel="noopener">استغاثہ اور مدد</a></em> چاہنا کہتے ہیں ۔ قائل کی مراد یہ ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگو تمہاری مراد پوری ہو سکتی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کا لفظ نہیں بولنا چاہیے بلکہ آپ سے مانگنے کا لفظ بولنا چاہیے، قائل آئندہ احتیاط کرے۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...