Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟

کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟
Reference 1374 September 18, 2025 6,655 views
اصل سوالکہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟

کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- از: ذکی اللہ ، جگر ناتھ پور، بستی سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید اور اس کی بیوی ہندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تو زید نے ہندہ کو مارا ہندہ نے زید کو گالی دیتے ہوئے مارا اور اس کی داڑھی پکڑ کر نوچ لیا اس پر زید نے کہا کہ اگر میں تجھے رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں۔ کچھ دنوں بعد زید و ہندہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ زید کا اپنی بیوی ہندہ سے یہ کہنا کہ ” اگر میں تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں” یہ الفاظ طلاق سے نہیں اور نہ ہی عند الشرع قسم ہے ۔ ایسا ہی فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ 186 میں ہے لہٰذا ہندہ پر کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے اور نہ زید پر شرعاً کوئی کفارہ لازم ہوا۔ البتہ جملہ مذکورہ سے زید نے اپنی ماں کی توہین کی ہے جس کے سبب وہ سخت گناہ گار ہوا علانیہ توبہ و استغفار کرے اور ماں اگر زندہ ہے تو اس سے معافی طلب کرے۔ اور داڑھی کی توہین بالاجماع کفر ہے ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ ۳۰ پر ہے۔ اور داڑھی نوچ لینا یقیناً اس کی توہین ہے لہذا ہندہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے اس پر بھی لازم ہے کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے اور پھر سے اس کا نکاح پڑھایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.