01
The questionSawaal
اصل سوالکہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟
02
The responseAl-Jawab
کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟
مسئلہ:- از: ذکی اللہ ، جگر ناتھ پور، بستی سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید اور اس کی بیوی ہندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تو زید نے ہندہ کو مارا ہندہ نے زید کو گالی دیتے ہوئے مارا اور اس کی داڑھی پکڑ کر نوچ لیا اس پر زید نے کہا کہ اگر میں تجھے رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں۔ کچھ دنوں بعد زید و ہندہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ زید کا اپنی بیوی ہندہ سے یہ کہنا کہ ” اگر میں تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں” یہ الفاظ طلاق سے نہیں اور نہ ہی عند الشرع قسم ہے ۔ ایسا ہی فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ 186 میں ہے لہٰذا ہندہ پر کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے اور نہ زید پر شرعاً کوئی کفارہ لازم ہوا۔ البتہ جملہ مذکورہ سے زید نے اپنی ماں کی توہین کی ہے جس کے سبب وہ سخت گناہ گار ہوا علانیہ توبہ و استغفار کرے اور ماں اگر زندہ ہے تو اس سے معافی طلب کرے۔ اور داڑھی کی توہین بالاجماع کفر ہے ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ ۳۰ پر ہے۔ اور داڑھی نوچ لینا یقیناً اس کی توہین ہے لہذا ہندہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے اس پر بھی لازم ہے کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے اور پھر سے اس کا نکاح پڑھایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.