Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1389 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.2K Views

کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کچھ دیر رک کر کہا کہا طلاق طلاق

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کچھ دیر رک کر کہا کہا طلاق طلاق

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کچھ دیر رک کر کہا کہا طلاق طلاق تو کونسی طلاق پڑی ؟ مذکورہ صورت میں طلاق رجعی کا فتوی دینا کیسا ہے ؟

مسئلہ:- از: محمد مرتضی خان رضوی ، سورت ، گجرات۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ فضلو خان صاحب نے اپنی بیوی سارہ بیگم کو غصے میں اس طرح طلاق دی کہ ” میں نے تجھ کو طلاق دی ” پھر اسی تیور کے ساتھ ذرا وقفے سے دوبار اور طلاق طلاق کہا یعنی میں نے تجھ کو طلاق دی۔ طلاق طلاق اس کے بعد یہ دونوں الگ رہنے لگے اور عورت نے عدت شروع کردی ۔ اسی درمیان ایک مفتی صاحب سے استفتاء کیا گیا تو انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ اگر زید کا یہ بیان سچ ہو تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی اور آخر کے دو لفظ نسبت و اسناد نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئے۔ لہذا زید اپنی بیوی ہندہ کو عدت میں رجعت کرکے اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ ( خلاصئہ جواب) پس اس کے بعد مذکور شخص نے اس سے رجعت کر لے اور دونوں میاں بیوی بن کر ساتھ رہنے لگے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ فتویٰ غلط ہے یا صحیح ؟ اور ان دونوں کے بغیر حلالہ زوجین بن کر رہنا جائز ہے یا نہیں؟ فقہ حنفی کے حوالوں سے جواب مرحمت فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــ اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی محدث بریلوی رضی اللہ عنہ رب القوی سے دریافت کیا گیا کہ ” محمد مظفر کا اپنی والدہ سے جھگڑا ہو رہا تھا اس کی والدہ نے کہا کی اگر اپنی بیوی کو نہ چھوڑو گے تو تم سور کھاؤ اسی طرح تین مرتبہ بولی ۔ مظفر نے کہا طلاق دیتے ہیں پھر اس نے بلا قصد غصہ کے ساتھ اپنی والدہ کے سامنے کہا طلاق طلاق طلاق بغیر مخاطب کرنے کو کسی کو اب شرعاً صورت مسؤلہ میں مظفر کی بیوی پر طلاق پڑے گی یا نہیں؟ اعلی حضرت نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ ” تین طلاقیں واقع ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔” ( فتاویٰ رضویہ جلد پنجم صفحہ ٦١٧) اس صورت میں بھی طلاق کی نسبت عورت کی طرف نہیں مگر اعلی حضرت نے تین طلاق کے وقوع کا حکم فرمایا اس لئے کہ اگرچہ لفظ میں نسبت نہیں ہے مگر نیت میں نسبت ضرور ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے جب کہ پہلے جملہ میں بیوی سے کہا میں نے تجھ کو طلاق دی تو آخری دو طلاقوں میں اگرچہ لفظ میں نسبت نہیں مگر قرینہ سے ثابت ہے کہ نیت میں ان دو طلاقوں کی نسبت بھی ضرور اسی بیوی کی طرف ہے۔ اگر شوہر سے اسی وقت پوچھا جاتا کہ تم نے اپنی بیوی کو کتنی طلاق دی ہے وہ یقینا تین ہی بتاتا ۔ خصوصا اس حال میں کہ آج کل لوگ عام طور پرتین سے کم طلاق دیتے ہی نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ صورت میں طلاق رجعی پڑنے کا فتوی دینا صحیح نہیں۔ میاں بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں کہ اب بغیر حلالہ وہ عورت شوہر اول کے لئے حلال نہیں۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے: ” فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ٢سورہ بقررۃ ، آیت ٢٣٠) اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہ ہو تو سب مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں ورنہ ان پر فاسقوں جیسا عذاب ہوگا ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :” كانوا لا يتناهون عن منكر فعلوه لبئس ما كانو يفعلون. “ (پ ٦ سورہ مائدہ، آیت ۷۸) واللہ تعالیٰ اعلم۔۔ الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی۔ کتبہ: محمد ابرار احمد امجــــــــدی برکاتی

Kutubahu & Verified by:

<h3>کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کچھ دیر رک کر کہا کہا طلاق طلاق تو کونسی طلاق پڑی ؟ مذکورہ صورت میں طلاق رجعی کا فتوی دینا کیسا ہے ؟</h3> مسئلہ:- از: محمد مرتضی خان رضوی ، سورت ، گجرات۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ فضلو خان صاحب نے اپنی بیوی سارہ بیگم کو غصے میں اس طرح طلاق دی کہ " میں نے تجھ کو طلاق دی " پھر اسی تیور کے ساتھ ذرا وقفے سے دوبار اور طلاق طلاق کہا یعنی میں نے تجھ کو طلاق دی۔ طلاق طلاق اس کے بعد یہ دونوں الگ رہنے لگے اور عورت نے عدت شروع کردی ۔ اسی درمیان ایک مفتی صاحب سے استفتاء کیا گیا تو انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ اگر زید کا یہ بیان سچ ہو تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی اور آخر کے دو لفظ نسبت و اسناد نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئے۔ لہذا زید اپنی بیوی ہندہ کو عدت میں رجعت کرکے اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ ( خلاصئہ جواب) پس اس کے بعد مذکور شخص نے اس سے رجعت کر لے اور دونوں میاں بیوی بن کر ساتھ رہنے لگے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ فتویٰ غلط ہے یا صحیح ؟ اور ان دونوں کے بغیر حلالہ زوجین بن کر رہنا جائز ہے یا نہیں؟ فقہ حنفی کے حوالوں سے جواب مرحمت فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی محدث بریلوی رضی اللہ عنہ رب القوی سے دریافت کیا گیا کہ " محمد مظفر کا اپنی والدہ سے جھگڑا ہو رہا تھا اس کی والدہ نے کہا کی اگر اپنی بیوی کو نہ چھوڑو گے تو تم سور کھاؤ اسی طرح تین مرتبہ بولی ۔ مظفر نے کہا طلاق دیتے ہیں پھر اس نے بلا قصد غصہ کے ساتھ اپنی والدہ کے سامنے کہا طلاق طلاق طلاق بغیر مخاطب کرنے کو کسی کو اب شرعاً صورت مسؤلہ میں مظفر کی بیوی پر طلاق پڑے گی یا نہیں؟ اعلی حضرت نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ " تین طلاقیں واقع ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔" ( فتاویٰ رضویہ جلد پنجم صفحہ ٦١٧) اس صورت میں بھی طلاق کی نسبت عورت کی طرف نہیں مگر اعلی حضرت نے تین طلاق کے وقوع کا حکم فرمایا اس لئے کہ اگرچہ لفظ میں نسبت نہیں ہے مگر نیت میں نسبت ضرور ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے جب کہ پہلے جملہ میں بیوی سے کہا میں نے تجھ کو طلاق دی تو آخری دو طلاقوں میں اگرچہ لفظ میں نسبت نہیں مگر قرینہ سے ثابت ہے کہ نیت میں ان دو طلاقوں کی نسبت بھی ضرور اسی بیوی کی طرف ہے۔ اگر شوہر سے اسی وقت پوچھا جاتا کہ تم نے اپنی بیوی کو کتنی طلاق دی ہے وہ یقینا تین ہی بتاتا ۔ خصوصا اس حال میں کہ آج کل لوگ عام طور پرتین سے کم طلاق دیتے ہی نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ صورت میں طلاق رجعی پڑنے کا فتوی دینا صحیح نہیں۔ میاں بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں کہ اب بغیر حلالہ وہ عورت شوہر اول کے لئے حلال نہیں۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>" فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره."</strong></span> (پ٢سورہ بقررۃ ، آیت ٢٣٠) اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہ ہو تو سب مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں ورنہ ان پر فاسقوں جیسا عذاب ہوگا ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :<span style="color: #ff0000;"><strong>" كانوا لا يتناهون عن منكر فعلوه لبئس ما كانو يفعلون. "</strong></span> (پ ٦ سورہ مائدہ، آیت ۷۸) واللہ تعالیٰ اعلم۔۔ <span style="color: #339966;"><strong>الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد ابرار احمد امجــــــــدی برکاتی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...