Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #677 Verified Hanafi Fiqh 14K Views

کیاسورج اور چاند کو گرہن لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے لگتا ہے ؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیاسورج اور چاند کو گرہن لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے لگتا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیاسورج اور چاند کو گرہن لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے لگتا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــ گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ’’سورج گرہن اور چاند گرہن‘‘ کسی بڑی شخصیت کے انتقال کی وجہ سے ہوتے ہیں‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فاسد عقیدے کو غلط قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا؛ َاِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدِِ مِنَ النَّاسِ وَلٰکِنَّھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا (الصحیح البخاری 142/1) یعنی بےشک سورج اور چاند کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن والے نہیں ہوتے ہیں، لیکن وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم سورج اور چاند گرہن دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو”۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سورج، چاند میں گرہن کا لگنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ لوگوں پر چاند اور سورج کا عاجز اور محتاج ہونا ظاہر ہوجائے ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیاسورج اور چاند کو گرہن لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے لگتا ہے ؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ’’سورج گرہن اور چاند گرہن‘‘ کسی بڑی شخصیت کے انتقال کی وجہ سے ہوتے ہیں‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فاسد عقیدے کو غلط قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا؛ <span style="color: #ff0000;"><strong>َاِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدِِ مِنَ النَّاسِ وَلٰکِنَّھُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ فَإِذَا رَأَیْتُمُوْھُمَا فَقُوْمُوْا فَصَلُّوْا</strong> </span> (الصحیح البخاری 142/1) یعنی بےشک سورج اور چاند کسی کے مرنے کی وجہ سے گرہن والے نہیں ہوتے ہیں، لیکن وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم سورج اور چاند گرہن دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو"۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سورج، چاند میں گرہن کا لگنا اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ لوگوں پر چاند اور سورج کا عاجز اور محتاج ہونا ظاہر ہوجائے ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: