01
The questionSawaal
اصل سوالکیاعورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد جیٹھ سے نکاح کرسکتی ہے؟
02
The responseAl-Jawab
کیاعورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد جیٹھ سے نکاح کرسکتی ہے؟
ایک شا دی شدہ عورت شو ہر کے انتقال کے بعد اپنے شوہر کے بڑے بھائی سے نکاح کر نا چا ہتی ہے ؟ شرعی حکم کیا ہے ؟ سائل :- محمد ارشاد برکاتی کُشی نگر یو پی الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ قرآنِ مقدس نے ان عورتوں کا بیان فرمایا جن سے نکاح حرام ہے اور پھر ارشاد فرمایا: “وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ ۔” (سورہ نساء: آیت نمبر٢۴) یعنی: ان مذکورہ عورتوں کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ اور ان محرمات میں بھائی کی بیوی کا ذکر نہیں ہے ، اس لیےعورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد عدتِ وفات گزارنے کے بعد اپنے شوہر کے بڑے بھائی یعنی اپنے جیٹھ کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے، بشرطے کہ رضاعت وغیرہ کوئی وجہِ حرمت نہ پائی جاتی ہو۔ امام اہلِ سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “بعدعدت جیٹھ سے نکاح جائز ہے جب کہ کوئی مانع مثل رضاعت یا مصاہرت یا جمعِ محارم نہ ہو” (فتاوی رضویہ ج۵ ص٢٠٠ ) یوں ہی اگر رضاعت وغیرہ کوئی وجہِ حرمت نہ ہو تو آدمی چچا کے انتقال کے بعد چچی سے ، ماموں کے انتقال کے بعد ممانی سے نکاح کرسکتا ہے۔اسی طرح عورت اپنی خالہ کے انتقال کے بعد خالو سے اور پھوپھی کی انتقال کے بعد پھوپھا سے نکاح کرسکتی ہے ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//١٦/جنوری ٢٠٢٢ء
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.