Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1246
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
12K Views
کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ کیا عورت نماز میں بلند آواز سے قرأت کرسکتی ہے مردوں کی طرح نہیں بلکہ جتنی آواز میں تلاوت کرتے ہیں اتنی آواز میں کیونکہ دھیمی آواز میں ایسا لگتا ہے کہ مخرج ادا نہیں ہوا ۔ المستفتیہ : مریم فاطمہ گوپی گنج ضلع بھدوہی U. P. INDIA بسم الله الرحمن الرحيم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته الجوابـــــــــــــــــــــــــ عورت كو نماز میں بلند آواز سےقرأت کرنےكی اجازت نہیں کہ اس کی آواز بھی عورت ہے ۔ ردالمحتار میں ہے “وعلی ھذا لوقیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلاۃ فسدت کان متجھا ولھذا منعھا علیہ الصلاۃ و السلام من التسبیح بالصوت لإعلام الإمام بسھوہ الی التصفیق” (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصلاۃ ، باب شروط الصلاة ج :2 ص:79) يعني عورت کی آواز كے عورت ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ عورت جب نماز میں بلند آواز سے قرأت کریگی تو اس کی نماز فاسد ہوجائےگی اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلي الله تعالي عليه وسلم نے عورت کو امام کے سہو پر آگاہ کرنے کےلئے آواز سے بتانے کے بجائے تالی بجاکر بتانے کا حکم دیا ہے. تو جب عورت کو بآواز لقمہ دینے کی اجازت نہیں جو کہ درستگی نماز کے لیے ضروری ہے تو قرأت بالجھر کی اجازت کب ہوگی ہاں اتنی آواز سے قرأت کرنےکی ضرور اجازت ہے کہ صرف اغل بغل والے سن سکیں کہ یہ جہر نہیں بہار شریعت میں ہے “اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ايک آدمی جو اس کے قریب ہیں سن سکیں، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے” (بہار شریعت ، حصہ :3 قرآن مجید پڑھنے کابیان ، ص: 544 ناشر مکتبۃ المدینہ) کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ کیا عورت نماز میں بلند آواز سے قرأت کرسکتی ہے مردوں کی طرح نہیں بلکہ جتنی آواز میں تلاوت کرتے ہیں اتنی آواز میں کیونکہ دھیمی آواز میں ایسا لگتا ہے کہ مخرج ادا نہیں ہوا ۔ المستفتیہ : مریم فاطمہ گوپی گنج ضلع بھدوہی U. P. INDIA بسم الله الرحمن الرحيم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عورت كو نماز میں بلند آواز سےقرأت کرنےكی اجازت نہیں کہ اس کی آواز بھی عورت ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>ردالمحتار میں ہے "وعلی ھذا لوقیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلاۃ فسدت کان متجھا ولھذا منعھا علیہ الصلاۃ و السلام من التسبیح بالصوت لإعلام الإمام بسھوہ الی التصفیق" (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصلاۃ ، باب شروط الصلاة ج :2 ص:79)</strong></span> يعني عورت کی آواز كے عورت ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ عورت جب نماز میں بلند آواز سے قرأت کریگی تو اس کی نماز فاسد ہوجائےگی اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلي الله تعالي عليه وسلم نے عورت کو امام کے سہو پر آگاہ کرنے کےلئے آواز سے بتانے کے بجائے تالی بجاکر بتانے کا حکم دیا ہے. تو جب عورت کو بآواز لقمہ دینے کی اجازت نہیں جو کہ درستگی نماز کے لیے ضروری ہے تو قرأت بالجھر کی اجازت کب ہوگی ہاں اتنی آواز سے قرأت کرنےکی ضرور اجازت ہے کہ صرف اغل بغل والے سن سکیں کہ یہ جہر نہیں بہار شریعت میں ہے "اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ايک آدمی جو اس کے قریب ہیں سن سکیں، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے" (بہار شریعت ، حصہ :3 قرآن مجید پڑھنے کابیان ، ص: 544 ناشر مکتبۃ المدینہ) <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...