Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1246 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12K Views

کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ کیا عورت نماز میں بلند آواز سے قرأت کرسکتی ہے مردوں کی طرح نہیں بلکہ جتنی آواز میں تلاوت کرتے ہیں اتنی آواز میں کیونکہ دھیمی آواز میں ایسا لگتا ہے کہ مخرج ادا نہیں ہوا ۔ المستفتیہ : مریم فاطمہ گوپی گنج ضلع بھدوہی U. P. INDIA بسم الله الرحمن الرحيم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته الجوابـــــــــــــــــــــــــ عورت كو نماز میں بلند آواز سےقرأت کرنےكی اجازت نہیں کہ اس کی آواز بھی عورت ہے ۔ ردالمحتار میں ہے “وعلی ھذا لوقیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلاۃ فسدت کان متجھا ولھذا منعھا علیہ الصلاۃ و السلام من التسبیح بالصوت لإعلام الإمام بسھوہ الی التصفیق” (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصلاۃ ، باب شروط الصلاة ج :2 ص:79) يعني عورت کی آواز كے عورت ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ عورت جب نماز میں بلند آواز سے قرأت کریگی تو اس کی نماز فاسد ہوجائےگی اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلي الله تعالي عليه وسلم نے عورت کو امام کے سہو پر آگاہ کرنے کےلئے آواز سے بتانے کے بجائے تالی بجاکر بتانے کا حکم دیا ہے. تو جب عورت کو بآواز لقمہ دینے کی اجازت نہیں جو کہ درستگی نماز کے لیے ضروری ہے تو قرأت بالجھر کی اجازت کب ہوگی ہاں اتنی آواز سے قرأت کرنےکی ضرور اجازت ہے کہ صرف اغل بغل والے سن سکیں کہ یہ جہر نہیں بہار شریعت میں ہے “اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ايک آدمی جو اس کے قریب ہیں سن سکیں، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے” (بہار شریعت ، حصہ :3 قرآن مجید پڑھنے کابیان ، ص: 544 ناشر مکتبۃ المدینہ) کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟</h2> السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ کیا عورت نماز میں بلند آواز سے قرأت کرسکتی ہے مردوں کی طرح نہیں بلکہ جتنی آواز میں تلاوت کرتے ہیں اتنی آواز میں کیونکہ دھیمی آواز میں ایسا لگتا ہے کہ مخرج ادا نہیں ہوا ۔ المستفتیہ : مریم فاطمہ گوپی گنج ضلع بھدوہی U. P. INDIA بسم الله الرحمن الرحيم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عورت كو نماز میں بلند آواز سےقرأت کرنےكی اجازت نہیں کہ اس کی آواز بھی عورت ہے ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>ردالمحتار میں ہے "وعلی ھذا لوقیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلاۃ فسدت کان متجھا ولھذا منعھا علیہ الصلاۃ و السلام من التسبیح بالصوت لإعلام الإمام بسھوہ الی التصفیق" (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصلاۃ ، باب شروط الصلاة ج :2 ص:79)</strong></span> يعني عورت کی آواز كے عورت ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ عورت جب نماز میں بلند آواز سے قرأت کریگی تو اس کی نماز فاسد ہوجائےگی اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلي الله تعالي عليه وسلم نے عورت کو امام کے سہو پر آگاہ کرنے کےلئے آواز سے بتانے کے بجائے تالی بجاکر بتانے کا حکم دیا ہے. تو جب عورت کو بآواز لقمہ دینے کی اجازت نہیں جو کہ درستگی نماز کے لیے ضروری ہے تو قرأت بالجھر کی اجازت کب ہوگی ہاں اتنی آواز سے قرأت کرنےکی ضرور اجازت ہے کہ صرف اغل بغل والے سن سکیں کہ یہ جہر نہیں بہار شریعت میں ہے "اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ايک آدمی جو اس کے قریب ہیں سن سکیں، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے" (بہار شریعت ، حصہ :3 قرآن مجید پڑھنے کابیان ، ص: 544 ناشر مکتبۃ المدینہ) <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...