Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #613 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.3K Views

کیاعورت گھر میں واش روم میں جانے کے لیے مردانہ جوتا پہن سکتی ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیاعورت گھر میں واش روم میں جانے کے لیے مردانہ جوتا پہن سکتی ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیاعورت گھر میں واش روم میں جانے کے لیے مردانہ جوتا پہن سکتی ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ عموماً گھر کے واش روم میں مردانہ جوتا رکھ دیا جاتا ہے جسے پہن کر مرد و عورت واش روم میں جاتے ہیں, حالانکہ عورت کیلیے مردانہ جوتا پہننا ناجائز و گناہ ہے چاہے گھر سے باہر پہنے یا گھر میں پہنے, ویسے پہنے یا واش روم میں جانے کے لیے پہنے, اور ایسی عورت پر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ۔ چنانچہ ابن ابو ملیکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا سے عرض کی گئی کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے تو آپ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : “لَعَنَ رسولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم الرّجلَۃَ مِنَ النِّسَاءِ” یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردانی وضع کی عورت پر پر لعنت فرمائی ہے ۔ (سنن ابو داؤد کتاب اللباس ,باب فی لباس النساء جلد4 صفحہ 105بیروت) اور سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہُ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: “مرد کو عورت, عورت کو مرد سے کسی لباس, وضع, چال ڈھال میں بھی تشبہ حرام نہ کہ خاص صورت و بدن میں”. (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 664 رضا فاؤنڈیشن لاہور) نوٹ : اس کا بہتر حل یہ ہے کہ وہ جوتا واش میں رکھ دیا جائے جو مرد و عورت دونوں کیلیے یکساں استعمال ہوتا ہے اور ایسے جوتے مارکیٹ سے بآسانی مل جاتے ہیں اور اگر ایسا جوتا نہ ملے تو پھر مرد کیلیے مردانہ اور عورت کے لیے زنانہ جوتا رکھنا ضروری ہوگا ۔ واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم کتبہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیاعورت گھر میں واش روم میں جانے کے لیے مردانہ جوتا پہن سکتی ہے ؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عموماً گھر کے واش روم میں مردانہ جوتا رکھ دیا جاتا ہے جسے پہن کر مرد و عورت واش روم میں جاتے ہیں, حالانکہ عورت کیلیے مردانہ جوتا پہننا ناجائز و گناہ ہے چاہے گھر سے باہر پہنے یا گھر میں پہنے, ویسے پہنے یا واش روم میں جانے کے لیے پہنے, اور ایسی عورت پر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ۔ چنانچہ ابن ابو ملیکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا سے عرض کی گئی کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے تو آپ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : <strong><span style="color: #ff0000;">"لَعَنَ رسولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم الرّجلَۃَ مِنَ النِّسَاءِ"</span></strong> یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردانی وضع کی عورت پر پر لعنت فرمائی ہے ۔ <span style="color: #339966;"><strong>(سنن ابو داؤد کتاب اللباس ,باب فی لباس النساء جلد4 صفحہ 105بیروت)</strong></span> اور سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہُ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: "مرد کو عورت, عورت کو مرد سے کسی لباس, وضع, چال ڈھال میں بھی تشبہ حرام نہ کہ خاص صورت و بدن میں". <strong><span style="color: #339966;">(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 664 رضا فاؤنڈیشن لاہور)</span></strong> <strong><span style="color: #ff0000;">نوٹ :</span></strong> اس کا بہتر حل یہ ہے کہ وہ جوتا واش میں رکھ دیا جائے جو مرد و عورت دونوں کیلیے یکساں استعمال ہوتا ہے اور ایسے جوتے مارکیٹ سے بآسانی مل جاتے ہیں اور اگر ایسا جوتا نہ ملے تو پھر مرد کیلیے مردانہ اور عورت کے لیے زنانہ جوتا رکھنا ضروری ہوگا ۔ واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...