Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1192 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.6K Views

کیا بعد نماز عصر یا فجر کوئ قضاۓ عمری پڑھ سکتاہے یانہیں؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا بعد نماز عصر یا فجر کوئ قضاۓ عمری پڑھ سکتاہے یانہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا بعد نماز عصر یا فجر کوئ قضاۓ عمری پڑھ سکتاہے یانہیں ؟

سوال : کیا بعد نماز عصر یا فجر کوئ قضاۓ عمری پڑھ سکتاہے یانہیں مع دلیل ارسال فرماءیں عین نوازش ہوگی عنداللہ ثواب کے مستحق ہوں گے ۔ سائل ۔۔۔۔۔ محمد ابرا ہیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب  فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد آفتاب میں زردی آنے تک فرض نمازوں کی قضا پڑھ سکتے ہیں۔ شامی میں ہے الثانی مابین الفجر والشمس وما بین صلوة العصر الی الا صفرار ینعقد فیہ جمیع الصلوات التی ذکرناھا من غیر کراھۃ الا النفل والواجب وغیرہ، فجر اور طلوع آفتاب ونماز عصر سے آفتاب زرد ہونے تک سب نمازیں بلا کراہت جائز ہیں، ہاں نفل اور واجب وغیرہ مکروہ ہیں۔ بحوالہ (فتاوی بحرالعلوم جلد اول)(ص۷۰ کتاب الطھارۃ) کتبــــــــہ : مولانا منظور القادری خادم التدریس دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا بعد نماز عصر یا فجر کوئ قضاۓ عمری پڑھ سکتاہے یانہیں ؟</h2> سوال : کیا بعد نماز عصر یا فجر کوئ قضاۓ عمری پڑھ سکتاہے یانہیں مع دلیل ارسال فرماءیں عین نوازش ہوگی عنداللہ ثواب کے مستحق ہوں گے ۔ سائل ۔۔۔۔۔ محمد ابرا ہیم بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong> الجواب بعون الملک الوھاب </strong></span> فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کے بعد آفتاب میں زردی آنے تک فرض نمازوں کی قضا پڑھ سکتے ہیں۔ شامی میں ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>الثانی مابین الفجر والشمس وما بین صلوة العصر الی الا صفرار ینعقد فیہ جمیع الصلوات التی ذکرناھا من غیر کراھۃ الا النفل والواجب وغیرہ،</strong></span> فجر اور طلوع آفتاب ونماز عصر سے آفتاب زرد ہونے تک سب نمازیں بلا کراہت جائز ہیں، ہاں نفل اور واجب وغیرہ مکروہ ہیں۔ بحوالہ (فتاوی بحرالعلوم جلد اول)(ص۷۰ کتاب الطھارۃ) <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مولانا منظور القادری خادم التدریس دارالعلوم معین الاسلام</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong> چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...