Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1788
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.7K Views
کیا بٹائی کے جانور کی قربانی جائز ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا بٹائی کے جانور کی قربانی جائز ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا بٹائی کے جانور کی قربانی جائز ہے ؟
مسئلہ :کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام مسلہ ذیل کے بارے میں کہ بٹائی کے جانور کے قربانی جائز ہے کہ نہیں ؟ بینوا تواجروا ۔ المستفتی: جابر علی ،مقام ججبواپوسٹ بڑوا،ضلع سدھارتھ نگر ،یوپی الجوابـــــــــــــــ بٹائی کے جانور کی قربانی بٹائی پر دینے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس جانور کا مالک ہے اور بٹائی پر لینے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس جانور کا مالک نہیں بلکہ اپنی نگہداشت وغیرہ کا جو کام کیا ہے اس کی اجرت مثل کا حق دار ہے کہ جانور کو دوسرے کو پالنے کے لیے اس طور پر دینا کہ جو بچہ پیدا ہوگا نصف اجیر کا ہوگا وہ اور نصف مالک کا یہ شرکت فاسدہ ہے ۔ ہاں اگر جس جانور کو بٹائی پر لیا گیا ہے اس کی آدھی قیمت مالک کو دے دے تو اب چونکہ کہ اس جانور میں شرکت ہوگی تو بچے بھی مشترک ہوں گے پھر اگر اس جانور کے دو بچے پیدا ہوئے تو ایک کا یہ تنہا مالک ہو جائے گا اور خاص اس صورت میں اس کی قربانی بھی جائز ہو گی- فتاوی عالمگیری میں ہے: و علی ھذہ اذا دفع البقرۃ الی انسان بالعلف لیکون الحادث بینھما نصفین فما حدث فھو لصاحب البقرۃ ولذلک الرجل مثل العلف الذی علفھا واجر مثلہ فیما قام علیھا فالحیلۃ فی ذلک ان یبیع نصف البقرۃ من ذلک الرجل بثمن معلوم حتی تصیر البقرۃ واجناسھا مشترکۃ بینھما فیکون الحادث منھا علی الشرکۃ کذا فی الظھیریۃ ۔ اھ ( ج ٢ ص٣٣) اب اگر بٹائی پر لینے والا اس بٹائی کے جانور کی قربانی کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ کہ مالک جانور سے سے پہلے اپنی اجرت مثل لے لے ۔ پھر اس جانور کو کو اس سے خرید لے پھر اور اس کی قربانی کرے- واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح: مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی کتبہ: فیاض احمد برکاتی مصباحی ٢٩/ذوالقعدہ ١٤٢٨ ھ
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا بٹائی کے جانور کی قربانی جائز ہے ؟</h2> مسئلہ :کیا فرماتے ہیں علماءکرام ومفتیان عظام مسلہ ذیل کے بارے میں کہ بٹائی کے جانور کے قربانی جائز ہے کہ نہیں ؟ بینوا تواجروا ۔ المستفتی: جابر علی ،مقام ججبواپوسٹ بڑوا،ضلع سدھارتھ نگر ،یوپی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــ</strong></span> بٹائی کے جانور کی قربانی بٹائی پر دینے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ اس جانور کا مالک ہے اور بٹائی پر لینے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس جانور کا مالک نہیں بلکہ اپنی نگہداشت وغیرہ کا جو کام کیا ہے اس کی اجرت مثل کا حق دار ہے کہ جانور کو دوسرے کو پالنے کے لیے اس طور پر دینا کہ جو بچہ پیدا ہوگا نصف اجیر کا ہوگا وہ اور نصف مالک کا یہ شرکت فاسدہ ہے ۔ ہاں اگر جس جانور کو بٹائی پر لیا گیا ہے اس کی آدھی قیمت مالک کو دے دے تو اب چونکہ کہ اس جانور میں شرکت ہوگی تو بچے بھی مشترک ہوں گے پھر اگر اس جانور کے دو بچے پیدا ہوئے تو ایک کا یہ تنہا مالک ہو جائے گا اور خاص اس صورت میں اس کی قربانی بھی جائز ہو گی- فتاوی عالمگیری میں ہے: و علی ھذہ اذا دفع البقرۃ الی انسان بالعلف لیکون الحادث بینھما نصفین فما حدث فھو لصاحب البقرۃ ولذلک الرجل مثل العلف الذی علفھا واجر مثلہ فیما قام علیھا فالحیلۃ فی ذلک ان یبیع نصف البقرۃ من ذلک الرجل بثمن معلوم حتی تصیر البقرۃ واجناسھا مشترکۃ بینھما فیکون الحادث منھا علی الشرکۃ کذا فی الظھیریۃ ۔ اھ ( ج ٢ ص٣٣) اب اگر بٹائی پر لینے والا اس بٹائی کے جانور کی قربانی کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ کہ مالک جانور سے سے پہلے اپنی اجرت مثل لے لے ۔ پھر اس جانور کو کو اس سے خرید لے پھر اور اس کی قربانی کرے- واللہ تعالی اعلم <strong>الجواب صحیح: مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی </strong> <strong>کتبہ: فیاض احمد برکاتی مصباحی ٢٩/ذوالقعدہ ١٤٢٨ ھ</strong>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...