Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #840 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.7K Views

کیا بھیک مانگنے والے فاتحہ کروا سکتے ہیں ؟/ مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا بھیک مانگنے والے فاتحہ کروا سکتے ہیں ؟/ مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا بھیک مانگنے والے فاتحہ کروا سکتے ہیں ؟

سوال : کچھ لوگ بھیک مانگ کر کھاتے ہیں، اب اس وقت ان کے پاس بہت زیادہ پیسے ہو گئے ہیں تو کیا وہ ان پیسوں سے فاتحہ دلا سکتے ہیں، حج کر سکتے ہیں، اور چندہ وغیرہ نیک کام میں لگا سکتے ہیں؟ الجوابـــــــــــــــــ یہ مسئلہ تھوڑا تفصیل طلب ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ بھیک مانگنے کے قابل نہیں ہیں اور اس کے حقدار بھی نہیں ہیں تو ایسے لوگوں کو بھیک مانگنا اور علم ہو تو انہیں بھیک دینا حرام ہے ۔ وہ اس کی وجہ سے گنہگار ہوں گے، لیکن فقیروں جیسی صورت بنا کر انہوں نے لوگوں سے جو مانگا ہے اور لوگوں نے فقیر، محتاج سمجھ کر دے دیا ہے تو لوگوں کا یہ دینا درست ہوگا اور چوں کہ یہ مال پاک ہے اس لئے اس کا فاتحہ دلانا اور اسے کھانا جائز ہونا چاہیے، اس سے حج و عمرہ کر سکتے ہیں اور مدرسہ وغیرہ کو چندہ بھی دے سکتے ہیں اور نیک کام میں بھی لگا سکتے ہیں، مگر ان کا جو فعل ہے ” بھیک مانگنا ” جائز نہیں ایسے لوگوں کے لئے حدیث نبوی میں وعید وارد ہے اور جو لوگ بھیک مانگنے کے لائق، مسکین نادار ہیں ان کا بھیک مانگنا بھی جائز اور ان کے جمع کیے ہوئے مال پر فاتحہ دینا بھی جائز ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا بھیک مانگنے والے فاتحہ کروا سکتے ہیں ؟</h2> سوال : کچھ لوگ بھیک مانگ کر کھاتے ہیں، اب اس وقت ان کے پاس بہت زیادہ پیسے ہو گئے ہیں تو کیا وہ ان پیسوں سے فاتحہ دلا سکتے ہیں، حج کر سکتے ہیں، اور چندہ وغیرہ نیک کام میں لگا سکتے ہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــ</strong></span> یہ مسئلہ تھوڑا تفصیل طلب ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ <a href="https://masailworld.com/allah-ke-naam-par-bheek-mangna-kaisa-hai/" target="_blank" rel="noopener">بھیک مانگنے</a> کے قابل نہیں ہیں اور اس کے حقدار بھی نہیں ہیں تو ایسے لوگوں کو بھیک مانگنا اور علم ہو تو انہیں بھیک دینا حرام ہے ۔ وہ اس کی وجہ سے گنہگار ہوں گے، لیکن فقیروں جیسی صورت بنا کر انہوں نے لوگوں سے جو مانگا ہے اور لوگوں نے فقیر، محتاج سمجھ کر دے دیا ہے تو لوگوں کا یہ دینا درست ہوگا اور چوں کہ یہ مال پاک ہے اس لئے اس کا فاتحہ دلانا اور اسے کھانا جائز ہونا چاہیے، اس سے حج و عمرہ کر سکتے ہیں اور مدرسہ وغیرہ کو چندہ بھی دے سکتے ہیں اور نیک کام میں بھی لگا سکتے ہیں، مگر ان کا جو فعل ہے '' بھیک مانگنا '' جائز نہیں ایسے لوگوں کے لئے حدیث نبوی میں وعید وارد ہے اور جو لوگ بھیک مانگنے کے لائق، مسکین نادار ہیں ان کا بھیک مانگنا بھی جائز اور ان کے جمع کیے ہوئے مال پر فاتحہ دینا بھی جائز ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...