Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #97 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.3K Views

کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کاؐ خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟

عنوان : کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسےلے مین کہ عبدالغفور میان کا انتقال ہوگیا ۔ اور انتقال کو ایک لمبا عرصہ گزر گیا اب ان کی اولاد وراثت تقسیم کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن ان میں اختلاف ہو گیا ہے اور وہ شریعت کی روشنی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ عبد الغفور کی تین اولاد ہیں ایک بیٹا انور اور دع بیٹی حمیدہ اور سعیدہ ۔ اور جائداد میں ممبئ میں ایک گھر جس کی قیمت تقریبا ۲۵ لاکھ ہے ۔ اور گاوٓن مین ایک گھر یے جس کی قیمت قیمت تقریبا کم وبیش ۳۰ لاکھ اور ایک اوپن پلاٹ ہے جس کی قیمت لگ بھگ ۲۰ لاکھ روپیے ہے ۔         بیٹے انور کا کہنا ہے کہ میں نے ممبئ کے گھر میں مرمت کے ۲ لاکھ ہچپن ہزار خرچ کیے ہیں وہ مجے واپس چاہیے جبکہ بیٹیوں کا کہنا ہے کہ گھر کا کچھ کام گورنمنٹ اسکیم سے کچھ ہوا ہے ۔ اور بھای انور نیچے کے منزلے پر اور ایک بہن دوسرے منزلے پر رہتے ہیں ۔ اور دوسری بہن الگ سے کرایہ کے مکان پر رہتی ہے جس کا کرایہ دونوں بہنیں مل کر ادا کرتی ہیں ۔ اب انور دوسرے منزلے پر رہنے والی بہن کو نکال رہا ہے اور اپنی مرضی سے تھوڑا کچھ حصی دینے کو کہ رہا یے ۔ تو اب تمام صورت حال میں شریعت کے اعتبار سے کس کو کتنا ملنا چاہیے ۔ آگاہ فرمایں ۔  الجواب: جواب (١) میت عبد الغفور کے اگر اتنے ہی شرعی وارث ہیں جتنے سوال میں مذکور ہیں تو تجہیز وتکفین، اور ان کے ذمہ واجب قرض وغیرہ دیون کی ادائیگی اور بقدرِ نافذ وصیتیں پوری کرنے کے بعد پورے مال وجائداد کے چار حصے کیے جائیں گے، جس میں سے بیٹا انور کو دو حصہ اور دونوں بیٹیوں حمیدہ اور سعیدہ کو ایک ایک حصہ ملے گا ۔ اللہ جل شانہ کا فرمان ہے : یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ۔ (سورہ نساء: آیة:١١) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ جواب(٢)             انور نے باپ کے چھوڑے ہوئے گھر کی مرمت میں جو دو لاکھ پچپن ہزار روپیہ خرچ کیا ہے تو اگر خرچ کرنے سے پہلے دونوں بیٹیوں سے اجازت لے لی ہو اور انھوں نے یہ کہا ہو کہ مرمت کرو اور جو خرچ آئیگا سب پر تقسیم ہوگا ۔ تو ایسی صورت میں انور بیٹیوں کے حصہ کے حساب سے مرمت کا خرچ پائے گا اور اگر بطور خود ان کی اجازت ورضامندی کے بغیر مرمت میں خرچ کیا تو بیٹیوں سے مرمت کا خرچ نہیں لے سکتا ۔          کیوں کہ اس کو یہ اختیار تھا کہ جائداد کا بٹوارہ کرنے کے بعد صرف اپنے حصہ میں پڑنے والی عمارت کی مرمت کراتا،اس لیے ان کی اجازت کے بغیر جو خرچ کیابطور تبرع واحسان خرچ کرنے والا ہوگا اور واپس نہیں لے سکتا ۔ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “اگر شریک کواس کام کا کرنا ضروری نہ ہواور بغیر اجازت کریگا تو تبرع ہے ۔ جیسے دو شخصوں میں مکان مشترک ہے اور خراب ہورہا ہے اسکی تعمیر ضروری ہے مگر بغیر اجازت جو صرفہ کرے گا اُس کا معاوضہ نہیں ملے گا کہ ہوسکتا ہے مکان تقسیم کراکے اپنے حصہ کی مرمت کرالے پورے مکان کی مرمت کرانے کی اسکو کیا ضرورت ہے ۔ (بہار شریعت حصہ ١٠ ص۵٢٢)واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ جواب(٣) جو بہن کرایہ کے مکان میں رہتی ہے اس کا کرایہ خود اس کے ذمہ ہے اس کو وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وراثت کا مطلب میت کا چھوڑا ہوا مال ہے ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔ بستی۔ یوپی۔ ٢٨/رمضان المبارک ١۴۴٢//١١/مئی ٢٠٢١ء

Kutubahu & Verified by:

<h2><span style="font-size: 14pt;"> کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کاؐ خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟</span></h2> <span style="font-size: 14pt;">عنوان : کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسےلے مین کہ عبدالغفور میان کا انتقال ہوگیا ۔ اور انتقال کو ایک لمبا عرصہ گزر گیا اب ان کی اولاد وراثت تقسیم کرنا چاہتی ہے ۔ لیکن ان میں اختلاف ہو گیا ہے اور وہ شریعت کی روشنی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔ عبد الغفور کی تین اولاد ہیں ایک بیٹا انور اور دع بیٹی حمیدہ اور سعیدہ ۔ اور جائداد میں ممبئ میں ایک گھر جس کی قیمت تقریبا ۲۵ لاکھ ہے ۔ اور گاوٓن مین ایک گھر یے جس کی قیمت قیمت تقریبا کم وبیش ۳۰ لاکھ اور ایک اوپن پلاٹ ہے جس کی قیمت لگ بھگ ۲۰ لاکھ روپیے ہے ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">       بیٹے انور کا کہنا ہے کہ میں نے ممبئ کے گھر میں مرمت کے ۲ لاکھ ہچپن ہزار خرچ کیے ہیں وہ مجے واپس چاہیے جبکہ بیٹیوں کا کہنا ہے کہ گھر کا کچھ کام گورنمنٹ اسکیم سے کچھ ہوا ہے ۔ اور بھای انور نیچے کے منزلے پر اور ایک بہن دوسرے منزلے پر رہتے ہیں ۔ اور دوسری بہن الگ سے کرایہ کے مکان پر رہتی ہے جس کا کرایہ دونوں بہنیں مل کر ادا کرتی ہیں ۔ اب انور دوسرے منزلے پر رہنے والی بہن کو نکال رہا ہے اور اپنی مرضی سے تھوڑا کچھ حصی دینے کو کہ رہا یے ۔ تو اب تمام صورت حال میں شریعت کے اعتبار سے کس کو کتنا ملنا چاہیے ۔ آگاہ فرمایں ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;"> الجواب:</span> <span style="font-size: 14pt;">جواب (١) میت عبد الغفور کے اگر اتنے ہی شرعی وارث ہیں جتنے سوال میں مذکور ہیں تو تجہیز وتکفین، اور ان کے ذمہ واجب قرض وغیرہ دیون کی ادائیگی اور بقدرِ نافذ وصیتیں پوری کرنے کے بعد پورے مال وجائداد کے چار حصے کیے جائیں گے، جس میں سے بیٹا انور کو دو حصہ اور دونوں بیٹیوں حمیدہ اور سعیدہ کو ایک ایک حصہ ملے گا ۔ اللہ جل شانہ کا فرمان ہے : یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ۔ (سورہ نساء: آیة:١١)</span> <span style="font-size: 14pt;">واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔</span> <span style="font-size: 14pt;"> جواب(٢) </span> <span style="font-size: 14pt;">            انور نے باپ کے چھوڑے ہوئے گھر کی مرمت میں جو دو لاکھ پچپن ہزار روپیہ خرچ کیا ہے تو اگر خرچ کرنے سے پہلے دونوں بیٹیوں سے اجازت لے لی ہو اور انھوں نے یہ کہا ہو کہ مرمت کرو اور جو خرچ آئیگا سب پر تقسیم ہوگا ۔ تو ایسی صورت میں انور بیٹیوں کے حصہ کے حساب سے مرمت کا خرچ پائے گا اور اگر بطور خود ان کی اجازت ورضامندی کے بغیر مرمت میں خرچ کیا تو بیٹیوں سے مرمت کا خرچ نہیں لے سکتا ۔</span> <span style="font-size: 14pt;">         کیوں کہ اس کو یہ اختیار تھا کہ جائداد کا بٹوارہ کرنے کے بعد صرف اپنے حصہ میں پڑنے والی عمارت کی مرمت کراتا،اس لیے ان کی اجازت کے بغیر جو خرچ کیابطور تبرع واحسان خرچ کرنے والا ہوگا اور واپس نہیں لے سکتا ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "اگر شریک کواس کام کا کرنا ضروری نہ ہواور بغیر اجازت کریگا تو تبرع ہے ۔ جیسے دو شخصوں میں مکان مشترک ہے اور خراب ہورہا ہے اسکی تعمیر ضروری ہے مگر بغیر اجازت جو صرفہ کرے گا اُس کا معاوضہ نہیں ملے گا کہ ہوسکتا ہے مکان تقسیم کراکے اپنے حصہ کی مرمت کرالے پورے مکان کی مرمت کرانے کی اسکو کیا ضرورت ہے ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">(بہار شریعت حصہ ١٠ ص۵٢٢)واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔</span> <span style="font-size: 14pt;"> جواب(٣) </span> <span style="font-size: 14pt;">جو بہن کرایہ کے مکان میں رہتی ہے اس کا کرایہ خود اس کے ذمہ ہے اس کو وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وراثت کا مطلب میت کا چھوڑا ہوا مال ہے ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔</span> <span style="font-size: 14pt;"> کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔ بستی۔ یوپی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">٢٨/رمضان المبارک ١۴۴٢//١١/مئی ٢٠٢١ء</span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...