کیا جس بکرے کی دانت نہ نکلے ہوں اس کی قربانی نہیں ہو سکتی ہے؟
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا جس بکرے کی دانت نہ نکلے ہوں اس کی قربانی نہیں ہو سکتی ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسٔلہ میں کہ جس بکرے کے دانت نہ جمے ہوں یعنی دنتا نہ ہو اس کی قربانی ہوجائے گی
ســــائل : محـمـد فہیـم رضـا خـان تلیاپور بریلی شریف
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
بسـم اللـہ الرحمـن الرحیـم
الجــوابــــــــ بعون الملک الوہاب
صورت مسئولہ میں دانت نہ جمے ہوں مگر اس بکرے کی عمر مکمل ایک سال ہے تو قربانی بلا شبہ ہو جائیگی
قربانی کے جانور میں عمر کا پورا ہونا ضروری ہے، دانت نکلنا ضروری نہیں ۔جیسا کہ حضرت العلام مفتی جلال الدین امجدی علیہ رحمۃ القوی ارشاد فرماتے ہیں’’قربانی کے بکرے کی عمر سال بھر ہونا ضروری ہے ،دانت نکلنا ضروری نہیں،لہذا بکرا اگر واقعی سال بھر کا ہے،تو اس کی قربانی جائز ہے،اگرچہ اس کے دانت نہ نکلے ہوں ۔
در مختار مع شامی جلد پنجم صفحہ ٢٠٤ میں ہے صح الثنی فصا عدا والثنی ھو ابن حول من الشاۃ١ھ ملخصا۔
( وھکذا فتاری فیض الرسول ،ج٢،ص،٤٥٦مطبوعہ شبیر برادرز،لاھور)
وھکذا فی الکتب الفقہیہ
واللــہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــہ :حضرت علامہ مولانا محمد منظـــور عالم قادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی استاد:۔ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)