Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1767 Verified Hanafi Fiqh 13.5K Views

کیا حمل کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے ؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا حمل کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا حمل کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے ؟

سائلہ : ام عمارہ عطاریہ بسمہ تعالیٰ الجواب بعون الملک الوھّاب جی ہاں! حمل کی حالت میں حاملہ عورت کو طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اس کی عدت وضع حمل (یعنی بچے کو پیدا کرنا) ہے، اللہ پاک نے خود قرآن مجید میں حاملہ عورتوں کی عدت بیان کی ہے، اور عدت تبھی ہو سکتی ہے جب کہ حمل کی حالت میں طلاق واقع ہو۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے : “وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ” ترجمہ : اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔ (پارہ 28، سورۃالطلاق : 4) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنھا سے روایت ہے : “أنها كانت تحت الزبير فطلقها و هي حامل فذهب الى المسجد فجاء و قد وضعت ما في بطنها فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ما صنع فقال : بلغ الكتاب أجله“ یعنی وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں انہیں طلاق دے دی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے، وہ مسجد میں پہنچے تو ام کلثوم نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو پیدا کیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنا معاملہ عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کتاب اپنی مدت کو پہنچ گئی۔(یعنی قرآن میں حاملہ کی عدت بچہ پیدا ہونا ہے، وہ عدت پوری ہوگئی۔) (سنن کبری للبیهقی،باب عدۃ الحامل المطلقۃ، جلد 3، صفحہ 154، مطبوعہ کراچی) فتاوی عالمگیری میں ہے : “و عدۃ الحامل أن تضع حملہا کذا فی الکافی” اور حاملہ کی عدت یہ ہے کہ اس کا وضعِ حمل ہو جائے (یعنی بچہ پیدا ہوجائے) ایسے ہی کافی میں ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 528، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) تنویر الابصار مع درمختار میں ہے : “(و) فی حق (الحامل) مطلقاً۔۔(وضع) جمیع (حملھا) لان الحمل اسم لجمیع ما فی البطن” اور عدت حاملہ کے حق میں (اس کے) اپنے پورے حمل کو وضع کرنا (جننا) ہے، اس لئے کہ حمل اس تمام کا نام ہے جو پیٹ میں ہے۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطلاق، باب العدۃ، جلد 5، صفحہ 192، 193، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) مفتی حبیب اللہ نعیمی اشرفی بھاگلپوری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : “حمل مانعِ طلاق شرعاً نہیں ہے۔ بحالتِ حمل عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ (حبیب الفتاویٰ، جلد 2، صفحہ 396، شبیر برادرز لاہور) فتاوی بحرالعلوم میں ہے : “عورت کو حمل ہو تو شوہر طلاق دے سکتا ہے، “وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ” (الطلاق : 4) حمل والی عورتوں کی عدت وضعِ حمل ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق ہو تو جائز ہے جبھی تو عدت وضع حمل بن سکتی ہے۔” (فتاوی بحرالعلوم، جلد سوم، صفحہ 37، شبیر برادرز اردو بازار لاہور) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبہ :ابواسیدعبیدرضامدنی رئیس مرکزی دارالافتاء اہلسنّت عیسیٰ خیل ضلع میانوالی

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا حمل کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے ؟</h2> سائلہ : ام عمارہ عطاریہ بسمہ تعالیٰ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھّاب</strong></span> جی ہاں! حمل کی حالت میں حاملہ عورت کو طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اس کی عدت وضع حمل (یعنی بچے کو پیدا کرنا) ہے، اللہ پاک نے خود قرآن مجید میں حاملہ عورتوں کی عدت بیان کی ہے، اور عدت تبھی ہو سکتی ہے جب کہ حمل کی حالت میں طلاق واقع ہو۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے : "وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ" ترجمہ : اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔ (پارہ 28، سورۃالطلاق : 4) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنھا سے روایت ہے : "أنها كانت تحت الزبير فطلقها و هي حامل فذهب الى المسجد فجاء و قد وضعت ما في بطنها فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ما صنع فقال : بلغ الكتاب أجله“ یعنی وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں انہیں طلاق دے دی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کی طرف آرہے تھے، وہ مسجد میں پہنچے تو ام کلثوم نے اپنے پیٹ میں موجود بچے کو پیدا کیا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنا معاملہ عرض کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کتاب اپنی مدت کو پہنچ گئی۔(یعنی قرآن میں حاملہ کی عدت بچہ پیدا ہونا ہے، وہ عدت پوری ہوگئی۔) (سنن کبری للبیهقی،باب عدۃ الحامل المطلقۃ، جلد 3، صفحہ 154، مطبوعہ کراچی) فتاوی عالمگیری میں ہے : "و عدۃ الحامل أن تضع حملہا کذا فی الکافی" اور حاملہ کی عدت یہ ہے کہ اس کا وضعِ حمل ہو جائے (یعنی بچہ پیدا ہوجائے) ایسے ہی کافی میں ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری، جلد 1، صفحہ 528، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) تنویر الابصار مع درمختار میں ہے : "(و) فی حق (الحامل) مطلقاً۔۔(وضع) جمیع (حملھا) لان الحمل اسم لجمیع ما فی البطن" اور عدت حاملہ کے حق میں (اس کے) اپنے پورے حمل کو وضع کرنا (جننا) ہے، اس لئے کہ حمل اس تمام کا نام ہے جو پیٹ میں ہے۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الطلاق، باب العدۃ، جلد 5، صفحہ 192، 193، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) مفتی حبیب اللہ نعیمی اشرفی بھاگلپوری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : "حمل مانعِ طلاق شرعاً نہیں ہے۔ بحالتِ حمل عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ (حبیب الفتاویٰ، جلد 2، صفحہ 396، شبیر برادرز لاہور) فتاوی بحرالعلوم میں ہے : "عورت کو حمل ہو تو شوہر طلاق دے سکتا ہے، "وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ" (الطلاق : 4) حمل والی عورتوں کی عدت وضعِ حمل ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق ہو تو جائز ہے جبھی تو عدت وضع حمل بن سکتی ہے۔" (فتاوی بحرالعلوم، جلد سوم، صفحہ 37، شبیر برادرز اردو بازار لاہور) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :ابواسیدعبیدرضامدنی رئیس مرکزی دارالافتاء اہلسنّت عیسیٰ خیل ضلع میانوالی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: