01
The questionSawaal
اصل سوالکیا زید اپنی بہوؤں کے زیورات کا مالک ہوگا ۔ زکوۃ کے اہم مسائل
02
The responseAl-Jawab
کیا زید اپنی بہوؤں کے زیورات کا مالک ہوگا ۔ زکوۃ کے اہم مسائل
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ امید کرتا ہوں کہ حضور آپ بخیر ہوں گے ۔ بعدہ استاذ مکرم حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین دامت برکاتہم العالیہ کی بارگاہ میں زکوۃ کے اہم مسائل کے بارے میں چند معروضات پیش ہیں ۔ سوال (1) زید کی چار بہوؤیں، بیوی، بیٹیاں اور کئی ایک بہنیں ہیں جن کے زیورات یکجا تو نصاب کو پہنچتے ہیں مگر الگ الگ نہیں ۔ حالانکہ کہ ابھی گھر کا زمہ دار زید ہی ہے ۔ پورے گھر کا خرچ ابھی زید ہی دیکھتا ہے۔ کیا زید اپنی بہوؤں کے زیورات کا مالک ہوگا ۔ زکوٰۃ کی کیا صورت بنے گےنیز زید قرض دار بھی ہے ۔ عندالشرع کیا حکم ہے جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کریں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر عنداللہ مأجور ہوں۔ سوال نمبر ۲: زید کپڑے یا چپل، جوتے کی تجارت کرتا ہے تو زید اپنے مال کی زکوٰۃ کس طرح ادا کرے گا ۔ المستفتی: محمد عثمان علیمیؔ اٹوا بازار سدھارتھ نگر الجواب: جواب سوال اول زکوۃ کے اہم مسائل زکاة ہر اس مسلمان عاقل بالغ آزاد مرد اور عورت پر فرض ہے جو حاجت اصلیہ سے زائد مال نامی کا بقدر نصاب پورے طور مالک ہو ۔ اور اس مال نامی پر سال گزر جائے ۔ اس لیےزید کی بہووں، اس کی بیوی اوربیٹیوں کے پاس جو زیورات ہیں اگر ان کی مالکہ اس کی بہویں بیوی اور بیٹیاں ہی ہیں تو ان زیورات کی زکاة ان عورتوں پر ہی واجب ہوگی ۔ بشرطیکہ عورت کے پاس یا تو زیور نصاب کی مقدار میں ہو یا وہ زیور اس کی ملکیت کےدوسرے اموال زکاة (کرنسی نوٹ یا مال تجارت) کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار تک پہونچ ہوجائے ۔ اور اس صورت میں ان کی زکاة زید پر واجب نہ ہوگی اگرچہ زیورات زید کے پاس ہی ہوں اگرچہ گھر کا مالک اور خرچ کا انتظام کرنے والا وہی ہو ۔ لیکن اگر ان زیورات کا مالک زید ہو اور اس نے صرف پہننے کے لیے اپنی بہووں، بیوی اور بیٹیوں کو دیا ہو اور ان کو زیورات کا مالک نہ بنایا ہوتو ان کی زکاة زید پر ہی واجب ہوگی ۔ درمختار میں ہے :”سبب افتراضہا ملک نصاب حولی” (در مختار مع شامی ج٣ ص١٧۴) فتاوی عالم گیری میں شرائط وجوب کے بیان میں ہے :”ومنہا کون المال نصابا” پھر اسی میں ذرا آگے ہے :” ومنہا الملک التام، وہو ما اجتمع فیہ الملک والید” (فتاوی عالم گیری ج١ص١٧٣) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:” زیور کہ ملک زن ہے اس کی زکاة ذمہ شوہر ہرگز نہیں اگرچہ اموال کثیرہ رکھتاہو ۔ نہ اس کے نہ دینے کا اس پر کچھ وبال ۔” لا تزر وازرة وزر اخری”۔ ہاں! اس پر تفہیم وہدایت اور بقدر مناسب تنبیہ وتاکید(جس کی حالت اختلاف حالات مردوزن سے مختلف ہوتی ہے) لازم ہے ۔”قوا انفسکم واہلیکم نارا” اور وہ زیور کہ عورت کو دیا اور اس کی ملک کردیا اس پر بھی یہی حکم ہے ۔ اور اگر ملک نہ کیا بلکہ اپنی ہی ملک میں رکھا اور عورت کو صرف پہننے کو دیا تو بے شک اس کی زکاة مرد کے ذمہ ہے ۔ جب کہ خود یا دوسرے مال سے مل کر قدر نصاب فاضل من الحاجة الاصلیہ ہو”(فتاوی رضویہ ج۴ ص ۴¹٠) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔جواب سوال دوم:
زید جس چیزکی تجارت کرتا ہے سال زکاة مکمل ہونے پر اس مال تجارت کی ، خاص اس جگہ کے اعتبار سے جہاں تجارت کی دکان ہے قیمت لگائے اور جو بھی قیمت ہو اس کا چالیسواں حصہ دے ۔ مثلا اس کے پاس دو لاکھ کی قیمت کا تجارتی مال ہے تو سال زکاة کی تکمیل پر اس میں سے پانچ ہزار قیمت کا سامان یا اتنے روپیہ کا کسی مستحق زکاة کو مالک بنائے ۔ زید کو اگر ایک دفعہ میں اتنا ادا کرنا دشوار یا طبیعت پر گراں ہو تو وہ آسانی کے لیے ایسا بھی کرسکتا ہے کہ تھوڑا تھوڑا زکاة کی نیت سے مستحقین کو دیتا رہے ۔ اور سال زکاة مکمل ہونے پر حساب کرکے جتنا باقی رہ گیا ہو ادا کردے ۔ در مختار میں ہے:”وتعتبر القیمة یوم الوجوب، وقالا: یوم الاداء، وفی السوائم یوم الاداء اجماعا، وہو الاصح، ویقوم فی البلد الذی المال فیہ” (درمختار ج٣ ص٢١٠) واللہ تعالی وسبحانہ اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔٢۴/شعبان المعظم١۴۴٢ھ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔دنیاوی تعلیم کے مد میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا کیسا ہے
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.