Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #976 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.3K Views

کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟/ مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟/ مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟

سائل : محمد محمود اشرف ممبی الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب ساس سسر کی جائیداد میں داماد یا بہو اپنے اس رشتہ کی وجہ سے کسی طرح وارث نہیں ۔ ہاں اگر کسی اور رشتہ کے طور پر وارث بنیں تو ممکن ہے مثلا ًدامادبھتیجا ہو اوردیگر مقدم ورثاء نہ ہوں تو اب یہی وارث ہوگا ۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: داماد یاخسرہونا اصلاً کوئی حقِ وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ۔ ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاًداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ۔ ایک شخص مرے اوردو وارث چھوڑے ایک دختراورایک بھتیجا کہ وہی اس کا داماد ہے توداماد بوجہ برادر زادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دختر کو ملے گا داماد کاکچھ نہیں ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟</h2> سائل : محمد محمود اشرف ممبی <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> ساس سسر کی جائیداد میں داماد یا بہو اپنے اس رشتہ کی وجہ سے کسی طرح وارث نہیں ۔ ہاں اگر کسی اور رشتہ کے طور پر وارث بنیں تو ممکن ہے مثلا ًدامادبھتیجا ہو اوردیگر مقدم ورثاء نہ ہوں تو اب یہی وارث ہوگا ۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: داماد یاخسرہونا اصلاً کوئی حقِ <strong><a href="https://masailworld.com/wirasat-me-auraton-ka-kya-haq-hota-hai/" target="_blank" rel="noopener">وراثت</a></strong> ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ۔ ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاًداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ۔ ایک شخص مرے اوردو وارث چھوڑے ایک دختراورایک بھتیجا کہ وہی اس کا داماد ہے توداماد بوجہ برادر زادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دختر کو ملے گا داماد کاکچھ نہیں ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...