Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1932 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.4K Views

کیا سجدۂ تلاوت فورا کرنا واجب ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا سجدۂ تلاوت فورا کرنا واجب ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا سجدۂ تلاوت فورا کرنا واجب ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ وہ کونسی آیات ہیں کہ جن کی وجہ سے سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے کیا اسی وقت کرنا واجب ہوتا ہے یا بعد میں بھی کرسکتے ہیں؟(سائل ممتاز عطاری ملتان) الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب عند الاحناف قرآن مجید میں چودہ آیتیں ایسی ہیں جن کے پڑھنے یا سننے سے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہوجاتاہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آوازسے ہوکہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سن سکے سننے والے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ بالقصد سنی ہو، بلاقَصد سننے سے بھی سجدہ واجب ہوجاتاہے، اگر آیت سجدہ بیرون نماز پڑھی ہو تو اسی وقت سجدہ کرنا واجب نہیں ہوگا ہاں بہتر یہ ہے کہ فوری طور پر کرلے کیونکہ بغیر عذر شرعی تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ سجدہ صلوتیہ جس کا اداکرنا نماز میں واجب ہو اس کا وجوب علی الفور ہے، یہاں تک کہ دوتین آیت سے زیادہ خیر گناہ ہے اور غیر صلوٰتیہ میں بھی افضل و اسلم یہی ہے کہ فوراََ اداکرے جبکہ کوئی عذر نہ ہو کہ اٹھا رکھتے ہیں بھول پڑتی ہے وفی التاخیر آفات(یعنی: دیر کرنے میں آفات ہیں، ولہٰذا علماء نے اس کی تاخیر کو مکروہِ تنزیہی فرمایا مگر ناجائز نہیں- (فی الدرلمختار ھی علی التراخی علی المختار ویکرہ تاخیرھا تنزیھا، ان لم تکم صلویۃ فعلی الفور لصیرورتھا جزء منھا فیاثم بتأخیرھا- (یعنی: درمختار میں ہے، مختار یہی ہے کہ سجدہ تلاوت فی الفور لازم نہیں ہوتا اور اس کا مؤخر کرنا مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ وہ نماز میں لازم نہ ہوا ہو، اور اگر نماز میں لازم ہوا تو فی الفور لازم ہوگا کیونکہ اب وہ نماز کا حصّہ بن جائیگا اب اس کی تاخیر سے گناہ ہوگا- (درمختار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی جلد1صفحہ 105) (فتاویٰ رضویہ جلد8 صفحہ232- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ آیت سجدہ بیرون نماز پڑھی(یعنی نماز کے علاوہ تو فوراً سجدہ کر لینا واجب نہیں، ہاں بہتر ہے کہ فوراً کر لے اور اگر وضو ہو تو تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے- (بہار شریعت حصہ4 صفحہ733- مکتبۃ المدینہ) (غنیہ میں ہے) اذاقرأ اٰیۃ السجدۃ یجب علیہ ان یسجد- (یعنی: جب کسی نے آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے- (غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی باب سجود التلاوۃ- صفحہ498- مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور) (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ سجدۂ تلاوت 14آیات کی وجہ سے لازم ہوتا ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد8 صفحہ223- رضا فاؤنڈیشن لاہور) سجدۂ تلاوت کاطریقہ (سجدۂ تلاوت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر الله اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم ازکم تین بار سبحان ربی العلی کہے پھر اللہ اکبر کہتا ہوا کھڑا ہوجائے پہلے پیچھے(یعنی اول وآخر)دونوں بار اللہ اکبر کہنا سنت ہے، اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہو نا یہ دونوں قیام مستحب ہیں(سجدۂ تلاوت کے لئے اللہ اکبر کہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانا ہے نہ اس میں تشہد ہے نہ سلام- (بہار شریعت حصہ4 صفحہ-731 تا 733-مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) (مقاماتِ سجدہ کی فہرست درج ذیل ہے، کہ جن کے پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے- (1)سجدہ پارہ 9 سورۂ اعراف میں (2)سجدہ پ13 سورۂ رعدمیں (3)سجدہ پ14 سورۂ نحل (4)سجدہ پ15 سورۂ بنی اسرائیل (5)سجدہ پ16 سورۂ مریم (6)سجدہ پ17سورۂ حج (7)سجدہ پ19 سورۂ فرقان (8)سجدہ پ19 سورۂ نمل (9)سجدہ پ21سورۃ السجدہ (10)سجدہ پ23سورۂ ص (11)سجدہ پ24 سورۂ حم السجدہ (12)سجدہ پ27سورۂ نجم (13)سجدہ پ30 سورۂ انشقاق (14)سجدہ پ30سورۃ العلق میں ہے واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت
امام نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ عمدا یا سہوا نہیں کیا؟
اسپیکر سے آیت سجدہ سننے والوں کا حکم از مفتی محمد ارشد حسین الفیضی۔

Kutubahu & Verified by:

<h3>کیا سجدۂ تلاوت فورا کرنا واجب ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے متعلق کہ وہ کونسی آیات ہیں کہ جن کی وجہ سے سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے کیا اسی وقت کرنا واجب ہوتا ہے یا بعد میں بھی کرسکتے ہیں؟(سائل ممتاز عطاری ملتان) <span style="color: #ff0000;"><strong>الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب</strong></span> عند الاحناف قرآن مجید میں چودہ آیتیں ایسی ہیں جن کے پڑھنے یا سننے سے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہوجاتاہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی آوازسے ہوکہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو خود سن سکے سننے والے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ بالقصد سنی ہو، بلاقَصد سننے سے بھی سجدہ واجب ہوجاتاہے، اگر آیت سجدہ بیرون نماز پڑھی ہو تو اسی وقت سجدہ کرنا واجب نہیں ہوگا ہاں بہتر یہ ہے کہ فوری طور پر کرلے کیونکہ بغیر عذر شرعی تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ سجدہ صلوتیہ جس کا اداکرنا نماز میں واجب ہو اس کا وجوب علی الفور ہے، یہاں تک کہ دوتین آیت سے زیادہ خیر گناہ ہے اور غیر صلوٰتیہ میں بھی افضل و اسلم یہی ہے کہ فوراََ اداکرے جبکہ کوئی عذر نہ ہو کہ اٹھا رکھتے ہیں بھول پڑتی ہے وفی التاخیر آفات(یعنی: دیر کرنے میں آفات ہیں، ولہٰذا علماء نے اس کی تاخیر کو مکروہِ تنزیہی فرمایا مگر ناجائز نہیں- (فی الدرلمختار ھی علی التراخی علی المختار ویکرہ تاخیرھا تنزیھا، ان لم تکم صلویۃ فعلی الفور لصیرورتھا جزء منھا فیاثم بتأخیرھا- (یعنی: درمختار میں ہے، مختار یہی ہے کہ سجدہ تلاوت فی الفور لازم نہیں ہوتا اور اس کا مؤخر کرنا مکروہ تنزیہی ہے بشرطیکہ وہ نماز میں لازم نہ ہوا ہو، اور اگر نماز میں لازم ہوا تو فی الفور لازم ہوگا کیونکہ اب وہ نماز کا حصّہ بن جائیگا اب اس کی تاخیر سے گناہ ہوگا- (درمختار باب سجود التلاوۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی جلد1صفحہ 105) (فتاویٰ رضویہ جلد8 صفحہ232- رضا فاؤنڈیشن لاہور) (مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ آیت سجدہ بیرون نماز پڑھی(یعنی نماز کے علاوہ تو فوراً سجدہ کر لینا واجب نہیں، ہاں بہتر ہے کہ فوراً کر لے اور اگر وضو ہو تو تاخیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے- (بہار شریعت حصہ4 صفحہ733- مکتبۃ المدینہ) (غنیہ میں ہے) اذاقرأ اٰیۃ السجدۃ یجب علیہ ان یسجد- (یعنی: جب کسی نے آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے- (غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی باب سجود التلاوۃ- صفحہ498- مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور) (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ سجدۂ تلاوت 14آیات کی وجہ سے لازم ہوتا ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد8 صفحہ223- رضا فاؤنڈیشن لاہور) سجدۂ تلاوت کاطریقہ (سجدۂ تلاوت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ قبلہ رخ کھڑے ہو کر الله اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم ازکم تین بار سبحان ربی العلی کہے پھر اللہ اکبر کہتا ہوا کھڑا ہوجائے پہلے پیچھے(یعنی اول وآخر)دونوں بار اللہ اکبر کہنا سنت ہے، اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہو نا یہ دونوں قیام مستحب ہیں(سجدۂ تلاوت کے لئے اللہ اکبر کہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانا ہے نہ اس میں تشہد ہے نہ سلام- (بہار شریعت حصہ4 صفحہ-731 تا 733-مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) (مقاماتِ سجدہ کی فہرست درج ذیل ہے، کہ جن کے پڑھنے یا سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہو جاتا ہے- (1)سجدہ پارہ 9 سورۂ اعراف میں (2)سجدہ پ13 سورۂ رعدمیں (3)سجدہ پ14 سورۂ نحل (4)سجدہ پ15 سورۂ بنی اسرائیل (5)سجدہ پ16 سورۂ مریم (6)سجدہ پ17سورۂ حج (7)سجدہ پ19 سورۂ فرقان (8)سجدہ پ19 سورۂ نمل (9)سجدہ پ21سورۃ السجدہ (10)سجدہ پ23سورۂ ص (11)سجدہ پ24 سورۂ حم السجدہ (12)سجدہ پ27سورۂ نجم (13)سجدہ پ30 سورۂ انشقاق (14)سجدہ پ30سورۃ العلق میں ہے واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ <strong>کتبــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت</strong> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/namaz-me-aayat-e-sajda-tilawat-karna/" rel="bookmark">امام نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور سجدہ عمدا یا سہوا نہیں کیا؟</a></h5> <h5 class="entry-title"><a href="https://masailworld.com/speaker-par-aayat-e-sajda-sunne-ka-hukm/" rel="bookmark">اسپیکر سے آیت سجدہ سننے والوں کا حکم از مفتی محمد ارشد حسین الفیضی۔</a></h5>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...