Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #998 Verified Hanafi Fiqh 12.3K Views

کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں

سوال : کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کتنے وقت کے بعد پڑھیں..اور عشاء کی نماز میں جو نفل وتر سے پہلے اور وتر کے بعد پڑھے جاتے ہیں کیا ان کاتہجد میں شمار ہوتا ہے؟ سائل : شیخ مبین نور باغ مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب حدیث شریف میں آ یا ہے کہ جو شخص تہجد کے لیے اخیر رات میں اٹھنے پر بھروسہ نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ عشاء کی دو سنتوں کے بعد تہجد کی نیت سے نفل (۲/ رکعت/ ۴/ رکعت ۸/ رکعت) پڑھ لے تو اس کو تہجد پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ خواہ وتر سے پہلے پڑھے یا وتر کے بعد پڑھے۔ دونوں صورتوں میں اسے ثواب ملے گا۔ بعد نماز عشاء سنت اور وتر کے درمیان تہجد کی نیت سے دوچار رکعتیں پڑھ لیں اگر تہجد میں نہ اٹھ سکے تو یہ نماز تہجد کی طرف سے کافی ہوجائے گی جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔ عن ثوبان عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن ہذا لسہر جُہد وثقل فإذا أوتر أحدکم فلیرکع رکعتین فإن قام عن اللیل وإلا کانتا لہ․ رواہ الدارمي (مشکاة) قال في المرقاة والأظہر أن المراد بالوتر ثلاث رکعات، والرکعتان قبلہ نافلة قائمة مقام التہجد وقیام اللیل الخ (مرقاة) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں</h2> سوال : کیا عشاء کی نماز کے فوراً بعد تہجد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کتنے وقت کے بعد پڑھیں..اور عشاء کی نماز میں جو نفل وتر سے پہلے اور وتر کے بعد پڑھے جاتے ہیں کیا ان کاتہجد میں شمار ہوتا ہے؟ سائل : شیخ مبین نور باغ مالیگاؤں <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></span> حدیث شریف میں آ یا ہے کہ جو شخص تہجد کے لیے اخیر رات میں اٹھنے پر بھروسہ نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ عشاء کی دو سنتوں کے بعد تہجد کی نیت سے نفل (۲/ رکعت/ ۴/ رکعت ۸/ رکعت) پڑھ لے تو اس کو تہجد پڑھنے کا ثواب ملے گا۔ خواہ وتر سے پہلے پڑھے یا وتر کے بعد پڑھے۔ دونوں صورتوں میں اسے ثواب ملے گا۔ بعد نماز عشاء سنت اور وتر کے درمیان تہجد کی نیت سے دوچار رکعتیں پڑھ لیں اگر تہجد میں نہ اٹھ سکے تو یہ نماز تہجد کی طرف سے کافی ہوجائے گی جیسا کہ درج ذیل حدیث میں ہے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>عن ثوبان عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن ہذا لسہر جُہد وثقل فإذا أوتر أحدکم فلیرکع رکعتین فإن قام عن اللیل وإلا کانتا لہ․ رواہ الدارمي (مشکاة)</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>قال في المرقاة والأظہر أن المراد بالوتر ثلاث رکعات، والرکعتان قبلہ نافلة قائمة مقام التہجد وقیام اللیل الخ (مرقاة)</strong></span> وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>خادم التدریس والافتا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: