Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1627 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.7K Views

کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟

حضرت ایک سوال یہ ہے کہ نکاح کا قاضی ( نکاح خواں ) نکاح پڑھاتا ہے تو عوام اس سے پوچھتی ہے کہ کتنا رقم لیں گے تو کیا قاضی اپنی مرضی سے رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟ المستفتی محمد ارشاد اکبر پور یوپی انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب مانگ سکتا ہے کہ نکاح پڑھانے کی اجرت لینا اس کا حق ہے اور ہر حقدار اپنا حق مانگ کر لے سکتا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: “وکل نکاح باشرہ القاضی… ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه ” اھ ملخصاً ( جلد 3 صفحہ 328 کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے. جب کہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: ” نکاح خواں کو نکاح خوانی کے عوض مقررہ روپیہ لینا اور اس کے لئے روپیہ متعین کرنا جائز ہے اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے فتاوی رضویہ (قدیم) کے جلد پنجم صفحہ 171 کے ایک فتوی سے یہی مستفاد ہے ” اھ ( جلد اول کتاب النکاح صفحہ 525/526 ) کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ 16 شعبان المعظم 1443ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا قاضی اپنی مرضی سے نکاحانہ رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟</h2> حضرت ایک سوال یہ ہے کہ نکاح کا قاضی ( نکاح خواں ) نکاح پڑھاتا ہے تو عوام اس سے پوچھتی ہے کہ کتنا رقم لیں گے تو کیا قاضی اپنی مرضی سے رقم یعنی روپیہ پیسہ مانگ سکتا ہے ؟ المستفتی محمد ارشاد اکبر پور یوپی انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھاب</strong></span> مانگ سکتا ہے کہ نکاح پڑھانے کی اجرت لینا اس کا حق ہے اور ہر حقدار اپنا حق مانگ کر لے سکتا ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: "وکل نکاح باشرہ القاضی... ومالم تجب مباشرتہ علیہ حل لہ أخذ الاجرة عليه " اھ ملخصاً ( جلد 3 صفحہ 328 کتاب ادب القاضی ، باب فی اقوال القاضی وما ینبغی للقاضی ان یفعل ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہر وہ نکاح جسے قاضی خود پڑھائے. جب کہ اس پر اس نکاح کا پڑھانا واجب نہ ہو تو اسے اجرت لینا جائز ہے۔ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے: " نکاح خواں کو نکاح خوانی کے عوض مقررہ روپیہ لینا اور اس کے لئے روپیہ متعین کرنا جائز ہے اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے فتاوی رضویہ (قدیم) کے جلد پنجم صفحہ 171 کے ایک فتوی سے یہی مستفاد ہے " اھ ( جلد اول کتاب النکاح صفحہ 525/526 ) <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>صدر میرانی دار الافتاء و شیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>16 شعبان المعظم 1443ھ</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...