Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1020 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.9K Views

کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟

زیدنے ہندہ سے کہا تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور یہ بات زید نے ہندہ سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم دلائی کہ تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم بھی کھائی کہ بکر سے ہرگز کلام نہیں کروں گی ۔ اس کے باوجود ہندہ نے بکر سے کلام کرنا شروع کر دیا۔ کیا اس صورت میں ہندہ پر کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ ” ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی” اس جملے میں قسم سے سائل کی مراد کیا ہے ۔ اگر وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھنے کو قسم سمجھتا ہے اور اسی کو قسم کہتا ہے تو غلط ہے شرعا وہ قسم نہیں لہٰذا نہ قسم ٹوٹی اور نہ اس کا کفارہ واجب ہوا ” اس زمانے میں تعلیم یا حلف کی صورت بہت زیادہ مشہور ہے کہ قرآن مجید ہاتھ میں دے کر کچھ الفاظ کہلواتے ہیں ، مثلا اسے قرآن پاک کی مار پڑے ، ایمان پر خاتمہ نصیب نہ ہو ، شفاعت نصیب نہ ہو ، یہ سب باتیں خلاف شرع ہیں ، مصحف شریف ہاتھ میں اٹھانا حلف شرعی نہیں ” ( بہار شریعت حصہ ١٣، ص/٩١، ۲۰ حلف کا بیان) اور اگر قسم سے سائل کی مراد کچھ اور ہے تو الفاظ قسم صاحب صاف لکھ کر حکم دریافت کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟</h2> زیدنے ہندہ سے کہا تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور یہ بات زید نے ہندہ سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم دلائی کہ تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم بھی کھائی کہ بکر سے ہرگز کلام نہیں کروں گی ۔ اس کے باوجود ہندہ نے بکر سے کلام کرنا شروع کر دیا۔ کیا اس صورت میں ہندہ پر کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> " ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی" اس جملے میں قسم سے سائل کی مراد کیا ہے ۔ اگر وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھنے کو قسم سمجھتا ہے اور اسی کو قسم کہتا ہے تو غلط ہے شرعا وہ قسم نہیں لہٰذا نہ قسم ٹوٹی اور نہ اس کا کفارہ واجب ہوا " اس زمانے میں تعلیم یا حلف کی صورت بہت زیادہ مشہور ہے کہ قرآن مجید ہاتھ میں دے کر کچھ الفاظ کہلواتے ہیں ، مثلا اسے قرآن پاک کی مار پڑے ، ایمان پر خاتمہ نصیب نہ ہو ، شفاعت نصیب نہ ہو ، یہ سب باتیں خلاف شرع ہیں ، مصحف شریف ہاتھ میں اٹھانا حلف شرعی نہیں " ( بہار شریعت حصہ ١٣، ص/٩١، ۲۰ حلف کا بیان) اور اگر قسم سے سائل کی مراد کچھ اور ہے تو الفاظ قسم صاحب صاف لکھ کر حکم دریافت کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...