Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1800
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.4K Views
کیا قربانی کرنےوالےکےلیےبال ناخن کاٹنا گناہ ہے؟؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا قربانی کرنےوالےکےلیےبال ناخن کاٹنا گناہ ہے؟؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا قربانی کرنےوالےکےلیےبال ناخن کاٹنا گناہ ہے؟؟
ذوالحج کا چاند نظر آنے والا ہے ۔ بہتر ہے کہ ذوالحج کا چاند نظر آنے سے پہلے پہلے(ہوسکے تو آج ہی) ناخن بال کاٹ لیں تاکہ عید تک بال،ناخن کاٹنے کی حاجت نہ پڑے..کیونکہ بعض علماء کرام کے مطابق عشرہ ذوالحج میں ناخن بال کاٹنا گناہ ہے لیکن اکثر علماء کے مطابق بال ناخن نہ کاٹنا سنتِ مستحبہ ہے نیز اختلاف سے بچنا مستحب ہے لھذا عشرہ ذوالحج میں بال ناخن نہ کاٹنا ہی بہتر و افضل و ثواب و احتیاط ہے. الحدیث: إذا رايتم هلال ذي الحجة واراد احدكم ان يضحي، فليمسك عن شعره واظفاره ترجمہ: جب ذوالحج کا چاند دیکھ لو اور تمھارا ارادہ قربانی کا ہو تو تمھیں چاہیے کہ اپنے ناخن نہ کاٹو اور نہ اپنے بال کاٹو.. (مسلم حدیث5119) . جس پر قربانی نہیں وہ بھی بال ناخن نہ کاٹے پھر عید کے دن کاٹے تاکہ اسے بھی پوری قربانی کا ثواب ملے الحدیث: تاخذ من شعرك، وتقلم اظفارك، وتقص شاربك، وتحلق عانتك، فذلك تمام اضحيتك عند الله عز وجل ترجمہ: (قربانی کی طاقت نہیں تو ذوالج کی پہلی تاریخ سے عید تک ناخن بال نہ کاٹ پھر عید الاضحی کے دن) اپنے بال اور ناخن کاٹ، مونچھیں چھوٹی کر، اور زیر ناف صفائی کر، اللہ کے نزدیک تیرے لیے اس میں پوری قربانی(کا ثواب)ہے (نسائی حدیث4370) . ذوالحج کے چاند نظر آنے کے بعد ناخن بال نہ کاٹنا مستحب.و.ثواب ہے مگر فرض واجب نہیں، اگر کوئی کاٹے گا تو گناہ گار نہیں ہوگا..(دیکھیے فتاوی شامی جلد3 ص77) . ذَهَبَ بَعْضُ الْحَنَابِلَةِ وَبَعْضُ الشَّافِعِيَّةِ: إِلَى أَنَّ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَل الْعَشْرُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يُمْسِكَ عَنْ قَصِّ الشَّعْرِ وَالأَْظْفَارِ،…وَقَال الْحَنَفِيَّةُ، وَالْمَالِكِيَّةُ، وَهُوَ قَوْل بَعْضِ الشَّافِعِيَّةِ وَالْحَنَابِلَةِ: يُسَنُّ لَهُ أَنْ يُمْسِكَ عَنْ قَصِّ الشَّعْرِ وَالأَْظْفَارِ ترجمہ: بعض حنبلی اور بعض شافعی علماء فرماتے ہیں کہ جو قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اور ذوالحج کا چاند نظر آ گیا ہو تو اس پر واجب ہے کہ اپنے بال نہ کاٹے، نہ ناخن کاٹےلیکن حنفی علماء مالکی علماء اور بعض شافعی اور بعض حنبلی علماء نے یہ کہا ہے کہ واجب تو نہیں لیکن سنت مستحبہ ہے کہ ذوالحج کاچاند نظر آجائے تو بال ناخن نہ کاٹے(عید کے دن کاٹے) (الموسوعة الفقهية الكويتية ,5/170ملتقطا) . عید الاضحی کے دن بال ناخن کب کاٹے؟؟ ایک قیاس تو یہ کہتا ہے کہ حاجیوں کی مشابہت کرتے ہوئے عیدالاضحی کے دن عید نماز کے بعد قربانی کرکے پھر قربانی کرنے کے بعد بال ناخن کاٹے غسل کرے نئے یا پرانے دھلے ہوئے عمدہ کپڑے پہنے مگر حاجیوں سے ہر طرح کی مشابہت کا حکم نہیں صرف بال ناخن نہ کاٹنے کے معاملے میں مشابہت کا حکم ہے اس لیے مستحب و ثواب ہے کہ ہر ایک عیدالاضحی کے دن عید نماز سے پہلے غسل کرے،نئے یا پرانے دھلے ہوئے عمدہ کپڑے پہنے خوشبو لگائے اب رہ گیا مسلہ کہ بال ناخن کب کاٹے؟ تو حدیث پاک میں ہے کہ حتی یضحی(مسلم حدیث5121 ابوداود حدیث2791) یعنی بال ناخن تب کاٹے جب قربانی کر لے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو قربانی کرے وہ بال ناخن عید نماز کے بعد اس وقت کاٹے جب قربانی کرے پھر بال ناخن کاٹے بہتر ہے غسل بھی کرلے . اس معاملے میں چونکہ صراحتاً حکم کتب فقہ و شروحات میں بہت تلاش کے باوجود مجھے نہ ملا، کچھ علماء کرام سے بھی پوچھا ، انہیں بھی صراحتا نہ ملا.لیکن دلائل و غور و خوض و اشارات یہ کہتے ہیں کہ جو قربانی کر رہا ہے وہ عید سے پہلے غسل کرے خوشبو لگائے نئے یا دھلے کپڑے پہنے اور بال ناخن قربانی کرنے کے بعد کاٹے پھر غسل بھی کرلے تو بہتر اور جو قربانی نہیں کر رہا وہ عید سے پہلے غسل کرے خوشبو لگائے نئے یا دھلے کپڑے پہنے اور عید نماز کے بعد اس وقت بال ناخن کاٹے جب آس پاس ایک دو یا کچھ قربانیاں ہو چکی ہوں پھر بہتر ہے کہ غسل بھی کر لے…(چونکہ یہ مسلہ دوٹوک الفاظ میں مجھے کتب میں نہیں ملا اس لیے لکھنے کے بعد اہل علم احباب سے تصدیق چاہی تو قبلہ مفتی محمد ابراہیم صاحب اور قبلہ مفتی پیر بخش باروی صاحب نے تصدیق کی ہے کہ آپ نے درست لکھا ہے) تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا قربانی کرنےوالےکےلیےبال ناخن کاٹنا گناہ ہے؟؟</h2> ذوالحج کا چاند نظر آنے والا ہے ۔ بہتر ہے کہ ذوالحج کا چاند نظر آنے سے پہلے پہلے(ہوسکے تو آج ہی) ناخن بال کاٹ لیں تاکہ عید تک بال،ناخن کاٹنے کی حاجت نہ پڑے..کیونکہ بعض علماء کرام کے مطابق عشرہ ذوالحج میں ناخن بال کاٹنا گناہ ہے لیکن اکثر علماء کے مطابق بال ناخن نہ کاٹنا سنتِ مستحبہ ہے نیز اختلاف سے بچنا مستحب ہے لھذا عشرہ ذوالحج میں بال ناخن نہ کاٹنا ہی بہتر و افضل و ثواب و احتیاط ہے. الحدیث: إذا رايتم هلال ذي الحجة واراد احدكم ان يضحي، فليمسك عن شعره واظفاره ترجمہ: جب ذوالحج کا چاند دیکھ لو اور تمھارا ارادہ قربانی کا ہو تو تمھیں چاہیے کہ اپنے ناخن نہ کاٹو اور نہ اپنے بال کاٹو.. (مسلم حدیث5119) . جس پر قربانی نہیں وہ بھی بال ناخن نہ کاٹے پھر عید کے دن کاٹے تاکہ اسے بھی پوری قربانی کا ثواب ملے الحدیث: تاخذ من شعرك، وتقلم اظفارك، وتقص شاربك، وتحلق عانتك، فذلك تمام اضحيتك عند الله عز وجل ترجمہ: (قربانی کی طاقت نہیں تو ذوالج کی پہلی تاریخ سے عید تک ناخن بال نہ کاٹ پھر عید الاضحی کے دن) اپنے بال اور ناخن کاٹ، مونچھیں چھوٹی کر، اور زیر ناف صفائی کر، اللہ کے نزدیک تیرے لیے اس میں پوری قربانی(کا ثواب)ہے (نسائی حدیث4370) . ذوالحج کے چاند نظر آنے کے بعد ناخن بال نہ کاٹنا مستحب.و.ثواب ہے مگر فرض واجب نہیں، اگر کوئی کاٹے گا تو گناہ گار نہیں ہوگا..(دیکھیے فتاوی شامی جلد3 ص77) . ذَهَبَ بَعْضُ الْحَنَابِلَةِ وَبَعْضُ الشَّافِعِيَّةِ: إِلَى أَنَّ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَدَخَل الْعَشْرُ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ يَجِبُ عَلَيْهِ أَنْ يُمْسِكَ عَنْ قَصِّ الشَّعْرِ وَالأَْظْفَارِ،...وَقَال الْحَنَفِيَّةُ، وَالْمَالِكِيَّةُ، وَهُوَ قَوْل بَعْضِ الشَّافِعِيَّةِ وَالْحَنَابِلَةِ: يُسَنُّ لَهُ أَنْ يُمْسِكَ عَنْ قَصِّ الشَّعْرِ وَالأَْظْفَارِ ترجمہ: بعض حنبلی اور بعض شافعی علماء فرماتے ہیں کہ جو قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اور ذوالحج کا چاند نظر آ گیا ہو تو اس پر واجب ہے کہ اپنے بال نہ کاٹے، نہ ناخن کاٹےلیکن حنفی علماء مالکی علماء اور بعض شافعی اور بعض حنبلی علماء نے یہ کہا ہے کہ واجب تو نہیں لیکن سنت مستحبہ ہے کہ ذوالحج کاچاند نظر آجائے تو بال ناخن نہ کاٹے(عید کے دن کاٹے) (الموسوعة الفقهية الكويتية ,5/170ملتقطا) . عید الاضحی کے دن بال ناخن کب کاٹے؟؟ ایک قیاس تو یہ کہتا ہے کہ حاجیوں کی مشابہت کرتے ہوئے عیدالاضحی کے دن عید نماز کے بعد قربانی کرکے پھر قربانی کرنے کے بعد بال ناخن کاٹے غسل کرے نئے یا پرانے دھلے ہوئے عمدہ کپڑے پہنے مگر حاجیوں سے ہر طرح کی مشابہت کا حکم نہیں صرف بال ناخن نہ کاٹنے کے معاملے میں مشابہت کا حکم ہے اس لیے مستحب و ثواب ہے کہ ہر ایک عیدالاضحی کے دن عید نماز سے پہلے غسل کرے،نئے یا پرانے دھلے ہوئے عمدہ کپڑے پہنے خوشبو لگائے اب رہ گیا مسلہ کہ بال ناخن کب کاٹے؟ تو حدیث پاک میں ہے کہ حتی یضحی(مسلم حدیث5121 ابوداود حدیث2791) یعنی بال ناخن تب کاٹے جب قربانی کر لے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو قربانی کرے وہ بال ناخن عید نماز کے بعد اس وقت کاٹے جب قربانی کرے پھر بال ناخن کاٹے بہتر ہے غسل بھی کرلے . اس معاملے میں چونکہ صراحتاً حکم کتب فقہ و شروحات میں بہت تلاش کے باوجود مجھے نہ ملا، کچھ علماء کرام سے بھی پوچھا ، انہیں بھی صراحتا نہ ملا.لیکن دلائل و غور و خوض و اشارات یہ کہتے ہیں کہ جو قربانی کر رہا ہے وہ عید سے پہلے غسل کرے خوشبو لگائے نئے یا دھلے کپڑے پہنے اور بال ناخن قربانی کرنے کے بعد کاٹے پھر غسل بھی کرلے تو بہتر اور جو قربانی نہیں کر رہا وہ عید سے پہلے غسل کرے خوشبو لگائے نئے یا دھلے کپڑے پہنے اور عید نماز کے بعد اس وقت بال ناخن کاٹے جب آس پاس ایک دو یا کچھ قربانیاں ہو چکی ہوں پھر بہتر ہے کہ غسل بھی کر لے...(چونکہ یہ مسلہ دوٹوک الفاظ میں مجھے کتب میں نہیں ملا اس لیے لکھنے کے بعد اہل علم احباب سے تصدیق چاہی تو قبلہ مفتی محمد ابراہیم صاحب اور قبلہ مفتی پیر بخش باروی صاحب نے تصدیق کی ہے کہ آپ نے درست لکھا ہے) <span style="color: #339966;"><strong>تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...