Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #653 Verified Hanafi Fiqh 11.3K Views

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

Font:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ شریعت میں مرد کے لئے چاندی کی ساڑھے چار ماشے سے کم والی انگوٹھی پہننے کی اجازت ہے مگر چھلا پہننے کی اجازت نہیں ہے, جس حلقہ (رِنگ) میں نگ نہ ہو اس کو چھلا کہاجاتا ہے اور چھلا پہننا مرد کے لئے جائز نہیں ہے خواہ چاندی کا ہو یا کسی اور دھات کا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب چھلے کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : “حرام ہے ” ۔ (فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 147 رضا فاؤنڈیشن لاہور) صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو مرد کے لئے ناجائز ہے, اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں , عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں” ۔ (بہارشریعت جلد3 حصہ 16 صفحہ 427,428 مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> شریعت میں مرد کے لئے چاندی کی ساڑھے چار ماشے سے کم والی انگوٹھی پہننے کی اجازت ہے مگر چھلا پہننے کی اجازت نہیں ہے, جس حلقہ (رِنگ) میں نگ نہ ہو اس کو چھلا کہاجاتا ہے اور چھلا پہننا مرد کے لئے جائز نہیں ہے خواہ چاندی کا ہو یا کسی اور دھات کا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب چھلے کے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا مرد چھلا پہن سکتا ہے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : "حرام ہے " ۔ <span style="color: #339966;"><em>(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 147 رضا فاؤنڈیشن لاہور)</em></span> صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "انگوٹھی وہی جائز ہے جو مردوں کی انگوٹھی کی طرح ہو یعنی ایک نگینہ کی ہو اور اگر اس میں کئی نگینے ہوں تو اگرچہ وہ چاندی ہی کی ہو مرد کے لئے ناجائز ہے, اسی طرح مردوں کے لیے ایک سے زیادہ انگوٹھی پہننا یا چھلے پہننا بھی ناجائز ہے کہ یہ انگوٹھی نہیں , عورتیں چھلے پہن سکتی ہیں" ۔ <span style="color: #339966;"><em>(بہارشریعت جلد3 حصہ 16 صفحہ 427,428 مکتبۃ المدینہ کراچی)</em></span> واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas: