Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #870 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.2K Views

کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟ / نماز کے مسائل

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟ / نماز کے مسائل

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــ مسبوق مکبر بن سکتا ہے لیکن اس کو بچنا چاہئے، اور ایسے شخص کو مکبر بننا چاہیے جو شروع نماز سے امام کے ساتھ رہے، ہر آدمی کو مکبر بننا بھی نہیں چاہیے بلکہ اس کو بننا چاہیے جس کو نماز کے مسائل ٹھیک سے یاد ہوں کیونکہ جو لوگ ان پڑھ ہوتے ہیں اور جنہیں مسائل معلوم نہیں ہوتے وہ جب تکبیر کہتے ہیں تو کچھ صورتوں میں نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اس لیے جن لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپی جائے وہی تکبیر کہیں اور جو شروع ہی سے شامل نماز ہو وہ کہے ۔ یہ تکبیر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کریمہ ہے اور وہ بڑے زبردست عالم و فقیہ بلکہ انبیاء کرام کے بعد مسلمانوں میں سب سے زیادہ علم و فضل والے تھے ۔ اور جس نماز میں انہوں نے تکبیر کہی اس میں شروع ہی سے شریک تھے، تو جو شخص آپ کا نائب ہو یعنی صاحب علم و فضل ہو وہ اس لائق ہے کہ مکبر بنے، اس لیے مسائل نماز سے واقف علماء، حفاظ، و قراء اس منصب کے زیادہ حقدار ہیں اور انہیں کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم علم کتبـــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــ</strong></span> مسبوق مکبر بن سکتا ہے لیکن اس کو بچنا چاہئے، اور ایسے شخص کو مکبر بننا چاہیے جو شروع نماز سے امام کے ساتھ رہے، ہر آدمی کو مکبر بننا بھی نہیں چاہیے بلکہ اس کو بننا چاہیے جس کو نماز کے مسائل ٹھیک سے یاد ہوں کیونکہ جو لوگ ان پڑھ ہوتے ہیں اور جنہیں مسائل معلوم نہیں ہوتے وہ جب تکبیر کہتے ہیں تو کچھ صورتوں میں نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اس لیے جن لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپی جائے وہی تکبیر کہیں اور جو شروع ہی سے شامل نماز ہو وہ کہے ۔ یہ تکبیر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کریمہ ہے اور وہ بڑے زبردست عالم و فقیہ بلکہ انبیاء کرام کے بعد مسلمانوں میں سب سے زیادہ علم و فضل والے تھے ۔ اور جس نماز میں انہوں نے تکبیر کہی اس میں شروع ہی سے شریک تھے، تو جو شخص آپ کا نائب ہو یعنی صاحب علم و فضل ہو وہ اس لائق ہے کہ مکبر بنے، اس لیے مسائل نماز سے واقف علماء، حفاظ، و قراء اس منصب کے زیادہ حقدار ہیں اور انہیں کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم علم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...