Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1669
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
11.7K Views
کیا مسجد کا متولی وغیرہ کسی کو مسجد میں رہنے سونے نہانے کی اجازت دے سکتا ہے یا نہیں؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا مسجد کا متولی وغیرہ کسی کو مسجد میں رہنے سونے نہانے کی اجازت دے سکتا ہے یا نہیں؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا مسجد کا متولی وغیرہ کسی کو مسجد میں رہنے سونے نہانے کی اجازت دے سکتا ہے یا نہیں؟
کیا فرمائے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مسجد کا متولی وغیرہ کسی کو مسجد میں رہنے سو نے نہانے کی اجازت دے سکتاہے یا نہیں؟ اور کیا اسکا یہ عمل درست ہے؟ ایسے شخص کے لئے شریعت اسلامیہ کا کیا حکم ہے؟ تفصیلی جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں- المستفتی:- حافظ شکیل احمد الال تھنہ منڈی ؛؛؛ مدرس دار العلوم معینیہ عثمانیہ درگاہ شریف حضور غریب نواز اجمیر معلی باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:- مسجد کسی شخص کی ذاتی ملک نہیں اسمیں کسی طرح کا ذاتی تصرف ہرگز جائز نہیں،مسجد کا متولی وغیرہ بھی صرف اسکی دیکھ ریکھ کا ذمہ دار ہوتا ہے مسجد کی اشیا میں کسی طرح مالکانہ تصرف نہیں کرسکتا-اور خلافِ شرطِ وقف یا عمل در آمد قدیم وہ کسی خاص شخص کو خاص مراعات نہیں دے سکتا۔ صورت مسؤلہ میں متولی کا لوگوں کو مسجد میں رہنے کی اجازت دینے سے اگر یہ مراد ہے کہ وہ لوگوں کو عبادت اور ذکر واذکار کی اجازت دیتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی الزام نہیں کیونکہ ان چیزوں کی اجازت انہیں شرعا بھی حاصل ہے اور مسجدیں اللہ رب العزت کی عبادت وذکر واذکار ہی کے لیے بنائی جاتیں ہیں- رہا سونے کی اجازت دینا اگر معتکف کو دیتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ معتکف کو مسجد میں سونے کی اجازت شرعا بھی حاصل ہے اسکے علاوہ کسی کو نہیں- اور رہا اس کا لوگوں کو نہانے کی اجازت دینا یعنی: اگر کسی نمازی کو نہانے کی حاجت ہے اور وہ(متولی) اس کو نہانے کی اجازت دیتا ہے اور مسجد میں عام نمازیوں کے نہانے کی سہولت ہے تو اس صورت میں بھی اجازت دینے پر اس پر کوئی الزام نہیں-بلکہ ان صورتوں میں اس کو منع کا حق نہیں ہے۔ لیکن اگر مثلا مسجد سے متعلق کوئی حجرہ ہے جس کو واقف نے امام موذن کی رہائش کے لیے بنایا ہے تو اس میں دوسروں کو رہائش کی اجازت کا اسے حق نہیں ہے۔ اگر خلاف شرع کوئی تصرف مسجد میں کرے گا تو اس کا یہ فعل بہت ہی برا اور لائق مذمت ہے اسے چاہیے کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسی قبیح حرکتوں سے باز رہے اور مسجد کی دیکھ ریکھ کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے لیکن اگر وہ اپنی بری حرکتوں سے باز نہیں آتا ہے تو پھر مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کی جگہ کسی دیندار شخص کو متولی بنائیں- فتاوی فقیہ ملت میں اسی کے مثل سوال کے جواب میں ہے”جب امام صاحب کا کمرہ مسجد سے اتنی دور ہے تو اس کمرہ میں مسجد کا پنکھا اور الیکٹرک بورڈ لگانا جائز نہیں-بستی کے سردار نے اگر اس کا حکم دیا تو بہت برا کیا-اور جن لوگوں نے کہا یہ طریقہ غلط ہے اور مسجد کا کوئی سامان اپنے کام میں لگانا جائز نہیں-ان لوگوں نے بالکل صحیح کہا-بیشک مسجد کا کوئی سامان اپنے صرف میں لانا اور دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں کہ تغیر وقف ہے اور تغیر وقف جائز نہیں یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے ہیں-اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں”نہ مسجد کی کوئی چیز اپنے مصرف میں لائی جا سکتی ہے اور نہ کوئی تصرف کسی طرح حلال ہوسکے(فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ ۴۵۰) اور درمختار مع شامی جلد سوم صفحہ ۴۹۰ پر ہے “لا یجوز نقله ونقل ماله الى مسجد أخر “اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد دوم صفحہ ۴۹۰ میں ہے”لا یجوز تغییر الوقف” اور شامی جلد سوم صفحہ ۴۲۷ پر ہے”الواجب ابقاء الوقف علی ما کان علیه اھ” لہذا بستی کا سردار پنکھا کھول کر لائے اور امام صاحب پر واجب ہے کہ فورا اس کمرہ سے پنکھا اور الیکٹرک بورڈ نکال کر مسجد میں لگا دیں-ورنہ سب سخت گنہگار ہوں گے”(ج ۲ ص ۱۶۲ تا ۱۶۳) قانون شریعت میں ہے”معتکف کے سوا اور کسی کو مسجد میں کھانے پینے سونے کی اجازت نہیں-اگر یہ کام کرنا چاہے تو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائے اور نماز پڑھے یا ذکر الہی کرے پھر یہ کام کرسکتا ہے مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط لازم ہے کہ مسجد آلودہ نہ ہو”(ص ۱۸۶ تا ۱۸۷/مکتبہ جام نور دہلی)واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر- الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
Kutubahu & Verified by:
<h3>کیا مسجد کا متولی وغیرہ کسی کو مسجد میں رہنے سونے نہانے کی اجازت دے سکتا ہے یا نہیں؟</h3> کیا فرمائے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مسجد کا متولی وغیرہ کسی کو مسجد میں رہنے سو نے نہانے کی اجازت دے سکتاہے یا نہیں؟ اور کیا اسکا یہ عمل درست ہے؟ ایسے شخص کے لئے شریعت اسلامیہ کا کیا حکم ہے؟ تفصیلی جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں- المستفتی:- حافظ شکیل احمد الال تھنہ منڈی ؛؛؛ مدرس دار العلوم معینیہ عثمانیہ درگاہ شریف حضور غریب نواز اجمیر معلی باسمه تعالى وتقدس <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملك الوهاب:-</strong></span> مسجد کسی شخص کی ذاتی ملک نہیں اسمیں کسی طرح کا ذاتی تصرف ہرگز جائز نہیں،مسجد کا متولی وغیرہ بھی صرف اسکی دیکھ ریکھ کا ذمہ دار ہوتا ہے مسجد کی اشیا میں کسی طرح مالکانہ تصرف نہیں کرسکتا-اور خلافِ شرطِ وقف یا عمل در آمد قدیم وہ کسی خاص شخص کو خاص مراعات نہیں دے سکتا۔ صورت مسؤلہ میں متولی کا لوگوں کو مسجد میں رہنے کی اجازت دینے سے اگر یہ مراد ہے کہ وہ لوگوں کو عبادت اور ذکر واذکار کی اجازت دیتا ہے تو اس صورت میں اس پر کوئی الزام نہیں کیونکہ ان چیزوں کی اجازت انہیں شرعا بھی حاصل ہے اور مسجدیں اللہ رب العزت کی عبادت وذکر واذکار ہی کے لیے بنائی جاتیں ہیں- رہا سونے کی اجازت دینا اگر معتکف کو دیتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کیونکہ معتکف کو مسجد میں سونے کی اجازت شرعا بھی حاصل ہے اسکے علاوہ کسی کو نہیں- اور رہا اس کا لوگوں کو نہانے کی اجازت دینا یعنی: اگر کسی نمازی کو نہانے کی حاجت ہے اور وہ(متولی) اس کو نہانے کی اجازت دیتا ہے اور مسجد میں عام نمازیوں کے نہانے کی سہولت ہے تو اس صورت میں بھی اجازت دینے پر اس پر کوئی الزام نہیں-بلکہ ان صورتوں میں اس کو منع کا حق نہیں ہے۔ لیکن اگر مثلا مسجد سے متعلق کوئی حجرہ ہے جس کو واقف نے امام موذن کی رہائش کے لیے بنایا ہے تو اس میں دوسروں کو رہائش کی اجازت کا اسے حق نہیں ہے۔ اگر خلاف شرع کوئی تصرف مسجد میں کرے گا تو اس کا یہ فعل بہت ہی برا اور لائق مذمت ہے اسے چاہیے کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسی قبیح حرکتوں سے باز رہے اور مسجد کی دیکھ ریکھ کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دے لیکن اگر وہ اپنی بری حرکتوں سے باز نہیں آتا ہے تو پھر مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کی جگہ کسی دیندار شخص کو متولی بنائیں- فتاوی فقیہ ملت میں اسی کے مثل سوال کے جواب میں ہے"جب امام صاحب کا کمرہ مسجد سے اتنی دور ہے تو اس کمرہ میں مسجد کا پنکھا اور الیکٹرک بورڈ لگانا جائز نہیں-بستی کے سردار نے اگر اس کا حکم دیا تو بہت برا کیا-اور جن لوگوں نے کہا یہ طریقہ غلط ہے اور مسجد کا کوئی سامان اپنے کام میں لگانا جائز نہیں-ان لوگوں نے بالکل صحیح کہا-بیشک مسجد کا کوئی سامان اپنے صرف میں لانا اور دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں کہ تغیر وقف ہے اور تغیر وقف جائز نہیں یہاں تک کہ ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں نہیں لگا سکتے ہیں-اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں"نہ مسجد کی کوئی چیز اپنے مصرف میں لائی جا سکتی ہے اور نہ کوئی تصرف کسی طرح حلال ہوسکے(فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ ۴۵۰) اور درمختار مع شامی جلد سوم صفحہ ۴۹۰ پر ہے "لا یجوز نقله ونقل ماله الى مسجد أخر "اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد دوم صفحہ ۴۹۰ میں ہے"لا یجوز تغییر الوقف" اور شامی جلد سوم صفحہ ۴۲۷ پر ہے"الواجب ابقاء الوقف علی ما کان علیه اھ" لہذا بستی کا سردار پنکھا کھول کر لائے اور امام صاحب پر واجب ہے کہ فورا اس کمرہ سے پنکھا اور الیکٹرک بورڈ نکال کر مسجد میں لگا دیں-ورنہ سب سخت گنہگار ہوں گے"(ج ۲ ص ۱۶۲ تا ۱۶۳) قانون شریعت میں ہے"معتکف کے سوا اور کسی کو مسجد میں کھانے پینے سونے کی اجازت نہیں-اگر یہ کام کرنا چاہے تو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائے اور نماز پڑھے یا ذکر الہی کرے پھر یہ کام کرسکتا ہے مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط لازم ہے کہ مسجد آلودہ نہ ہو"(ص ۱۸۶ تا ۱۸۷/مکتبہ جام نور دہلی)واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:-محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال راجوری جموں وکشمیر-</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...