Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1199 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6.5K Views

کیا مسجد کے بغل میں رہنے والے کی نماز گھر میں پڑھنے سے نہیں ہوتی ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا مسجد کے بغل میں رہنے والے کی نماز گھر میں پڑھنے سے نہیں ہوتی ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا مسجد کے بغل میں رہنے والے کی نماز گھر میں پڑھنے سے نہیں ہوتی ہے؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ سوال: مسجد کے بغل میں کسی مسلمان کا گھر ہے وہ مسجد میں نہ آکر گھر میں نماز پڑھتا ہے لوگ کہتے ہیں جو مسجد کے بغل میں رہ کر گھر میں نماز پڑھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ حکم شرع بیان کرکے شکریہ کا موقع دیں ۔ نوازش ہوگی ساٸل: حاجی صدیق بلرام پور الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ حدیث میں اسی طرح وارد ہے کہ مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نماز مسجد ہی میں ہوگی، امام دار قطنی نے سنن میں ذکر کیا: «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ»(بَابُ الْحَثِّ لِجَارِ الْمَسْجِدِ عَلَى الصَّلَاةِ فِيهِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ: حدیث 1553) یعنی: حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہوتی ہے ۔ اسی طرح دیگر محدثین کرام نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ جن میں یہ بیان ہے کہ مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نمازمسجد ہی میں ہوتی ہے، یعنی گھر میں نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلا عذرِ شرعی مسجد میں باجماعت شریکِ نمازِ فرائض نہ ہونے والے کی نماز کامل نہیں ہوتی ہے اور ایسا آدمی ترکِ جماعت کی وجہ سے گنہگار ہوتا ہے ۔ لیکن فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔ جس طرح ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ کھانے کی خواہش کے وقت یا پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت کے وقت پڑھی گئی نماز نہیں ہوتی ہے۔ آمام نووی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “وَفِي رِوَايَةٍ لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ طَعَامٍ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ۔ فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ كَرَاهَةُ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ لِمَا فِيهِ مِنِ اشْتِغَالِ الْقَلْبِ بِهِ وَذَهَابِ كَمَالِ الْخُشُوعِ وَكَرَاهَتِهَا مَعَ مُدَافَعَةِ الْأَخْبَثِينَ وَهُمَا الْبَوْلُ وَالْغَائِطُ ، وَيَلْحَقُ بِهَذَا مَا كان في معناه مما يَشْغَلُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ كَمَالَ الْخُشُوعِ۔وَهَذِهِ الْكَرَاهَةُ عِنْدَ جُمْهُورِ أَصْحَابِنَا وَغَيْرِهِمِ إِذَا صَلَّى كَذَلِكَ، وَفِي الْوَقْتِ سَعَةٌ، فَإِذَا ضَاقَ بِحَيْثُ لَوْ أَكَلَ أَوْ تَطَهَّرَ خَرَجَ وَقْتُ الصَّلَاةِ صَلَّى عَلَى حَالِهِ مُحَافَظَةً عَلَى حُرْمَةِ الْوَقْتِ وَلَا يَجُوزُ تَأْخِيرُهَا۔” (شرح مسلم للنووی،باب كَرَاهَةُ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ في الحال) لہذا اگر شرعاً قابلِ قبول عذر کی وجہ سے مسجد کے پڑوس میں رہنے والا فرائض با جماعت کے لیے مسجد نہ آئے کوئی حرج نہیں۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(۱) مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو۔ (۲) اپاہج۔ (۳) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو۔ (۴) جس پر فالج گرا ہو۔ (۵) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے۔ (٦) اندھا اگرچہ اندھے کے لیے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے۔ (۷) سخت بارش اور (۸) شدید کیچڑ کا حائل ہونا۔ (۹) سخت سردی۔ (۱۰) سخت تاریکی۔ (۱۱) آندھی۔ (۱۲) مال یا کھانے کے تلف ہونے کا اندیشہ۔ (۱۳) قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے۔ (۱۴) ظالم کا خوف۔ (۱۵) پاخانہ۔ (١٦) پیشاب۔ (۱۷) ریاح کی حاجت شدید ہے۔ (۱۸) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو۔ (۱۹) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔ (۲۰) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے لیے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا: یہ سب ترک جماعت کے لیے عذر ہیں۔” (بہار شریعت ح ٣ ص۵٨٨) یہ فرائض کا حکم ہے اور (تراویح اور تحیة المسجد کو چھوڑ کر) تمام سنن اور نوافل گھر میں پڑھنا ہی افضل ہے، اگرچہ مسجد کے بغل میں ہی گھر ہو۔ ہاں! جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں اگر آدمی کو یہ اندیشہ ہو کہ ان کو مسجد میں پڑھے بغیر اگر گھر گیا تو کاموں کی مصروفیت وغیرہ کے باعث یہ چھوٹ جائیں گی تو اس کو مسجد میں ہی پڑھ لینا اچھا ہے۔لیکن اب چوں کہ عام طور پر مسجدوں ہی میں سنتوں کی ادائیگی پر مسلمانوں کا عمل ہے اس لیے خلافِ عادتِ قوم کام کرکے انگشت نمائی سے بچنے کے لیے مسجدوں میں ہی سنتوں کی ادائیگی کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں فتاوی رضویہ سے ایک مفصل فتوی نقل کرنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “تراویح وتحیۃ المسجد کے سوا تمام نوافل، سننِ راتبہ ہوں یا غیر راتبہ، مؤکدہ ہوں یا غیر موکدہ، گھر میں پڑھنا افضل اور باعثِ ثوابِ اکمل۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : “علیکم بالصلٰوۃ فی بیوتکم؛ فان خیرصلٰوۃ المرء فی بیتہ الا المکتوبة۔ تم پر لازم ہے گھروں میں نماز پڑھنا، کہ بہتر نماز مرد کے لیے اس کے گھر میں ہے سوا فرض کے۔ رواہ البخاری ومسلم۔ اور فرماتے ہیں :صلٰوۃ المرء فی بیتہ افضل من صلاتہ فی مسجدی ھذا الا المکتوبۃ۔ نماز مرد کی گھر میں میری اِس مسجد میں اُس کی نماز سے بہتر ہے مگر فرائض۔ رواہ ابوداؤد۔ اور خود عادتِ کریمہ سید المرسلین کی اسی طرح تھی۔ احادیثِ صحیحہ سے حضور والا کا تمام سنن کاشانہ فلک آستانہ میں پڑھنا ثابت۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: رسول ﷲصلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم گھر میں چار رکعت ظہر سے پہلے پڑھتے، پھر باہر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر میں رونق افروز ہوکر دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب کی نماز پڑھ کر گھر میں جلوہ فرما ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے، اور عشا کی امامت کرکے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے، جب صبح چمکتی دو رکعتیں پڑھ کر باہر تشریف لے جاتے اور نماز فجر پڑھاتے۔ اخرج مسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن واللفظ لمسلم عن عبدﷲ بن شقیق قال سألت عائشۃ رضی ﷲ تعالٰی عنھا عن صلٰوۃ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن تطوعہ،فقالت : کان یصلی فی بیتی قبل الظھر اربعا، ثم یخرج فیصلی بالناس، ثم یدخل فیصلی رکعتین، وکان یصلی بالناس المغرب ، ثم یدخل فیصلی رکعتین۔ ویصلی بالناس العشاء ،ویدخل بیتی ، فیصلی رکعتین ، ثم ذکرت صلٰوۃ اللیل والوتر الٰی ان قالت وکان اذا طلع الفجر صلی رکعتین۔ زاد ابوداؤد ثم یخرج فیصلی بالناس صلٰوۃ الفجر۔ اسی طرح سننِ جمعہ کا مکانِ جنت نشان میں پڑھنا، صحیحین میں مروی۔ زمانہ سیدنا عمر فاروق رضی ﷲ تعالٰی عنہ میں لوگ مغرب کے فرض پڑھ کر گھروں کو لَوٹ جاتے ، یہاں تک کہ مسجد میں کوئی شخص نہ رہتا، گویا وہ بعد مغرب کچھ پڑھتے ہی نہیں۔فی الفتح عن السائب بن یزید قال لقد رأیت الناس فی زمن عمر بن الخطاب اذا انصرفوا من المغرب انصرفوا جمیعا حتی لایبقی فی المسجد احد کانھم لایصلون بعد المغرب حتی یصیرون الٰی اھلیھم۔ سید العالمین صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لوگوں کودیکھا کہ مغرب کے فرض پڑھ کر مسجد میں سنتیں پڑھنے لگے ارشاد فرمایا: یہ نماز گھر میں پڑھاکرو۔ اخرج ابو داؤد والترمذی والنسائی عن کعب بن عجرۃ، و ابن ماجۃ عن حدیث رافع بن خدیج والسیاق لابی داؤد قال النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتی مسجد بنی عبد الاشہل فصلی فیہ المغرب فلما قضوا صلٰوتھم رآھم یسبحون بعدھا، فقال ھذہ صلٰوۃ البیوت۔ ولفظ الترمذی والنسائی علیکم بھذہ الصلٰوۃ فی البیوت۔ وابن ماجۃ ارکعوا ھاتین الرکعتین فی بیوتکم۔ شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ، العزیز شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: “ہرگاہ تمام کردند مردم نماز فرض را ، دید آں حضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایشاں را کہ نمازِ نفل می گزارند کہ مراد بوے سنتِ مغرب است بعد از فرض، یعنی در مسجد، پس گفت آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم: ایں یعنی سنتِ مغرب یامطلق نماز نفل نمازِ خانہا است کہ درخانہا باید گزارد ، نہ درمسجد۔ بدانکہ افضل آنست کہ نمازِ نفل غیر فرض درخانہ بگزارند ۔ ہمچنیں بود عملِ آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم، مگر بسببے یا عذرے، خصوصاً سنتِ مغرب کہ ہرگز در مسجد نگزارد، و بعضے از علما گفتہ اند کہ اگرسنتِ مغرب را درمسجد بگزارد از سنت واقع نمی شود۔ وبعض گفتہ اند کہ عاصی می گردد ازجہت مخالفت امرکہ ظاہرش در وجوب است، وجمہور برآنند کہ امر برائے استحباب است الخ۔ گا ہے اگر بعض سنن مسجد میں پڑھنے کا اتفاق ہوا تو علماء فرماتے ہیں وہ کسی عذر وسبب سے تھا، کما مر عن الشیخ وبمثلہ قال العلامۃ ابن امیرالحاج فی شرح المنیۃ۔ مع ہٰذا ترک احیاناً منافی سنیت و استحباب نہیں، بلکہ اس کامقرر ومؤکد ہے کہ مواظبت محققین کے نزدیک امارتِ وجوب کمافی البحر وغیرہ ۔ علاوہ بریں اگر بالفرض رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دائماً سب سنتیں مسجد ہی میں پڑھی ہوتیں، تاہم بعد اس کے کہ حضور ہم سے ارشاد فرماچکے”فرضوں کے سواتمام نمازیں تمہیں گھرمیں پڑھنی چاہئیں” اور فرمایا ”ماورائے فرائض اور نمازیں گھر میں پڑھنا مسجد مدینہ طیبہ میں پڑھنے سے زیادہ ثواب رکھتاہے” بلکہ مسجد میں پڑھتے دیکھ کر وہ ارشاد فرمایا کہ ”نماز گھروں میں پڑھا کرو” کما مرّٙ کل ذلک ، توہمارے لئے بہتر گھر ہی میں پڑھنے میں رہے، کہ قول فعل پر مرجًٙح ہے اور ان احادیث میں نماز سے صرف نوافل مطلقہ مراد نہیں ہوسکتی کہ ماورائے فرائض میں سنن بھی داخل، اور قضیہ مسجد بنی عبد الاشہل کا خاص سننِ مغرب میں تھا کما سبق۔ اسی طرح فقہاء بھی عام حکم دیتے اور نوافل کی تخصیص نہیں کرتے، ہدایہ میں ہے :والافضل فی عامۃ السنن والنوافل المنزل وھوالمروی عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ فتح القدیر میں ہے: عامتھم علی اطلاق الجواب کعبارۃ الکتاب، وبہ افتی الفقیہ ابوجعفر، قال الا ان یخشی ان یشتغل عنھا اذا رجع فان لم یخف فالافضل البیت۔ شرح صغیری میں ہے:ثم السنۃ فی سنۃ الفجر وکذا فی سائر السنن ان یاتی بھا اما فی بیتہ وھو الافضل، اوعند باب المسجد، واما السنن التی بعد الفریضۃ فان تطوع بھا فی المسجد فحسن وتطوعہ بھا فی البیت افضل، وھذا غیرمختص بما بعدالفریضۃ بل جمیع النوافل ماعد التراویح وتحیۃ المسجد الافضل فیھا المنزل لماروی عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یصلی جمیع السنن والوتر فی البیت۱ھ ملخصا۔ اور جب ثابت ہوچکا کہ سنن ونوافل کا گھر میں پڑھنا افضل، اور یہی رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت طیبہ، اور حضور نے یونہی ہمیں حکم فرمایا توبخیال مشابہتِ روافض اُسے ترک کرنا کچھ وجہ نہ رکھتا ہے۔ اہلِ بدعت کاخلاف ان کی بدعت یاشعارِخاص میں کیاجائے نہ یہ کہ اپنے مذہب کے امورِِ خیر سے جوبات وہ اختیار کریں ہم اسے چھوڑتے جائیں، آخر رافضی کلمہ بھی تو پڑھتے ہیں! بالجملہ اصل حکمِ استحبابی یہی ہے کہ سننِ قبلیہ مثل رکعتین فجر و رباعی ظہر وعصر وعشا مطلقاً گھر میں پڑھ کر مسجد کو جائیں کہ ثواب زیادہ پائیں، اور سننِ بعدیہ مثل رکعتین ظہر ومغرب وعشاء میں جسے اپنے نفس پراطمینانِ کامل حاصل ہو کہ گھر جاکر کسی ایسے کام میں جو اسے ادائے سنن سے باز رکھے مشغول نہ ہوگا ، وہ مسجد سے فرض پڑھ کر پلٹ آئے اور سنتیں گھر ہی میں پڑھے توبہتر۔ اور اس سے ایک زیادتِ ثواب یہ حاصل ہوگی کہ جتنے قدم بارادہ ادائے سنن گھر تک آئے گا وہ سب حسنات میں لکھے جائیں گے۔ قال تبارک وتعالٰی: “ونکتب ماقدموا و اٰثارھم وکل شیئ احصینٰہ فی امام مبین ۔ اور جسے یہ وثوق نہ ہو وہ مسجد میں پڑھ لے کہ لحاظِ افضلیت میں اصل نماز فوت نہ ہو، اور یہ معنی عارضی افضلیتِ صلٰوۃ فی البیت کے منافی نہیں، نظیر اس کی نمازِ وتر ہے کہ بہتر اخیر شب تک اس کی تاخیر ہے، مگر جو اپنے جاگنے پر اعتماد نہ رکھتا ہو وہ پہلے ہی پڑھ لےکما فی کتب الفقہ۔ مگراب عام عملِ اہلِ اسلام سنن کے مساجد ہی میں پڑھنے پر ہے اور اس میں مصالح ہیں کہ ان میں وہ اطمینان کم ہوتا ہے جومساجد میں ہے اور عادتِ قوم کی مخالفت موجبِ طعن و انگشت نمائی وانتشارِ ظنون وفتحِ بابِ غیبت ہوتی ہے اور حکم صرف استحبابی تھا تو ان مصالح کی رعایت اس پرمرجح ہے، ائمہ فرماتے ہیں:الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص ۴۵٧ تا ۴۵٩) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٠/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٢۴/جنوری ٢٠٢٢ء

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا مسجد کے بغل میں رہنے والے کی نماز گھر میں پڑھنے سے نہیں ہوتی ہے؟</h2> اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ سوال: مسجد کے بغل میں کسی مسلمان کا گھر ہے وہ مسجد میں نہ آکر گھر میں نماز پڑھتا ہے لوگ کہتے ہیں جو مسجد کے بغل میں رہ کر گھر میں نماز پڑھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ حکم شرع بیان کرکے شکریہ کا موقع دیں ۔ نوازش ہوگی ساٸل: حاجی صدیق بلرام پور <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> حدیث میں اسی طرح وارد ہے کہ مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نماز مسجد ہی میں ہوگی، امام دار قطنی نے سنن میں ذکر کیا: «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ»(بَابُ الْحَثِّ لِجَارِ الْمَسْجِدِ عَلَى الصَّلَاةِ فِيهِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ: حدیث 1553) یعنی: حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہوتی ہے ۔ اسی طرح دیگر محدثین کرام نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ جن میں یہ بیان ہے کہ مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نمازمسجد ہی میں ہوتی ہے، یعنی گھر میں نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلا عذرِ شرعی مسجد میں باجماعت شریکِ نمازِ فرائض نہ ہونے والے کی نماز کامل نہیں ہوتی ہے اور ایسا آدمی ترکِ جماعت کی وجہ سے گنہگار ہوتا ہے ۔ لیکن فرض اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔ جس طرح ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ کھانے کی خواہش کے وقت یا پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت کے وقت پڑھی گئی نماز نہیں ہوتی ہے۔ آمام نووی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: <strong><span style="color: #ff0000;">"وَفِي رِوَايَةٍ لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ طَعَامٍ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ۔</span></strong> <strong><span style="color: #ff0000;">فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ كَرَاهَةُ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ لِمَا فِيهِ مِنِ اشْتِغَالِ الْقَلْبِ بِهِ وَذَهَابِ كَمَالِ الْخُشُوعِ وَكَرَاهَتِهَا مَعَ مُدَافَعَةِ الْأَخْبَثِينَ وَهُمَا الْبَوْلُ وَالْغَائِطُ ، وَيَلْحَقُ بِهَذَا مَا كان في معناه مما يَشْغَلُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ كَمَالَ الْخُشُوعِ۔وَهَذِهِ الْكَرَاهَةُ عِنْدَ جُمْهُورِ أَصْحَابِنَا وَغَيْرِهِمِ إِذَا صَلَّى كَذَلِكَ، وَفِي الْوَقْتِ سَعَةٌ، فَإِذَا ضَاقَ بِحَيْثُ لَوْ أَكَلَ أَوْ تَطَهَّرَ خَرَجَ وَقْتُ الصَّلَاةِ صَلَّى عَلَى حَالِهِ مُحَافَظَةً عَلَى حُرْمَةِ الْوَقْتِ وَلَا يَجُوزُ تَأْخِيرُهَا۔"</span></strong> (شرح مسلم للنووی،باب كَرَاهَةُ الصَّلَاةِ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ الَّذِي يُرِيدُ أَكْلَهُ في الحال) لہذا اگر شرعاً قابلِ قبول عذر کی وجہ سے مسجد کے پڑوس میں رہنے والا فرائض با جماعت کے لیے مسجد نہ آئے کوئی حرج نہیں۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "(۱) مریض جسے مسجد تک جانے میں مُشقّت ہو۔ (۲) اپاہج۔ (۳) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو۔ (۴) جس پر فالج گرا ہو۔ (۵) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے۔ (٦) اندھا اگرچہ اندھے کے لیے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے۔ (۷) سخت بارش اور (۸) شدید کیچڑ کا حائل ہونا۔ (۹) سخت سردی۔ (۱۰) سخت تاریکی۔ (۱۱) آندھی۔ (۱۲) مال یا کھانے کے تلف ہونے کا اندیشہ۔ (۱۳) قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے۔ (۱۴) ظالم کا خوف۔ (۱۵) پاخانہ۔ (١٦) پیشاب۔ (۱۷) ریاح کی حاجت شدید ہے۔ (۱۸) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو۔ (۱۹) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے۔ (۲۰) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے لیے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا: یہ سب ترک جماعت کے لیے عذر ہیں۔" (بہار شریعت ح ٣ ص۵٨٨) یہ فرائض کا حکم ہے اور (تراویح اور تحیة المسجد کو چھوڑ کر) تمام سنن اور نوافل گھر میں پڑھنا ہی افضل ہے، اگرچہ مسجد کے بغل میں ہی گھر ہو۔ ہاں! جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں اگر آدمی کو یہ اندیشہ ہو کہ ان کو مسجد میں پڑھے بغیر اگر گھر گیا تو کاموں کی مصروفیت وغیرہ کے باعث یہ چھوٹ جائیں گی تو اس کو مسجد میں ہی پڑھ لینا اچھا ہے۔لیکن اب چوں کہ عام طور پر مسجدوں ہی میں سنتوں کی ادائیگی پر مسلمانوں کا عمل ہے اس لیے خلافِ عادتِ قوم کام کرکے انگشت نمائی سے بچنے کے لیے مسجدوں میں ہی سنتوں کی ادائیگی کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اس بارے میں فتاوی رضویہ سے ایک مفصل فتوی نقل کرنا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "تراویح وتحیۃ المسجد کے سوا تمام نوافل، سننِ راتبہ ہوں یا غیر راتبہ، مؤکدہ ہوں یا غیر موکدہ، گھر میں پڑھنا افضل اور باعثِ ثوابِ اکمل۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : "علیکم بالصلٰوۃ فی بیوتکم؛ فان خیرصلٰوۃ المرء فی بیتہ الا المکتوبة۔ تم پر لازم ہے گھروں میں نماز پڑھنا، کہ بہتر نماز مرد کے لیے اس کے گھر میں ہے سوا فرض کے۔ رواہ البخاری ومسلم۔ اور فرماتے ہیں :صلٰوۃ المرء فی بیتہ افضل من صلاتہ فی مسجدی ھذا الا المکتوبۃ۔ نماز مرد کی گھر میں میری اِس مسجد میں اُس کی نماز سے بہتر ہے مگر فرائض۔ رواہ ابوداؤد۔ اور خود عادتِ کریمہ سید المرسلین کی اسی طرح تھی۔ احادیثِ صحیحہ سے حضور والا کا تمام سنن کاشانہ فلک آستانہ میں پڑھنا ثابت۔ حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: رسول ﷲصلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم گھر میں چار رکعت ظہر سے پہلے پڑھتے، پھر باہر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر میں رونق افروز ہوکر دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب کی نماز پڑھ کر گھر میں جلوہ فرما ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے، اور عشا کی امامت کرکے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے، جب صبح چمکتی دو رکعتیں پڑھ کر باہر تشریف لے جاتے اور نماز فجر پڑھاتے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>اخرج مسلم فی صحیحہ وابوداؤد فی السنن واللفظ لمسلم عن عبدﷲ بن شقیق قال سألت عائشۃ رضی ﷲ تعالٰی عنھا عن صلٰوۃ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن تطوعہ،فقالت : کان یصلی فی بیتی قبل الظھر اربعا، ثم یخرج فیصلی بالناس، ثم یدخل فیصلی رکعتین، وکان یصلی بالناس المغرب ، ثم یدخل فیصلی رکعتین۔ ویصلی بالناس العشاء ،ویدخل بیتی ، فیصلی رکعتین ، ثم ذکرت صلٰوۃ اللیل والوتر الٰی ان قالت وکان اذا طلع الفجر صلی رکعتین۔</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>زاد ابوداؤد ثم یخرج فیصلی بالناس صلٰوۃ الفجر۔</strong></span> اسی طرح سننِ جمعہ کا مکانِ جنت نشان میں پڑھنا، صحیحین میں مروی۔ زمانہ سیدنا عمر فاروق رضی ﷲ تعالٰی عنہ میں لوگ مغرب کے فرض پڑھ کر گھروں کو لَوٹ جاتے ، یہاں تک کہ مسجد میں کوئی شخص نہ رہتا، گویا وہ بعد مغرب کچھ پڑھتے ہی نہیں۔فی الفتح عن السائب بن یزید قال لقد رأیت الناس فی زمن عمر بن الخطاب اذا انصرفوا من المغرب انصرفوا جمیعا حتی لایبقی فی المسجد احد کانھم لایصلون بعد المغرب حتی یصیرون الٰی اھلیھم۔ سید العالمین صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لوگوں کودیکھا کہ مغرب کے فرض پڑھ کر مسجد میں سنتیں پڑھنے لگے ارشاد فرمایا: یہ نماز گھر میں پڑھاکرو۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>اخرج ابو داؤد والترمذی والنسائی عن کعب بن عجرۃ، و ابن ماجۃ عن حدیث رافع بن خدیج والسیاق لابی داؤد قال النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتی مسجد بنی عبد الاشہل فصلی فیہ المغرب فلما قضوا صلٰوتھم رآھم یسبحون بعدھا، فقال ھذہ صلٰوۃ البیوت۔ ولفظ الترمذی والنسائی علیکم بھذہ الصلٰوۃ فی البیوت۔ وابن ماجۃ ارکعوا ھاتین الرکعتین فی بیوتکم۔</strong></span> شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ، العزیز شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: "ہرگاہ تمام کردند مردم نماز فرض را ، دید آں حضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایشاں را کہ نمازِ نفل می گزارند کہ مراد بوے سنتِ مغرب است بعد از فرض، یعنی در مسجد، پس گفت آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم: ایں یعنی سنتِ مغرب یامطلق نماز نفل نمازِ خانہا است کہ درخانہا باید گزارد ، نہ درمسجد۔ بدانکہ افضل آنست کہ نمازِ نفل غیر فرض درخانہ بگزارند ۔ ہمچنیں بود عملِ آنحضرت صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم، مگر بسببے یا عذرے، خصوصاً سنتِ مغرب کہ ہرگز در مسجد نگزارد، و بعضے از علما گفتہ اند کہ اگرسنتِ مغرب را درمسجد بگزارد از سنت واقع نمی شود۔ وبعض گفتہ اند کہ عاصی می گردد ازجہت مخالفت امرکہ ظاہرش در وجوب است، وجمہور برآنند کہ امر برائے استحباب است الخ۔ گا ہے اگر بعض سنن مسجد میں پڑھنے کا اتفاق ہوا تو علماء فرماتے ہیں وہ کسی عذر وسبب سے تھا، کما مر عن الشیخ وبمثلہ قال العلامۃ ابن امیرالحاج فی شرح المنیۃ۔ مع ہٰذا ترک احیاناً منافی سنیت و استحباب نہیں، بلکہ اس کامقرر ومؤکد ہے کہ مواظبت محققین کے نزدیک امارتِ وجوب کمافی البحر وغیرہ ۔ علاوہ بریں اگر بالفرض رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دائماً سب سنتیں مسجد ہی میں پڑھی ہوتیں، تاہم بعد اس کے کہ حضور ہم سے ارشاد فرماچکے''فرضوں کے سواتمام نمازیں تمہیں گھرمیں پڑھنی چاہئیں'' اور فرمایا ''ماورائے فرائض اور نمازیں گھر میں پڑھنا مسجد مدینہ طیبہ میں پڑھنے سے زیادہ ثواب رکھتاہے'' بلکہ مسجد میں پڑھتے دیکھ کر وہ ارشاد فرمایا کہ ''نماز گھروں میں پڑھا کرو'' کما مرّٙ کل ذلک ، توہمارے لئے بہتر گھر ہی میں پڑھنے میں رہے، کہ قول فعل پر مرجًٙح ہے اور ان احادیث میں نماز سے صرف نوافل مطلقہ مراد نہیں ہوسکتی کہ ماورائے فرائض میں سنن بھی داخل، اور قضیہ مسجد بنی عبد الاشہل کا خاص سننِ مغرب میں تھا کما سبق۔ اسی طرح فقہاء بھی عام حکم دیتے اور نوافل کی تخصیص نہیں کرتے، <span style="color: #ff0000;"><strong>ہدایہ میں ہے :والافضل فی عامۃ السنن والنوافل المنزل وھوالمروی عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>فتح القدیر میں ہے: عامتھم علی اطلاق الجواب کعبارۃ الکتاب، وبہ افتی الفقیہ ابوجعفر، قال الا ان یخشی ان یشتغل عنھا اذا رجع فان لم یخف فالافضل البیت۔</strong></span> <span style="color: #ff0000;"><strong>شرح صغیری میں ہے:ثم السنۃ فی سنۃ الفجر وکذا فی سائر السنن ان یاتی بھا اما فی بیتہ وھو الافضل، اوعند باب المسجد، واما السنن التی بعد الفریضۃ فان تطوع بھا فی المسجد فحسن وتطوعہ بھا فی البیت افضل، وھذا غیرمختص بما بعدالفریضۃ بل جمیع النوافل ماعد التراویح وتحیۃ المسجد الافضل فیھا المنزل لماروی عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ کان یصلی جمیع السنن والوتر فی البیت۱ھ ملخصا۔</strong></span> اور جب ثابت ہوچکا کہ سنن ونوافل کا گھر میں پڑھنا افضل، اور یہی رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عادت طیبہ، اور حضور نے یونہی ہمیں حکم فرمایا توبخیال مشابہتِ روافض اُسے ترک کرنا کچھ وجہ نہ رکھتا ہے۔ اہلِ بدعت کاخلاف ان کی بدعت یاشعارِخاص میں کیاجائے نہ یہ کہ اپنے مذہب کے امورِِ خیر سے جوبات وہ اختیار کریں ہم اسے چھوڑتے جائیں، آخر رافضی کلمہ بھی تو پڑھتے ہیں! بالجملہ اصل حکمِ استحبابی یہی ہے کہ سننِ قبلیہ مثل رکعتین فجر و رباعی ظہر وعصر وعشا مطلقاً گھر میں پڑھ کر مسجد کو جائیں کہ ثواب زیادہ پائیں، اور سننِ بعدیہ مثل رکعتین ظہر ومغرب وعشاء میں جسے اپنے نفس پراطمینانِ کامل حاصل ہو کہ گھر جاکر کسی ایسے کام میں جو اسے ادائے سنن سے باز رکھے مشغول نہ ہوگا ، وہ مسجد سے فرض پڑھ کر پلٹ آئے اور سنتیں گھر ہی میں پڑھے توبہتر۔ اور اس سے ایک زیادتِ ثواب یہ حاصل ہوگی کہ جتنے قدم بارادہ ادائے سنن گھر تک آئے گا وہ سب حسنات میں لکھے جائیں گے۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>قال تبارک وتعالٰی: "ونکتب ماقدموا و اٰثارھم وکل شیئ احصینٰہ فی امام مبین ۔</strong></span> اور جسے یہ وثوق نہ ہو وہ مسجد میں پڑھ لے کہ لحاظِ افضلیت میں اصل نماز فوت نہ ہو، اور یہ معنی عارضی افضلیتِ صلٰوۃ فی البیت کے منافی نہیں، نظیر اس کی نمازِ وتر ہے کہ بہتر اخیر شب تک اس کی تاخیر ہے، مگر جو اپنے جاگنے پر اعتماد نہ رکھتا ہو وہ پہلے ہی پڑھ لےکما فی کتب الفقہ۔ مگراب عام عملِ اہلِ اسلام سنن کے مساجد ہی میں پڑھنے پر ہے اور اس میں مصالح ہیں کہ ان میں وہ اطمینان کم ہوتا ہے جومساجد میں ہے اور عادتِ قوم کی مخالفت موجبِ طعن و انگشت نمائی وانتشارِ ظنون وفتحِ بابِ غیبت ہوتی ہے اور حکم صرف استحبابی تھا تو ان مصالح کی رعایت اس پرمرجح ہے، ائمہ فرماتے ہیں:الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ۔" (فتاوی رضویہ ج٣ ص ۴۵٧ تا ۴۵٩) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٠/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٢۴/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...