Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #101 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.3K Views

کیا مسلمان اپنا جیون بیما یعنی لائف انشورنس کروا سکتا ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا مسلمان اپنا جیون بیما یعنی لائف انشورنس کروا سکتا ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

 

عنوان :کیا مسلمان اپنا جیون بیما یعنی لائف انشورنس کروا سکتا ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ کیا مسلمان اپنا جیون بیما یعنی لائف انشورنس کروا سکتا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عند اللہ مأجور ہوں اور ناچیز کو شکریہ کا موقع عطا فرمائیں. المستفتی : *محمد عبد العلیم عطاری میاں پاٹن پوکھرا نیپال
الجواب :          امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنے بعض فتاوی میں بیمہ زندگی جائز وحلال نہ ہونے کا افادہ فرمایا۔ فتاوی رضویہ ج٧ ص ١١٣ پر ہے :یہ بالکل قمار ہے اور محض باطل، کہ کسی عقد شرعی کے تحت میں داخل نہیں ، ایسی جگہ عقود فاسدہ بغیر غدر کے جو اجازت دی گئی وہ اس صورت سے مقید ہے کہ ہر طرح ہی اپنانفع ہو اور یہ ایسی کمپنیوں میں کسی طرح متوقع نہیں لہٰذا اجازت نہیں کما حقق المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر”

(فتاوی رضویہ ج٧ ص ١١٣)

        اور دوسرے مقام پر تحریر فرمایا:”یہ نرا قمار ہے اس میں ایک حد تک روپیہ ضائع بھی جاتا ہے ۔ اور وہ منافع موہوم جس کی امید پر دین اگر ملے بھی تو کمپنی بیوقوف نہیں کہ گھر سے ہزار ڈیڑھ ہزاردے بلکہ وہ وہی روپیہ ہوگا جو اوروں کا ضائع گیا، اور ان میں مسلمان بھی ہوں گے تو کوئی وجہ اس کی حلت کی نہیں قالﷲتعالٰی لاتاکلوااموالکم بینکم بالباطل”

(فتاوی رضویہ ج٧ ص١٢٠)

        اور بعض فتاوی میں مشروط اجازت دی۔ تحریر فرماتے ہیں:”جبکہ یہ بیمہ گورنمنٹ کرتی ہے اوران میں اپنے نقصان کی کوئی صورت نہیں توجائزہے کوئی حرج نہیں ۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس کے سبب اس کے ذمے کسی خلافِ شرع احتیاط کی پابندی نہ عائد ہوتی ہو جیسے روزوں یاحج کی ممانعت”

(فتاوی رضویہ۔نسخہ دعوت اسلامی ایپ ج٢٣ ص ١۴١)

           ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں:”جس کمپنی سے یہ معاملہ کیاجائے اگر اس میں کوئی مسلمان بھی شریک ہے تو مطلقاً حرام قطعی ہے کہ قمار ہے اور اس پر جو زیادت ہے ربا، اور دونوں حرام وسخت کبیرہ ہیں ۔ اور اگر اس میں کوئی مسلمان اصلاً نہیں تو یہاں جائزہے جبکہ اس کے سبب حفظ صحت وغیرہ میں کسی معصیت پرمجبورنہ کیاجاتاہو ۔ جواز اس لئے کہ اس میں نقصان کی شکل نہیں، اگر بیس برس تک زندہ رہا پورا روپیہ بلکہ مع زیادت ملے گا، اور پہلے مرگیا تو ورثہ کو اور زیادہ ملے گا مثلاً سال بھر بعد ہی مرگیا تو دئیے ۲۴۶ روپے چار آنے اور ملے ۵۰۰۰ روپے، ہاں یہ ضرور ہے کہ جوزائد ملے ربا سمجھ کر نہ لے بلکہ یہ سمجھے کہ غیر مسلم کا مال اس کی خوشی سے بلا عذر ملا، یہ حلال ہے ۔         امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : ان ابابکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قبل الھجرۃ حین انزل اﷲ تعالٰی الم غلبت الروم قالت لہ قریش ترون ان الروم تغلب قال نعم فقال ھل لک ان نخاطرنا فخاطرھم فاخبرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذھب الیھم فزد فی الخطر ففعل و غلبت الروم فارسا فاخذ ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ خطرہ فاجازہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو القمار بعینہٖ بین ابی بکر و مشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرک ولان مالہم مباح انما یحرم علی المسلم اذا کان بطریق الغدر فاذا لم یاخذ غدراً فبای طریق یاخذہ حل بعد کونہ برضا بخلاف المستأمن منھم عندنا لان مالہ صار محظورا بالامان فاذا اخذہ بغیر الطریق المشروعۃ یکون غدرا الا انہ لایخفی انہ انما یقتضی حل مباشرۃ العقد اذا کانت الزیادۃ ینالھا المسلم و قدالتزم الا صحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا والقمار اذا حصلت الزیادۃ للمسلم نظرا الی العلۃ وان کان الاطلاق الجواب خلافہ”

( فتاوی رضویہ۔نسخہ دعوت اسلامی ایپ ١۴٠)

     اسی طرح صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فتاوی امجدیہ میں ایک مقام پر یہ تحریر فرمایا:” پس یہ بیمہ حقیقة ہر صورت میں کفار ہی کو نفع پہونچنے کے لیے ہے ۔ بعض نادر صورت میں بیمہ کرانے والے کا فائدہ ہے ۔ لہذا ایسا بیمہ شرعا ناجائزہے”

(فتاوی امجدیہ ج٣ ص٢٣٨)

اور ایک دوسرے مقام پر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:”           اگر کمپنیاں صرف کفار کی ہوں اور اس کے شرکا میں کوٸی مسلم نہ ہو اور بیمہ بھی اس طرح ہو کہ جسمیں مسلم کا فاٸدہ ہی فاٸدہ ہو اور یہ نہ ہو کہ بعض صورتوں میں فاٸدہ اور بعض صورتوں میں نقصان تو یہ بیمہ جاٸز ہے”

(فتاوی امجدیہ ج٣ص٢٣٨)

                  ایک اور سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:” زندگی کے بیمہ کی بہت سی صورتیں ہوتی ہیں:بعض میں نفع نقصان دونوں ہوتے ہیں اور یہ ناجائز ہے اور بعض ایسی صورت ہے کہ نقصان نہیں ہوتا ، یہ بیمہ اگر کفار سے ہو تو جو کچھ زیادہ ملے لینا جائز ہےورنہ نہیں۔“

(فتاوی امجدیہ، جلد3، صفحہ239 )

          صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے ان جوابات سے یہ شبہہ دور ہوگیا کہ بیمہ زندگی کو بعض فتاوی میں ناجائز اور بعض میں جائز کیوں کہا گیا۔حاصل جواب یہ ہے کہ کفار کی بیمہ کمپنی سے اگر بہر صورت مسلم کا نفع ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز ہے۔ مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے زیر اہتمام یکم ۴/٣/٢/ جمادی الاولی ١۴١۴ھ کو منعقد سیمینار میں بحث وتمحیص کے بعد بیمہ زندگی کے مسئلہ کا شرعی حکم متعین کرنے کا کام سہ رکنی فیصل بورڈ (١) حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری رحمہ اللہ القوی (٢) حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ اور (٣) ممتاز الفقہاء محدث کبیر حضرت علامہ محمد ضیاء المصطفی قادری مدظلہ العالی کے سپرد ہوا۔ اس فیصل بورڈ نے بیمہ زندگی کےبارے میں اپنے فیصلہ میں تحریر فرمایا:

درج ذیل لوگوں کے لیےبیمہ زندگی جائز ہے:

(الف) وہ ملازم جس کی تنخواہ سے پریمیم کی رقم مستاجر خود وضع کرکے جمع کرنے کا ضامن ہو۔ (ب) وہ صاحب مال،جس کو اپنی موجودہ حالت کے ساتھ تین سال کی مدت مقررہ یا اس کے بعد کی مدت موسعہ تک تین سال کی تمام قسطیں مسلسل جمع کرنے کا ظن غالب ملحق بہ یقین ہو، ایسا ظن غالب جو امام اہل سنت اعلی حضرت نے “الاحلی من السکر” کے مقدمہ سابعہ کے قسم اول کے طور پر بیان فرمایا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم۔ (٣)جس شخص کی موجودہ حالت مدت موسعہ تک تین سال کی پالیسی قائم رکھنے کے قابل نہیں اس کا ظن ملحق بہ یقین نہیں۔ ایسے شخص کو بیمہ پالیسی کی اجازت نہیں”۔

(بحوالہ مجلس شرعی کے فیصلے ص١٢٣، ١٢۴)

               خلاصہ یہ ہے کہ چوں کہ بیمہ زندگی(جیون بیمہ) کرنے والی کمپنی عام طور پر غیر مسلموں کی ہوتی ہے۔اس لیے اگر اس میں مسلمان کو اپنی موجودہ مالی حالت کے پیش نظر یہ ظن غالب ہو کہ پالیسی کی اتنی قسطیں جمع کرلےگا کہ جمع شدہ رقم سوخت ہونے یا اس سے کم رقم ملنے کا اندیشہ نہیں بلکہ جمع شدہ رقم سے زیادہ ہی ملنے کا ظن غالب ہو تو ایسے مسلمان کے لیے جیون بیمہ کرانے کی اجازت ہے ۔ورنہ اجازت نہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری : خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔ ٢٧/شعبان المعظم ١۴۴٢ھ

کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری

 

Kutubahu & Verified by:

  <table style="border-collapse: collapse; width: 100%; height: 33px;"> <tbody> <tr style="height: 33px;"> <td style="width: 100%; height: 33px;"> <h4>عنوان :کیا مسلمان اپنا جیون بیما یعنی لائف انشورنس کروا سکتا ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری</h4> </td> </tr> </tbody> </table> <span style="font-size: 14pt;">السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ</span> <span style="font-size: 14pt;">کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ کیا مسلمان اپنا جیون بیما یعنی لائف انشورنس کروا سکتا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عند اللہ مأجور ہوں اور ناچیز کو شکریہ کا موقع عطا فرمائیں.</span> <span style="font-size: 14pt;">المستفتی : *محمد عبد العلیم عطاری میاں پاٹن پوکھرا نیپال </span> <hr /> <span style="font-size: 14pt;">الجواب : </span> <span style="font-size: 14pt;">         امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنے بعض فتاوی میں بیمہ زندگی جائز وحلال نہ ہونے کا افادہ فرمایا۔ فتاوی رضویہ ج٧ ص ١١٣ پر ہے :یہ بالکل قمار ہے اور محض باطل، کہ کسی عقد شرعی کے تحت میں داخل نہیں ، ایسی جگہ عقود فاسدہ بغیر غدر کے جو اجازت دی گئی وہ اس صورت سے مقید ہے کہ ہر طرح ہی اپنانفع ہو اور یہ ایسی کمپنیوں میں کسی طرح متوقع نہیں لہٰذا اجازت نہیں کما حقق المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر" </span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(فتاوی رضویہ ج٧ ص ١١٣) </span></h4> <span style="font-size: 14pt;">        اور دوسرے مقام پر تحریر فرمایا:"یہ نرا قمار ہے اس میں ایک حد تک روپیہ ضائع بھی جاتا ہے ۔ اور وہ منافع موہوم جس کی امید پر دین اگر ملے بھی تو کمپنی بیوقوف نہیں کہ گھر سے ہزار ڈیڑھ ہزاردے بلکہ وہ وہی روپیہ ہوگا جو اوروں کا ضائع گیا، اور ان میں مسلمان بھی ہوں گے تو کوئی وجہ اس کی حلت کی نہیں قالﷲتعالٰی لاتاکلوااموالکم بینکم بالباطل" </span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(فتاوی رضویہ ج٧ ص١٢٠)</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">        اور بعض فتاوی میں مشروط اجازت دی۔ تحریر فرماتے ہیں:"جبکہ یہ بیمہ گورنمنٹ کرتی ہے اوران میں اپنے نقصان کی کوئی صورت نہیں توجائزہے کوئی حرج نہیں ۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس کے سبب اس کے ذمے کسی خلافِ شرع احتیاط کی پابندی نہ عائد ہوتی ہو جیسے روزوں یاحج کی ممانعت" </span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(فتاوی رضویہ۔نسخہ دعوت اسلامی ایپ ج٢٣ ص ١۴١)</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">           ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں:"جس کمپنی سے یہ معاملہ کیاجائے اگر اس میں کوئی مسلمان بھی شریک ہے تو مطلقاً حرام قطعی ہے کہ قمار ہے اور اس پر جو زیادت ہے ربا، اور دونوں حرام وسخت کبیرہ ہیں ۔ اور اگر اس میں کوئی مسلمان اصلاً نہیں تو یہاں جائزہے جبکہ اس کے سبب حفظ صحت وغیرہ میں کسی معصیت پرمجبورنہ کیاجاتاہو ۔ جواز اس لئے کہ اس میں نقصان کی شکل نہیں، اگر بیس برس تک زندہ رہا پورا روپیہ بلکہ مع زیادت ملے گا، اور پہلے مرگیا تو ورثہ کو اور زیادہ ملے گا مثلاً سال بھر بعد ہی مرگیا تو دئیے ۲۴۶ روپے چار آنے اور ملے ۵۰۰۰ روپے، ہاں یہ ضرور ہے کہ جوزائد ملے ربا سمجھ کر نہ لے بلکہ یہ سمجھے کہ غیر مسلم کا مال اس کی خوشی سے بلا عذر ملا، یہ حلال ہے ۔ </span> <span style="font-size: 14pt;">        امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : ان ابابکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ قبل الھجرۃ حین انزل اﷲ تعالٰی الم غلبت الروم قالت لہ قریش ترون ان الروم تغلب قال نعم فقال ھل لک ان نخاطرنا فخاطرھم فاخبرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذھب الیھم فزد فی الخطر ففعل و غلبت الروم فارسا فاخذ ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ خطرہ فاجازہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو القمار بعینہٖ بین ابی بکر و مشرکی مکۃ وکانت مکۃ دار شرک ولان مالہم مباح انما یحرم علی المسلم اذا کان بطریق الغدر فاذا لم یاخذ غدراً فبای طریق یاخذہ حل بعد کونہ برضا بخلاف المستأمن منھم عندنا لان مالہ صار محظورا بالامان فاذا اخذہ بغیر الطریق المشروعۃ یکون غدرا الا انہ لایخفی انہ انما یقتضی حل مباشرۃ العقد اذا کانت الزیادۃ ینالھا المسلم و قدالتزم الا صحاب فی الدرس ان مرادھم من حل الربا والقمار اذا حصلت الزیادۃ للمسلم نظرا الی العلۃ وان کان الاطلاق الجواب خلافہ"</span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">( فتاوی رضویہ۔نسخہ دعوت اسلامی ایپ ١۴٠)</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">     اسی طرح صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فتاوی امجدیہ میں ایک مقام پر یہ تحریر فرمایا:" پس یہ بیمہ حقیقة ہر صورت میں کفار ہی کو نفع پہونچنے کے لیے ہے ۔ بعض نادر صورت میں بیمہ کرانے والے کا فائدہ ہے ۔ لہذا ایسا بیمہ شرعا ناجائزہے"</span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(فتاوی امجدیہ ج٣ ص٢٣٨) </span></h4> <span style="font-size: 14pt;">اور ایک دوسرے مقام پر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:"</span> <span style="font-size: 14pt;">          اگر کمپنیاں صرف کفار کی ہوں اور اس کے شرکا میں کوٸی مسلم نہ ہو اور بیمہ بھی اس طرح ہو کہ جسمیں مسلم کا فاٸدہ ہی فاٸدہ ہو اور یہ نہ ہو کہ بعض صورتوں میں فاٸدہ اور بعض صورتوں میں نقصان تو یہ بیمہ جاٸز ہے"</span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(فتاوی امجدیہ ج٣ص٢٣٨)</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">                  ایک اور سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:" زندگی کے بیمہ کی بہت سی صورتیں ہوتی ہیں:بعض میں نفع نقصان دونوں ہوتے ہیں اور یہ ناجائز ہے اور بعض ایسی صورت ہے کہ نقصان نہیں ہوتا ، یہ بیمہ اگر کفار سے ہو تو جو کچھ زیادہ ملے لینا جائز ہےورنہ نہیں۔“</span> <h4 style="text-align: left;"> <span style="font-size: 14pt;">(فتاوی امجدیہ، جلد3، صفحہ239 )</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">          صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے ان جوابات سے یہ شبہہ دور ہوگیا کہ بیمہ زندگی کو بعض فتاوی میں ناجائز اور بعض میں جائز کیوں کہا گیا۔حاصل جواب یہ ہے کہ کفار کی بیمہ کمپنی سے اگر بہر صورت مسلم کا نفع ہو تو جائز ہے ورنہ ناجائز ہے۔</span> <span style="font-size: 14pt;">مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے زیر اہتمام یکم ۴/٣/٢/</span> <span style="font-size: 14pt;">جمادی الاولی ١۴١۴ھ کو منعقد سیمینار میں بحث وتمحیص کے بعد بیمہ زندگی کے مسئلہ کا شرعی حکم متعین کرنے کا کام سہ رکنی فیصل بورڈ</span> <span style="font-size: 14pt;">(١) حضور تاج الشریعہ علامہ مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری رحمہ اللہ القوی</span> <span style="font-size: 14pt;"> (٢) حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ اور</span> <span style="font-size: 14pt;">(٣) ممتاز الفقہاء محدث کبیر حضرت علامہ محمد ضیاء المصطفی قادری مدظلہ العالی کے سپرد ہوا۔ اس فیصل بورڈ نے بیمہ زندگی کےبارے میں اپنے فیصلہ میں تحریر فرمایا:</span> <h3> <span style="font-size: 14pt;">درج ذیل لوگوں کے لیےبیمہ زندگی جائز ہے:</span></h3> <span style="font-size: 14pt;">(الف) وہ ملازم جس کی تنخواہ سے پریمیم کی رقم مستاجر خود وضع کرکے جمع کرنے کا ضامن ہو۔</span> <span style="font-size: 14pt;">(ب) وہ صاحب مال،جس کو اپنی موجودہ حالت کے ساتھ تین سال کی مدت مقررہ یا اس کے بعد کی مدت موسعہ تک تین سال کی تمام قسطیں مسلسل جمع کرنے کا ظن غالب ملحق بہ یقین ہو، ایسا ظن غالب جو امام اہل سنت اعلی حضرت نے "الاحلی من السکر" کے مقدمہ سابعہ کے قسم اول کے طور پر بیان فرمایا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم۔</span> <span style="font-size: 14pt;">(٣)جس شخص کی موجودہ حالت مدت موسعہ تک تین سال کی پالیسی قائم رکھنے کے قابل نہیں اس کا ظن ملحق بہ یقین نہیں۔ ایسے شخص کو بیمہ پالیسی کی اجازت نہیں"۔ </span> <h4 style="text-align: left;"><span style="font-size: 14pt;">(بحوالہ مجلس شرعی کے فیصلے ص١٢٣، ١٢۴)</span></h4> <span style="font-size: 14pt;">               خلاصہ یہ ہے کہ چوں کہ بیمہ زندگی(جیون بیمہ) کرنے والی کمپنی عام طور پر غیر مسلموں کی ہوتی ہے۔اس لیے اگر اس میں مسلمان کو اپنی موجودہ مالی حالت کے پیش نظر یہ ظن غالب ہو کہ پالیسی کی اتنی قسطیں جمع کرلےگا کہ جمع شدہ رقم سوخت ہونے یا اس سے کم رقم ملنے کا اندیشہ نہیں بلکہ جمع شدہ رقم سے زیادہ ہی ملنے کا ظن غالب ہو تو ایسے مسلمان کے لیے جیون بیمہ کرانے کی اجازت ہے ۔ورنہ اجازت نہیں۔</span> <span style="font-size: 14pt;">واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔</span> <span style="font-size: 14pt;">کتبہ: محمد نظام الدین قادری : خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔</span> <span style="font-size: 14pt;">٢٧/شعبان المعظم ١۴۴٢ھ</span> <!--more--> <hr /> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=365" rel="bookmark">کیا ترکہ کے مکان کی مرمت کا خرچ تمام وارثوں کے ذمہ ہے؟ مفتی محمد نظام الدین قادری</a></h2>  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...