Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #1834 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.9K Views

کیا منبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا منبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا منبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا ممبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کر نا جائز ہے۔؟ قرآن وسنت کے حوالے سے رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل:- حافظ غلام مصطفی نقشبندی، سکنہ کالاکوٹ الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب منبر کے زینہ پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ودرست بلکہ انبیاء ومرسلین علیہم السلام کی سنت ہے-شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ در مختار میں ہے”التذكير على المنابر للوعظ والاتعاظ سنة الانبياء والمرسلين، ولریاسة ومال وقبول عامة من ضلالة اليهود والنصارى،اھ”( در مختار مع رد المحتار ج ۹ ص ۶۰۴/ دار عالم الکتب الریاض) فتاوی مصطفویہ میں ہے”منبر اینٹ چونے کا ہو یا لکڑی کا تخت ہو یا کرسی مقرر اس پر بیٹھتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے تاکہ پورے مجمع تک آواز پہنچے اور پورا مجمع اسے سنے اور تعظیم ذکر بھی اس سے حاصل ہوتی ہے-پہلے حضور علیہ الصلاة و السلام کے لیے منبر نہ تھا پھر منبر بنایا گیا- کرسی پر بیٹھنا منبر ومحراب کی توہین نہیں جیسے خود منبر جو مسجد کے لیے بنا ہوا ہے اس پر کھڑا ہونا یا بیٹھنا محراب کے احترام کے خلاف نہیں”( ص ۶۳۰/مکتبہ فقیہ ملت دہلی) واللہ تعالی أعلم بالصواب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Kutubahu & Verified by:

<h3>کیا منبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ہے؟</h3> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا ممبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کر نا جائز ہے۔؟ قرآن وسنت کے حوالے سے رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل:- حافظ غلام مصطفی نقشبندی، سکنہ کالاکوٹ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب</strong></span> منبر کے زینہ پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ودرست بلکہ انبیاء ومرسلین علیہم السلام کی سنت ہے-شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں ۔ در مختار میں ہے"التذكير على المنابر للوعظ والاتعاظ سنة الانبياء والمرسلين، ولریاسة ومال وقبول عامة من ضلالة اليهود والنصارى،اھ"( در مختار مع رد المحتار ج ۹ ص ۶۰۴/ دار عالم الکتب الریاض) فتاوی مصطفویہ میں ہے"منبر اینٹ چونے کا ہو یا لکڑی کا تخت ہو یا کرسی مقرر اس پر بیٹھتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے تاکہ پورے مجمع تک آواز پہنچے اور پورا مجمع اسے سنے اور تعظیم ذکر بھی اس سے حاصل ہوتی ہے-پہلے حضور علیہ الصلاة و السلام کے لیے منبر نہ تھا پھر منبر بنایا گیا- کرسی پر بیٹھنا منبر ومحراب کی توہین نہیں جیسے خود منبر جو مسجد کے لیے بنا ہوا ہے اس پر کھڑا ہونا یا بیٹھنا محراب کے احترام کے خلاف نہیں"( ص ۶۳۰/مکتبہ فقیہ ملت دہلی) واللہ تعالی أعلم بالصواب <strong>کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر</strong> <strong><span style="font-size: inherit;">الجواب صحیح :</span><span style="font-size: inherit;">محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی</span></strong>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...