Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1710
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
6.6K Views
کیا میوچول فنڈ پر زکوۃ ہے ؟ | کیا ایکویٹی شیئر پر زکوۃ ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا میوچول فنڈ پر زکوۃ ہے ؟ | کیا ایکویٹی شیئر پر زکوۃ ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا میوچول فنڈ پر زکوۃ ہے ؟ | کیا ایکویٹی شیئر پر زکوۃ ہے ؟
کیا میوچول فنڈ پر زکوۃ ہے ؟ کیا ایکویٹی شیئر پر زکوۃ ہے ؟ کیا گھر کے ڈپازٹ پر زکوۃ ہے ؟ کیا کسی کو ادھار پر دیے ہوئے پیسے پر زکوۃ ہے ؟ کیا بیٹی کے لئے جمع کی ہوئی سونے پر زکوۃ ہے ؟ سائل: محمد شاداب، وکرولی۔ الجواب (١): مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے میوچول فنڈ کا شرعی حکم جان لیاجائے۔ “مجلس شرعی کے فیصلے”(جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ) میں میوچول فنڈ کے بارے میں درج ذیل فیصلہ تحریر ہے: ” میوچول فنڈ کے کارکنان کو سرمایہ اس طور پر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بتائے ہوِئے طریقوں کے مطابق یہ سرمایہ لگائیں، پھر کارکنان وہ سرمایہ مساواتی حصص، ترجیحی حصص اور قرض تمسکات میں لگاتے ہیں، اس لحاظ سے پہلا معاملہ جو میوچول فنڈ کی انتظامیہ کے ساتھ ہوا وہ صرف توکیل ہے۔اس کے بعد فنڈ کے ذمہ داران نے کمپنیوں کے ساتھ مساواتی حصص (ایکیوٹی شیرز) کے جو معاملات کیے وہ شرکت عنان ہے اور ترجیحی حصص (پریفیرنس شیرز) اور قرض تمسکات کے جو معاملے کیے وہ عقد قرض ہیں۔ اگر کچھ کمپنیاں صرف مساواتی حصص میں سرمایہ کرتی ہیں، ترجیحی حصص اور قرض تمسکات کے سرمایے نہ دیتی ہیں، نہ لیتی ہیں اور مسلمان کو ظن غالب ہے کہ وہ نقصان سے دوچار نہ ہوگا، ایسی کمپنیوں کے کاروبار میں حصہ لے سکتے ہیں۔تاہم احتیاط یہ ہے کہ زیادہ دنوں اپنا سرمایہ اس میں نہ رکھیں۔ جب کمپنی نفع میں چل رہی ہو اسی وقت اپنا سرمایہ واپس لے لیں اور جو کمپنیاں ترجیحی حصص اور قرض تمسکات بھی جاری کرتی ہیں، یا جن کمپنیوں میں دونوں طرح کے سرمایے لگائے جاتے ہیں ان میں بھی روپیے جمع کرتے ہیں ان کمپنیوں کے میوچول فنڈ میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے کہ یہ دونوں سرمایے سود کی شرط پر دیے لیے جاتے ہیں۔ پہلی قسم کی کمپنیوں کے ذریعہ کاروبار بھی جائز اور اس کاروبار سے حاصل شدہ منافع بھی حلال اور پاک ہیں۔دوسری قسم کی کمپنیوں کے ذریعہ کاروبار ناجائز ہے، مسلمان اس میں حصہ نہ لیں اور جو شریک ہوگیے وہ اپنا سرمایہ جلد اس سے نکال کر الگ ہوجائیں۔اور اس کاروبار سے انھیں جو منافع حاصل ہوئے ہیں وہ دو طرح کے ہیں ایک وہ جو مساواتی حصص سے متعلق ہیں دوسرے وہ جو ترجیحی حصص اور قرض تمسکات سے متعلق ہیں ۔ پہلی قسم کے منافع وہ لے سکتے ہیں، البتہ دوسری قسم کے منافع ان کے لیے ناجائز ہیں، اس لیے انھیں لے کر فقراء و مساکین کو دے دیں. واللہ تعالی اعلم۔” ( مجلس شرعی کے فیصلے ص٣٣۵) اس فیصلے سے واضح ہوا کہ میوچول فنڈ میں فنڈ کے ذمہ داران رقم انوسٹ کرنے والے کے وکیل بن کر یا تو شرکت میں کاروبار کرتے ہیں یا قرض دے کر نفع اٹھاتے ہیں، پہلی صورت جائز اور دوسری صورت ناجائز ہے۔اور کسی مسلمان کا روپیہ شرکت کے کاروبار میں ہو یا بطورِ قرض ہو دونوں پر زکاة واجب ہے۔ہاں! قرض کی صورت میں زکاة واجب الادا اس وقت ہوگی جب نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو لیکن زکاة بہر حال سال بسال واجب ہوگی۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہر سالِ زکاة کی تکمیل پر زکاة ادا کی جائے۔ اب شرکت والی صورت میں سالِ زکاة کی تکمیل پر شیئر بازار میں موجودہ ویلیو پر زکاة دی جائے اور قرض والی صورت میں اصل انوسٹ کی گئی رقم پر زکاة دی جائے۔لیکن چوں کہ یہ صورت ناجائز ہے اس لیے رقم جلد از جلد رقم نکال کر اصل رقم کی زکاة اور باقی منافع خیرات کردے۔ حاصل یہ ہے کہ میوچول فنڈ کی رقم اگر صرف مساواتی حصص (ایکیوٹی شیئر)والی کمپنی میں ہے تو سالِ زکاة کی تکمیل پر جو اس کی مالیت ہے اس کے حساب سے زکاة ادا کرے اور اگر مساواتی حصص کے ساتھ ترجیحی حصص (پریفیرنس شیئر) یا قرض تمسکات (بانڈز)والی کمپنیوں میں بھی ہے یا صرف ترجیحی حصص یا صرف بانڈز یا دونوں طرح کے حصص کی کمپنیوں میں ہے تو اصل جمع کردہ رقم اور مساواتی حصص کے نفع پر زکاة ہے۔اب چوں کہ غیر مساواتی حصص والی صورتیں ناجائز ہیں اس لیے ان صورتوں میں جلد از جلد رقم نکال لینا اور اس سے حاصل ہونے والے غیر مساواتی حصص کے منافع خیرات کردینا واجب ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٢) “مجلس شرعی کے فیصلے” سے جو مذکورہ بالا اقتباس درج کیا گیا اس سے واضح ہے کہ ایکویٹی شیئر کا مطلب مساواتی حصص کے ذریعہ شرکت میں کام کرناہے۔سال زکاة مکمل ہونے پر اس میں لگائی گئی رقم کی موجودہ مالیت کی زکاة ادا کرے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٣) گھر کا ڈپوزٹ کرایہ دار کی طرف سے مالکِ مکان پر قرض ہے جس میں سال بسال زکاة واجب ہوگی، اس لیے آسان اور بہتر یہی ہے کہ سال بسال اس کی زکاة نکالتا رہے، لیکن زکاة واجب الادا اس وقت ہوگی جب نصاب کا پانچواں حصہ یا اس سے زائد یا مکمل وصول ہوجائے۔لیکن اگر یہ وصولی پانچ سال بعد ہوئی تو ہر سال کی زکاة واجب ہوگی، لیکن گزشتہ سالوں کی ادا شدہ زکاة کی مقدار کمی ہوتی رہے گی۔ مثال کے طور پر کسی نے دو لاکھ ڈپوزٹ جمع کیا اور پانچ سالِ زکاة گزرنے کے بعد اس نے کرایہ کا مکان خالی کرکے ڈپوزٹ واپس لیا تو پہلے سال کی زکاة پورے دو لاکھ پر پانچ ہزار ہوگی۔دوسرے سال کی زکاة ایک لاکھ پنچانوے ہزار پر اڑتالیس سو پچہتر ہوگی۔ تیسرے سال کی زکاة ایک لاکھ نوے ہزار ایک سو پچیس پر چار ہزار سات سو ترپن روپیے ہوگی۔ وعلی ہذا القیاس۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (۴) اس کا جواب بھی سوال نمبر (٣) کے جواب کی طرح ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم (۵) زیورات کی مالک اگر بیٹی ہے، مثلاً: باپ نےاس کو مالک بنا کر قبضہ دے دیا ہے اور وہ عاقلہ بالغہ ہے تو ان زیورات کی زکات اسی بیٹی پر واجب ہے بشرطے کہ وہ تنہا یا دوسرے اموالِ زکاة کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہونچ جائے۔ اور اگر لڑکی کو ابھی مالک نہیں بنایا ہے تو ان زیورات کی زکاة باپ پر واجب ہے۔ اور اگر نابالغہ لڑکی کے لیے خریدا ہے تو کسی پر زکاة واجب نہیں ہے، لڑکی پر اس وجہ سے واجب نہیں کہ نابالغہ ہے اور باپ پر اس وجہ سے واجب نہیں کہ وہ مالک نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا میوچول فنڈ پر زکوۃ ہے ؟ | کیا ایکویٹی شیئر پر زکوۃ ہے ؟</h2> کیا میوچول فنڈ پر زکوۃ ہے ؟ کیا ایکویٹی شیئر پر زکوۃ ہے ؟ کیا گھر کے ڈپازٹ پر زکوۃ ہے ؟ کیا کسی کو ادھار پر دیے ہوئے پیسے پر زکوۃ ہے ؟ کیا بیٹی کے لئے جمع کی ہوئی سونے پر زکوۃ ہے ؟ سائل: محمد شاداب، وکرولی۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب</strong></span> (١): مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے میوچول فنڈ کا شرعی حکم جان لیاجائے۔ "مجلس شرعی کے فیصلے"(جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ) میں میوچول فنڈ کے بارے میں درج ذیل فیصلہ تحریر ہے: " میوچول فنڈ کے کارکنان کو سرمایہ اس طور پر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بتائے ہوِئے طریقوں کے مطابق یہ سرمایہ لگائیں، پھر کارکنان وہ سرمایہ مساواتی حصص، ترجیحی حصص اور قرض تمسکات میں لگاتے ہیں، اس لحاظ سے پہلا معاملہ جو میوچول فنڈ کی انتظامیہ کے ساتھ ہوا وہ صرف توکیل ہے۔اس کے بعد فنڈ کے ذمہ داران نے کمپنیوں کے ساتھ مساواتی حصص (ایکیوٹی شیرز) کے جو معاملات کیے وہ شرکت عنان ہے اور ترجیحی حصص (پریفیرنس شیرز) اور قرض تمسکات کے جو معاملے کیے وہ عقد قرض ہیں۔ اگر کچھ کمپنیاں صرف مساواتی حصص میں سرمایہ کرتی ہیں، ترجیحی حصص اور قرض تمسکات کے سرمایے نہ دیتی ہیں، نہ لیتی ہیں اور مسلمان کو ظن غالب ہے کہ وہ نقصان سے دوچار نہ ہوگا، ایسی کمپنیوں کے کاروبار میں حصہ لے سکتے ہیں۔تاہم احتیاط یہ ہے کہ زیادہ دنوں اپنا سرمایہ اس میں نہ رکھیں۔ جب کمپنی نفع میں چل رہی ہو اسی وقت اپنا سرمایہ واپس لے لیں اور جو کمپنیاں ترجیحی حصص اور قرض تمسکات بھی جاری کرتی ہیں، یا جن کمپنیوں میں دونوں طرح کے سرمایے لگائے جاتے ہیں ان میں بھی روپیے جمع کرتے ہیں ان کمپنیوں کے میوچول فنڈ میں حصہ لینا ناجائز وگناہ ہے کہ یہ دونوں سرمایے سود کی شرط پر دیے لیے جاتے ہیں۔ پہلی قسم کی کمپنیوں کے ذریعہ کاروبار بھی جائز اور اس کاروبار سے حاصل شدہ منافع بھی حلال اور پاک ہیں۔دوسری قسم کی کمپنیوں کے ذریعہ کاروبار ناجائز ہے، مسلمان اس میں حصہ نہ لیں اور جو شریک ہوگیے وہ اپنا سرمایہ جلد اس سے نکال کر الگ ہوجائیں۔اور اس کاروبار سے انھیں جو منافع حاصل ہوئے ہیں وہ دو طرح کے ہیں ایک وہ جو مساواتی حصص سے متعلق ہیں دوسرے وہ جو ترجیحی حصص اور قرض تمسکات سے متعلق ہیں ۔ پہلی قسم کے منافع وہ لے سکتے ہیں، البتہ دوسری قسم کے منافع ان کے لیے ناجائز ہیں، اس لیے انھیں لے کر فقراء و مساکین کو دے دیں. واللہ تعالی اعلم۔" ( مجلس شرعی کے فیصلے ص٣٣۵) اس فیصلے سے واضح ہوا کہ میوچول فنڈ میں فنڈ کے ذمہ داران رقم انوسٹ کرنے والے کے وکیل بن کر یا تو شرکت میں کاروبار کرتے ہیں یا قرض دے کر نفع اٹھاتے ہیں، پہلی صورت جائز اور دوسری صورت ناجائز ہے۔اور کسی مسلمان کا روپیہ شرکت کے کاروبار میں ہو یا بطورِ قرض ہو دونوں پر زکاة واجب ہے۔ہاں! قرض کی صورت میں زکاة واجب الادا اس وقت ہوگی جب نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو لیکن زکاة بہر حال سال بسال واجب ہوگی۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہر سالِ زکاة کی تکمیل پر زکاة ادا کی جائے۔ اب شرکت والی صورت میں سالِ زکاة کی تکمیل پر شیئر بازار میں موجودہ ویلیو پر زکاة دی جائے اور قرض والی صورت میں اصل انوسٹ کی گئی رقم پر زکاة دی جائے۔لیکن چوں کہ یہ صورت ناجائز ہے اس لیے رقم جلد از جلد رقم نکال کر اصل رقم کی زکاة اور باقی منافع خیرات کردے۔ حاصل یہ ہے کہ میوچول فنڈ کی رقم اگر صرف مساواتی حصص (ایکیوٹی شیئر)والی کمپنی میں ہے تو سالِ زکاة کی تکمیل پر جو اس کی مالیت ہے اس کے حساب سے زکاة ادا کرے اور اگر مساواتی حصص کے ساتھ ترجیحی حصص (پریفیرنس شیئر) یا قرض تمسکات (بانڈز)والی کمپنیوں میں بھی ہے یا صرف ترجیحی حصص یا صرف بانڈز یا دونوں طرح کے حصص کی کمپنیوں میں ہے تو اصل جمع کردہ رقم اور مساواتی حصص کے نفع پر زکاة ہے۔اب چوں کہ غیر مساواتی حصص والی صورتیں ناجائز ہیں اس لیے ان صورتوں میں جلد از جلد رقم نکال لینا اور اس سے حاصل ہونے والے غیر مساواتی حصص کے منافع خیرات کردینا واجب ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٢) "مجلس شرعی کے فیصلے" سے جو مذکورہ بالا اقتباس درج کیا گیا اس سے واضح ہے کہ ایکویٹی شیئر کا مطلب مساواتی حصص کے ذریعہ شرکت میں کام کرناہے۔سال زکاة مکمل ہونے پر اس میں لگائی گئی رقم کی موجودہ مالیت کی زکاة ادا کرے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (٣) گھر کا ڈپوزٹ کرایہ دار کی طرف سے مالکِ مکان پر قرض ہے جس میں سال بسال زکاة واجب ہوگی، اس لیے آسان اور بہتر یہی ہے کہ سال بسال اس کی زکاة نکالتا رہے، لیکن زکاة واجب الادا اس وقت ہوگی جب نصاب کا پانچواں حصہ یا اس سے زائد یا مکمل وصول ہوجائے۔لیکن اگر یہ وصولی پانچ سال بعد ہوئی تو ہر سال کی زکاة واجب ہوگی، لیکن گزشتہ سالوں کی ادا شدہ زکاة کی مقدار کمی ہوتی رہے گی۔ مثال کے طور پر کسی نے دو لاکھ ڈپوزٹ جمع کیا اور پانچ سالِ زکاة گزرنے کے بعد اس نے کرایہ کا مکان خالی کرکے ڈپوزٹ واپس لیا تو پہلے سال کی زکاة پورے دو لاکھ پر پانچ ہزار ہوگی۔دوسرے سال کی زکاة ایک لاکھ پنچانوے ہزار پر اڑتالیس سو پچہتر ہوگی۔ تیسرے سال کی زکاة ایک لاکھ نوے ہزار ایک سو پچیس پر چار ہزار سات سو ترپن روپیے ہوگی۔ وعلی ہذا القیاس۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (۴) اس کا جواب بھی سوال نمبر (٣) کے جواب کی طرح ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم (۵) زیورات کی مالک اگر بیٹی ہے، مثلاً: باپ نےاس کو مالک بنا کر قبضہ دے دیا ہے اور وہ عاقلہ بالغہ ہے تو ان زیورات کی زکات اسی بیٹی پر واجب ہے بشرطے کہ وہ تنہا یا دوسرے اموالِ زکاة کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار کو پہونچ جائے۔ اور اگر لڑکی کو ابھی مالک نہیں بنایا ہے تو ان زیورات کی زکاة باپ پر واجب ہے۔ اور اگر نابالغہ لڑکی کے لیے خریدا ہے تو کسی پر زکاة واجب نہیں ہے، لڑکی پر اس وجہ سے واجب نہیں کہ نابالغہ ہے اور باپ پر اس وجہ سے واجب نہیں کہ وہ مالک نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۵/رمضان المبارک</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...