Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1312
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.1K Views
کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال:کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ آٹھ یا دس یا بارہ یا گیارہ یا تیرہ سال کے لڑکے تکبیر پڑھ سکتے ہیں جبکہ وہ دوسرے لوگ ڈاڑھی والے موجود ہوتے ہیں پھر بھی یہ لڑکے ہی پڑھتے ہیں کیایہ درست ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ المستفتی: جمال احمد قادری ممبئ ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ سمجھ دار نابالغ لڑکے کا اقامت اور اذان کہنا اور موذن مقرر کرنا بھی درست ہے۔ہاں! بالغ ہونا افضل ہے اور ناسمجھ بچے کی اذان کا تو شرعاً اعتبار ہی نہیں ہے ۔ لہذا اگر ناسمجھ بچے نے اذان کہی دوبارہ اذان دی جائے اور ناسمجھ بچہ سے اقامت نہ کہلوائی جائے، لیکن اگر ناسمجھ بچے نے اقامت کہہ دی تو دوبارہ اقامت نہیں کہی جائے گی۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “أَذَانُ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ وَلَكِنْ أَذَانُ الْبَالِغِ أَفْضَلُ وَأَذَانُ الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ لَا يَجُوزُ وَيُعَادُ وَكَذَا الْمَجْنُونُ. هَكَذَا فِي النِّهَايَةِ.” (فتاوی عالم گیری ج١ ص۵۴) علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “(وَيَجُوزُ) بِلَا كَرَاهَةٍ (أَذَانُ صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ )” (در مختار ج٢ ص۵٩ ) اسی میں ہے: “(وَكَذَا) يُعَادُ (أَذَانُ امْرَأَةٍ وَمَجْنُونٍ وَمَعْتُوهٍ وَسَكْرَانِ وَصَبِيٍّ لَا يَعْقِلُ) لَا إقَامَتُهُمْ لِمَا مَرَّ”۔ (ایضا ص٦١ ) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “(قَوْلُهُ: صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ) الْمُرَادُ بِهِ الْعَاقِلُ وَإِنْ لَمْ يُرَاهِقْ كَمَا هُوَ ظَاهِرُ الْبَحْرِ وَغَيْرِهِ، وَقِيلَ يُكْرَهُ لَكِنَّهُ خِلَافُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ كَمَا فِي الْإِمْدَادِ وَغَيْرِهِ، وَعَلَى هَذَا يَصِحُّ تَقْرِيرُهُ فِي وَظِيفَةِ الْأَذَانِ بَحْرٌ.” (رد المحتار مع الدر ج٢ص۵٩) البتہ نابالغ اگرچہ سمجھدار ہو بالغوں کا امام نہیں ہوسکتا، ہاں سمجھ والا نابالغ لڑکا نابالغوں کا امام بھی ہوسکتا ہے۔ حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “نابالغوں کے امام کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ، بلکہ نابالغ بھی نابالغوں کی اِمامت کر سکتا ہے، اگر سمجھ والا ہو۔” (بہار شریعت ح ٣ ص۵٦۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٢٩/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٣١/جنوری ٢٠٢٢ء
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا نابالغ لڑکا اقامت کہہ سکتا ہے؟</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال:کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ آٹھ یا دس یا بارہ یا گیارہ یا تیرہ سال کے لڑکے تکبیر پڑھ سکتے ہیں جبکہ وہ دوسرے لوگ ڈاڑھی والے موجود ہوتے ہیں پھر بھی یہ لڑکے ہی پڑھتے ہیں کیایہ درست ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔ المستفتی: جمال احمد قادری ممبئ ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــ</strong></span> سمجھ دار نابالغ لڑکے کا اقامت اور اذان کہنا اور موذن مقرر کرنا بھی درست ہے۔ہاں! بالغ ہونا افضل ہے اور ناسمجھ بچے کی اذان کا تو شرعاً اعتبار ہی نہیں ہے ۔ لہذا اگر ناسمجھ بچے نے اذان کہی دوبارہ اذان دی جائے اور ناسمجھ بچہ سے اقامت نہ کہلوائی جائے، لیکن اگر ناسمجھ بچے نے اقامت کہہ دی تو دوبارہ اقامت نہیں کہی جائے گی۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"أَذَانُ الصَّبِيِّ الْعَاقِلِ صَحِيحٌ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَةٍ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ وَلَكِنْ أَذَانُ الْبَالِغِ أَفْضَلُ وَأَذَانُ الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ لَا يَجُوزُ وَيُعَادُ وَكَذَا الْمَجْنُونُ. هَكَذَا فِي النِّهَايَةِ."</strong></span> (فتاوی عالم گیری ج١ ص۵۴) علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"(وَيَجُوزُ) بِلَا كَرَاهَةٍ (أَذَانُ صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ )"</strong></span> (در مختار ج٢ ص۵٩ ) اسی میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"(وَكَذَا) يُعَادُ (أَذَانُ امْرَأَةٍ وَمَجْنُونٍ وَمَعْتُوهٍ وَسَكْرَانِ وَصَبِيٍّ لَا يَعْقِلُ) لَا إقَامَتُهُمْ لِمَا مَرَّ"۔</strong></span> (ایضا ص٦١ ) علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><strong>"(قَوْلُهُ: صَبِيٍّ مُرَاهِقٍ) الْمُرَادُ بِهِ الْعَاقِلُ وَإِنْ لَمْ يُرَاهِقْ كَمَا هُوَ ظَاهِرُ الْبَحْرِ وَغَيْرِهِ، وَقِيلَ يُكْرَهُ لَكِنَّهُ خِلَافُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ كَمَا فِي الْإِمْدَادِ وَغَيْرِهِ، وَعَلَى هَذَا يَصِحُّ تَقْرِيرُهُ فِي وَظِيفَةِ الْأَذَانِ بَحْرٌ."</strong></span> (رد المحتار مع الدر ج٢ص۵٩) البتہ نابالغ اگرچہ سمجھدار ہو بالغوں کا امام نہیں ہوسکتا، ہاں سمجھ والا نابالغ لڑکا نابالغوں کا امام بھی ہوسکتا ہے۔ حضور صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "نابالغوں کے امام کے لیے بالغ ہونا شرط نہیں ، بلکہ نابالغ بھی نابالغوں کی اِمامت کر سکتا ہے، اگر سمجھ والا ہو۔" (بہار شریعت ح ٣ ص۵٦۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>٢٩/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//٣١/جنوری ٢٠٢٢ء</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...