Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #1314
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.3K Views
کیا ناپاک کپڑا ماء مستعمل سے پاک ہو جاتا ہے؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
کیا ناپاک کپڑا ماء مستعمل سے پاک ہو جاتا ہے؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
کیا ناپاک کپڑا ماء مستعمل سے پاک ہو جاتا ہے؟
سوال : زید کہتا ہے کہ ماء مستعمل سے ناپاک کپڑا پاک کیا جاسکتا ہے اور بکر کہتا ہے کہ مائے مستعمل سے کپڑے کی صرف وہ نجاست دور کی جاسکتی ہے جو سوکھنے پر نظر آتی ہے. تو ان دونوں میں سے کس کا قول صحیح ہے؟ بینوا و توجروا. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ زید کا قول صحیح ہے بے شک ماء مستعمل سے ہر ناپاک کپڑا پاک کیا جاسکتا ہے خواہ کیسی بھی نجاست لگی ہو نہ کہ صرف وہ نجاست دور کی جاسکتی ہے جو سوکھنے پر نظر آئے. ہاں اس سے صرف وضو اور غسل نہیں کیا جا سکتا. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 264 کے حاشیہ اور بہار شریعت جلد دوم صفحہ 102 پر ہے. اور تنویر الابصار مع در مختار علی فوق رد المحتار جلد اول صفحہ 309 پر ہے. ” یجوز دفع نجاسۃ حقیقیۃ عن محلھا بماء ولو مستعملا ” ١ھ. اور فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ٤١ پر ہے ” یجوز تطھیر النجاسۃ بالماء وبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ ومن المائعات الماء المستعمل وعلیہ الفتوی ١ھ ملخصا. اور بکر کا قول صحیح نہیں وہ توبہ کرے کہ اس نے بے علم فتوی دیا. حدیث شریف میں ہے ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والارض ” یعنی جس نے بے علم فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے ملائکہ لعنت کرتے ہیں( کنز العمال جلد 10 صفحہ 193) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی عبد المقتدر نظامی مصبـــــــــــاحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
Kutubahu & Verified by:
<h2>کیا ناپاک کپڑا ماء مستعمل سے پاک ہو جاتا ہے؟</h2> سوال : زید کہتا ہے کہ ماء مستعمل سے ناپاک کپڑا پاک کیا جاسکتا ہے اور بکر کہتا ہے کہ مائے مستعمل سے کپڑے کی صرف وہ نجاست دور کی جاسکتی ہے جو سوکھنے پر نظر آتی ہے. تو ان دونوں میں سے کس کا قول صحیح ہے؟ بینوا و توجروا. <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> زید کا قول صحیح ہے بے شک ماء مستعمل سے ہر ناپاک کپڑا پاک کیا جاسکتا ہے خواہ کیسی بھی نجاست لگی ہو نہ کہ صرف وہ نجاست دور کی جاسکتی ہے جو سوکھنے پر نظر آئے. ہاں اس سے صرف وضو اور غسل نہیں کیا جا سکتا. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 264 کے حاشیہ اور بہار شریعت جلد دوم صفحہ 102 پر ہے. اور تنویر الابصار مع در مختار علی فوق رد المحتار جلد اول صفحہ 309 پر ہے. <span style="color: #ff0000;"><strong>'' یجوز دفع نجاسۃ حقیقیۃ عن محلھا بماء ولو مستعملا '' ١ھ.</strong></span> اور فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ٤١ پر ہے <span style="color: #ff0000;"><strong>'' یجوز تطھیر النجاسۃ بالماء وبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ ومن المائعات الماء المستعمل وعلیہ الفتوی ١ھ ملخصا.</strong></span> اور بکر کا قول صحیح نہیں وہ توبہ کرے کہ اس نے بے علم فتوی دیا. حدیث شریف میں ہے '' من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والارض '' یعنی جس نے بے علم فتوی دیا اس پر آسمان و زمین کے ملائکہ لعنت کرتے ہیں( کنز العمال جلد 10 صفحہ 193) واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی عبد المقتدر نظامی مصبـــــــــــاحی</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...