Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #714 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.4K Views

کیا ناپاک کپڑ ے کو تین مرتبہ دھونا اور نچوڑنا ضروری ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا ناپاک کپڑ ے کو تین مرتبہ دھونا اور نچوڑنا ضروری ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا ناپاک کپڑ ے کو تین مرتبہ دھونا اور نچوڑنا ضروری ہے ؟

سوال : کیا موجودہ دور میں صابن اور بہترین قسم کے کپڑے دھونے والے آلات ہونے کے باوجود بھی تین مرتبہ بقوت نچوڑنا کپڑے کی پاکی کے لیے ضروری ہے، یا ایک مرتبہ دھونے اور بلا نچوڑے کپڑا پاک صاف ہوجائے گا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو نجاست دکھتی نہیں ہے اس کے بارے میں ہمارے علماے کرام کا فتویٰ اب تک یہی ہے کہ اسے دھو دھو کر تین مرتبہ اس طرح نچوڑیں کہ قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں ‌۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں نجاست کے دور ہونے کا علم حاصل ہونا دشوار ہے۔ کیوں کہ نجاست دکھتی نہیں ہے تو اطمینان کیسے حاصل کیا جائے کہ وہ کپڑے سے دور ہوچکی۔ صابن کی ایجاد فقہاے کرام کے دور میں ہوچکی تھی پھر بھی انھوں نے تین بار اچھی طرح نچوڑنے کی شرط رکھی وہ اسی لیے کہ جب حقیقت کا علم دشوار ہو تو اس کے سبب ظاہر کو ہی اس کے قائم مقام مان لیا جاتاہے اور تین بار میں خوب اطمینان اور ظن غالب حاصل ہوجاتا ہے کہ نجاست دور ہوچکی پھر یہ اس کا سبب ظاہر بھی ہے کہ جس سے یہ سمجھا جاتاہے کہ نجاست دور ہوچکی ، اگر یہ سبب ظاہر نہ ہو تو حقیقت کا علم نہ ہوسکے گا۔ اس لیے آج کے دور میں بھی وہ شرط باقی ہے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر 

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا ناپاک کپڑ ے کو تین مرتبہ دھونا اور نچوڑنا ضروری ہے ؟</h2> سوال : کیا موجودہ دور میں صابن اور بہترین قسم کے کپڑے دھونے والے آلات ہونے کے باوجود بھی تین مرتبہ بقوت نچوڑنا کپڑے کی پاکی کے لیے ضروری ہے، یا ایک مرتبہ دھونے اور بلا نچوڑے کپڑا پاک صاف ہوجائے گا؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> جو نجاست دکھتی نہیں ہے اس کے بارے میں ہمارے علماے کرام کا فتویٰ اب تک یہی ہے کہ اسے دھو دھو کر تین مرتبہ اس طرح نچوڑیں کہ قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں ‌۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں نجاست کے دور ہونے کا علم حاصل ہونا دشوار ہے۔ کیوں کہ نجاست دکھتی نہیں ہے تو اطمینان کیسے حاصل کیا جائے کہ وہ کپڑے سے دور ہوچکی۔ صابن کی ایجاد فقہاے کرام کے دور میں ہوچکی تھی پھر بھی انھوں نے تین بار اچھی طرح نچوڑنے کی شرط رکھی وہ اسی لیے کہ جب حقیقت کا علم دشوار ہو تو اس کے سبب ظاہر کو ہی اس کے قائم مقام مان لیا جاتاہے اور تین بار میں خوب اطمینان اور ظن غالب حاصل ہوجاتا ہے کہ نجاست دور ہوچکی پھر یہ اس کا سبب ظاہر بھی ہے کہ جس سے یہ سمجھا جاتاہے کہ نجاست دور ہوچکی ، اگر یہ سبب ظاہر نہ ہو تو حقیقت کا علم نہ ہوسکے گا۔ اس لیے آج کے دور میں بھی وہ شرط باقی ہے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...